درد۔۔۔تحریر: ماہ گل عابد

انسان کو اپنی بقا کے لیے خود کو دلاسے دینے پڑتے ہیں کہ کتنی ہی توڑپھوڑ کیوں نہ ہورہی ہو۔ جب وہ اپنے دل کا درد دل میں بسائے کیسے دنیا کے سامنے خود کو خوش ہوکر دیکھاتا ہے۔ جب اسکی ہنسی بلکل کھوکھلی ہو کر رہ جاتی ہے۔ مضبوط چٹان بن کر کھڑے رہنے کے لیے اسے خود سے جنگ کرتی پڑتی ہے

منگل نومبر

dard
درد ایک ایسی کیفیت ہے جسکی شدت تڑپ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا جب کسی کو پانے کی چاہت بڑھ جائے تو دل کا درد ہر حد پار کرتے ہوئے بے اخیتار ہوکر اپنی ساری حدوں کو توڑتے ہوئے آنکھوں کے ذریعے بہنے لگتا ہے۔ تب آپ اپنا درد کسی کو نہیں کہہ سکتے جس کے لیے تڑپ رہے ہوتے ہیں اسے بھی نہیں ہاں آپ کے دل میں ہوتا ہے وہی شخص آکر ہمیں سمیٹ لے پر ایسا مکمن نہیں ہوتا۔

“ کیا کوئی کسی کے درد کو محسوس کر سکتا ہے؟ کوئی نہیں محسوس کرسکتا۔ کیا کوئی کسی کے دل کا حال جان سکتا ہے؟ نہیں کوئی نہیں جان سکتا سوائے اس پاک رب کے جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہم تڑپ کررو رہے ہوتے ہیں۔ اسکے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کو کون سن سکتا ہے؟جو ہر روز اپنی ذات کی دیواروں سے ٹکراتے بکھر سا جاتا ہے اور پھر بھی ہنستا مسکراتا رہتا ہے۔

(جاری ہے)

جب اپنے ہی آنسو آپکو خود ہی صاف کرنے پڑتے ہیں جب کوئی سمیٹنے والا بھی نہیں ہوتا۔ یہ ہوتی ہے درد کی اذیت۔ کوئی کیسے کسی کے دل کا حال جان سکتا کہ اس کے اندر کتنا درد ہے کتنی اذیت ہے۔“جب دنیا کے سامنے خود پر منافقت کا خول چڑھاتے نئے سرے سے خود کو اس دنیا میں پھر سے ہنسنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ منافقت کے خول میں خود کو چھپاتا پھرتا رہتا ہے۔


کیونکہ انسان کو اپنی بقا کے لیے خود کو دلاسے دینے پڑتے ہیں کہ کتنی ہی توڑپھوڑ کیوں نہ ہورہی ہو۔ جب وہ اپنے دل کا درد دل میں بسائے کیسے دنیا کے سامنے خود کو خوش ہوکر دیکھاتا ہے۔ جب اسکی ہنسی بلکل کھوکھلی ہو کر رہ جاتی ہے۔ مضبوط چٹان بن کر کھڑے رہنے کے لیے اسے خود سے جنگ کرتی پڑتی ہے۔ جب آپکے اندر سے اجڑجانے کی صدائیں کانوں میں سنائی دیتی ہیں۔

منافقت کا لبادہ اوڑھے رکھنے کے لیے اسے کیا کیا نہیں جتن کرنے پڑتے۔ تب انسان ایسی بے خودی سی کیفیت کا شکار ہو کر رہ جاتا کے کہ وہ اپنے آپ سے بھی ناخوش رہتا ہے اس کے اندر اک کمی اک خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ جب اسے اپنے آپ کا ہوش نہیں رہتا، وہ لوگوں سے ملنا کم کر دیتا ہے، اسے پھر ہر چیز سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ جب بھیڑ میں ہوتے ہوئے بھی وہ تنہا سا ہوتا ہے۔

بلکل تنہائی سی محسوس کرتا ہے۔ جب وہ بیٹھے بیٹھے کھو سا جاتا ہے۔ جب اس سے کوئی بات کررہا ہوتا ہے وہ ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھتا ہے۔ اگلے کی بات سمجھنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔
اور ایسی کمی سے وہ خود بھی واقف ہوتے ہوئے بھی نہیں واقف ہوتا۔ کہ اسے چاہیے کیا ہے اس نے کرنا کیا ہے؟ وہ اپنی اس کیفیت کا شکار کیونکر ہے۔ وہ کسی سے بھی ذکر نہیں کرپاتا۔

جہاں اس کا دل ایسی جگہ گم ہوجانا چاہتا ہے جہاں اسکے علاوہ کسی کو معلوم نہ ہو۔کیوں وہ اس کیفیت کا شکار ہے؟
جو کوئی اسکی اس کیفیت کو پہچان جاتا ہے تو کہتا ہے۔ تم اپنی دشمن خود ہو۔ تم چاہتی ہو کوئی اور آکر تمہیں سمیٹے تم خود سے خود کو سنبھال ہی نہیں سکتی۔ تم تو خود ایک غلطی ہو۔ کبھی سوچا ہے کوئی تمہیں یہ سب کہے تو کیا ہو گا۔ کیا جواب دو گی تم انہیں؟؟ نہیں ہے نہ کوئی جواب ہو گا بھی کیوں کیونکہ تم چاہتی ہی نہیں ہو تم خود کو سنوار سکو۔

تم چاہتی ہو لوگ تم سے ہمدردی کریں اور وہ نا سمجھی سے انکی باتیں سن رہی ہوتی ہے۔۔“
مگر وہ بے بسی کے اس کنارے پر ہوتا ہے۔جہاں اسکا دل جھنجھوڑ رہا ہوتا ہے اور آنکھ اشک بار ہورہی ہوتی ہے۔
جسے کوئی نہیں محسوس کرسکتا ہے جسے صرف اور صرف اللہ ہی سن سکتا ہے۔دیکھ سکتا ہے۔ جب وہ منافقت کا خول اتارے اپنے رب کے سامنے سجدے میں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو کر بکھررہا ہوتا ہے۔

بیشک اللہ کی ذات اپنے بندے کو سمیٹ کر جوڑنے کی قدرت رکھتی ہے۔ جو اپنے بندے سے سترماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ کیسے پھر اپنے بندے کو ٹوٹتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ جو انسان پہلے اتنا بولتا ہو پھر یکدم سے وہ اچانک خاموش رہنے پر ترجیح دینا شروع کردے۔ کہتے ہیں جب تکلیف روح تک پہنچتی جائے تو کوئی الفاظ اسکا مداوا نہیں کرسکتے۔ کسی بھی یقین کے ٹوٹ جانے پر انسان کے احساسات مردہ ہوجاتے ہیں۔

جب انسان ٹوٹ کر بکھرجاتا ہے تو وہ خود کو مردہ تصور کرنے لگتا ہے۔ جب احساسات ہی مر جائیں تو انسان میں جینے کی امنگ ہی ختم ہوجاتی ہے جس چیز کے جس شخص کے وہ دعوے کرتا ہے جو اسے سب سے زیادہ عزیز تر ہوتا ہے اللہ پاک اسے اسی بات پر آزماتا ہے۔ اسلیے نہیں کہ وہ اپنے بندے کو کمزور بنانا چاہتا ہے۔ بلکے اس لیے اسے تنہا چھوڑتا ہے کہ وہ میرا بندہ خود کو مضبوط بنائے۔

رب دیکھنا چاہتا ہے میرا بندہ کتنا اس آزمائش پر پورا اترتا ہے وہ کتنا مجھے یاد کرتے میرا قریب آتا ہے۔ دنیاوی محبت خواہشات کو ختم کرکے اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے۔ پر انسان بھی کتنا ناشکرا ہے۔ رب کے قریب ہوتے ہوتے بھی شکوہ کرہی دیتا ہے۔انسان کو آزمائش میں ڈال کر اسکے اندر چھپے مخفی راز سے اسے آگاہ کر سکے۔ جس سے وہ خود بھی ناواقف ہوتا ہے اور اپنی ذات کی خود فریبی میں مگن ہوتا ہے۔

جب انسان خود اپنے آپ کو پہچاننے کا موقع دیتا ہے تو وہ ہر انسان کو اس سے دور کردیتا ہے۔ جب رب آزمائش اور تکلیفیں، سختیاں دیکھا کر صبر دے کر اپنی محبت کی مہربانیاں اور عنائتیوں سے نوازتا ہے۔تب اللہ اس بندے کا دل خود کے لیے چن لیتا ہے اسکی ساری تکلیفوں کو ختم کردیتا ہے۔اس کی یہ بے خودی کی کیفیت سے نکال کر اپنے قریب کرلیتا ہے تب وہ اپنے بندے پر لاالہ الاللہ کا راز عیاں کرتا ہے۔کیونکہ انسان کی بھلائی ہی خود کو اللہ کے سپرد کرنے میں ہوتی ہے بغض اوقات انسان ٹوٹ کر ہی خود سے ملکر ہی رب سے مل پاتا ہے کیونکہ انسان کا اصل ٹھکانہ ہی وہی ہے۔یہ ایک ایسا راز ہے انسان کے اندر کے سفر کا جو انسان کو ٹوٹ کر پھر سے بناتا ہے اور اسے بلکل خاموش کردیتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

dard is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 November 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.