2022ء فیفاورلڈکپ کی میزبانی کے حقوق کا حصول،قطر نے فیفا کی جاسوسی کیلئے سابق سی آئی اے افسر کی خدمات حاصل کیں

قطر نے سابق سی آئی اے افسر کیون چالکر کی خدمات دوسرے مسابقتی ممالک کی بولیوں کی جاسوسی کے لیے حاصل کی تھیں

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعرات 25 نومبر 2021 14:20

2022ء فیفاورلڈکپ کی میزبانی کے حقوق کا حصول،قطر نے فیفا کی جاسوسی کیلئے سابق سی آئی اے افسر کی خدمات حاصل کیں
مسقط (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 25 نومبر 2021ء ) 2010ء میں قطر کو فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی ملنے کے بعد سے یہ معاملہ بہت سارے تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، فیفا کی صفوں میں بدعنوانی اور رشوت ستانی دنیا میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ میں سامنے آنے والے چند تنازعات میں سے ایک ہیں۔ 2022ء کے فیفا ورلڈ کپ کو صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے اور اب ایک نیا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق، قطر نے ٹورنامنٹ کی میزبانی کے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے فیفا کی جاسوسی کے لیے سابق سی آئی اے (سینٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کے افسر کی خدمات حاصل کیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطر نے سی آئی اے کے سابق افسر کیون چالکر کی خدمات دوسرے مسابقتی ممالک کی بولیوں کی جاسوسی کے لیے حاصل کی تھیں اور جیوری نے مقابلے کے لیے میزبانوں کا انتخاب کیا تھا۔

(جاری ہے)

چاکر نے میگا ایونٹ کی میزبانی کے حقوق ملنے کے بعد بھی قطر کے لیے کام جاری رکھا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ چاکر نے قطر کو میزبانی کے حقوق ملنے اور ان پر نظر رکھنے کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی تنقید کا اندازہ لگایا۔ چاکر نے مختلف تکنیکوں کا استعمال کیا جس میں جیوری کے ارکان کے قریب جانے کے لیے ایک پرکشش خاتون کے جعلی فیس بک پروفائل کا استعمال، فیفا حکام کی ہیکنگ اور جاسوسی اور فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی بولیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سابق مغربی انٹیلی جنس افسران کا استعمال شامل ہے۔

تحقیقات سے مزید پتہ چلتا ہے کہ چاکر ان متعدد سابق انٹیلی جنس افسران میں سے ایک ہے جو قطر کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ امریکی رکن کانگریس کے مطابق، ٹام مالینووسکی، قطر اور یو اے ای کے کئی سابق امریکی اہلکار ان کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرسکیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/11/2021 - 14:20:50

Your Thoughts and Comments