سوات میں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی کارروائی،کئی کلوگرام مضرصحت اور باسی اشیاء برآمد کرکے تلف کردیں

اتوار نومبر 20:50

ملاکنڈ۔18 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) سوات میں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سیدو شریف اور منگورہ بازار میں اشیائے خوراک کی دکانوں اور کینٹینوں کے معائنے کے دوران گلی سڑی سبزیوں اور گوشت سمیت کئی کلوگرام مضرصحت اور باسی اشیاء برآمد کرکے تلف کرنے کے علاوہ مالکان کو بھاری جرمانے کئے اور بعض دکانوں کو سیل بھی کیا جبکہ معمولی لغزش پر بعض دکانداروں کو بہتری لانے کی شرط پر سخت تنبیہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔

اتھارٹی کے بعض عوامی شکایات کے پیش نظر ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اسد قاسم کی ہدایت پر افسران نے مختلف واقعات میں بعض تادیبی اقدامات کرنے پڑے۔

(جاری ہے)

سیدو سنٹرل ہسپتال کے کینٹین ٹھیکیدار اور بائی پاس روڈ منگورہ کے ریلیکس ہوٹل مالکان سے صاف و صحتمند خوراک کا معیار برقرار نہ رکھنے اور باسی سبزی استعمال کرنے کی پاداش میں بھاری جرمانے وصول کئے گئے‘ منگورہ شہر میں ہی عوامی شکایات کے تحت ہوٹلوں کے باورچی خانوں پر خصوصی چھاپوں کے دوران جی قربان ریسٹورنٹ کے کچن میں 120کلو باسی گوشت، 40کلو گلے سڑے ٹماٹر اور 25کلو مضر صحت زیتون تیل برآمد کرکے ضائع کیا گیا مشہور چاچا پلائو فروش کو بھی پلائو میں اجینوموتو کے استعمال پر جرمانہ کیا گیا اور اسے آئندہ چاول میں یہ مضر صحت چیز استعمال نہ کرنے بصورت دیگر مزید سخت کاروائی کی تحریری وارننگ دی گئی اسی طرح مٹہ بازار میں ایک قصائی کی دکان سے 250 کلو سے زائد باسی گوشت برآمد کرکے ضائع کرنے کے علاوہ جرمانہ بھی کیا گیا درایں اثناء اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اسد قاسم نے عوام کی اگاہی کیلئے واضح کیا ہے کہ مضر صحت اشیاء کی شکایت کیلئے ’’فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی‘‘ کے نام سے موبائل ایپ بھی متعارف کرادی گئی ہے شہری اس سہولت کے ذریعے مضر صحت اشیاء کی فروخت کے حوالے سے اپنی شکایات موبائل کے ذریعے فوڈ اتھارٹی کے نوٹس میں لاسکتے ہیں جن پر فوری کاروائی ہوگی اور شکایت کنندگان کو نتائج سے بھی اگاہ کیا جائے گا اس ایپ کو باآسانی اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے ایپ میں شکایت کنندہ کا نام کسی کے سامنے ظاہر نہیں ہوگا شکایت درج ہونے کے بعد اسے چیک کیا جائے گا جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سوات شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments