ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم کی زیر صدارت پرا ئز کنٹرول بارے اجلاس

حکومت سندھ، ضلع انتظامیہ کی جانب سے عوام کو رلیف فراہم کرنے کیلئے روزمرہ کی خورد و نوش کی اشیا کو مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت

بدھ مارچ 13:30

تھرپارکر/مٹھی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 مارچ2020ء) ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم کی صدارت میں ان کے دفتر میں ضلع پرا ئز کنٹرول کمیٹی، مارکیٹ کمیٹی، مرچنٹ اور بیورو آف سپلائی کے نمائندگان سے اجلاس منعقد ہوا روز مرہ خورد نوش کی اشیا مقرر کردہ نرخ پر فروخت کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم نے ضلع پرائیز کنٹرول کمیٹی، مارکیٹ کمیٹی،مرچنٹ اور بیورو آف سپلائی کے نمائندگان کو ہدایت کی ہے کہ حکومت سندھ، ضلع انتظامیہ کی جانب سے عوام کو رلیف فراہم کرنے کیلئے روزمرہ کی خورد و نوش کی اشیا کو مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کرنے کو یقینی بنایا جائے اور کہا کہ ذخیرہ اندوزی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائیگی خلاف ورزی کرنے والے تاجروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔

(جاری ہے)

جس پر مارکیٹ کمیٹی کے نمائندگان نے یقین دلایا کہ مشکل کی اس گھڑی میں تاجر برادری روز مرہ خورد و نوش استعمال کی اشیا کی کمی نہیں کی جائیگی اور مقرر کردہ نرخوں پر ہی فروخت کیا جائیگا۔ انہوں نے تمام متعلقہ تحصیلوں کے اسٹنٹ کمشنرز، مختیارکاروں اور اسٹنٹ ڈائریکٹر بیوروآف سپلائی کو ہدایت کی کہ تاجر برادری کو پرائز لسٹ فراہم کی جائے جس کے بعد دوکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ روز مرہ خورد و نوش کی اشیا کے ریٹ لسٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرغی کا گوشت روزانہ اخبارات میں شایع ہونے والے نرخ کے مطابق فروخت کیا جائے، پھلوں، سبزیوں کو روزانہ مقرر کردہ نرخ کے مطابق فروخت کو یقینی بنایا جائے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر تھرپارکر چکی اور مل مالکان کو گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کا پابند ہوگا، متعلقہ تحصیلوں کے اسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ کا دورہ کرکے نرخ،اور معیار چیک کریں گے۔انہوں نے مارکیٹ کمیٹی کے نمائندگان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ روز مرہ خورد و نوش اشیا میں منافعہ کمانے اور غیر معیاری اشیا کے فروخت کرنے پر قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :

تھرپارکر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments