احتسابی اداروں پر عوام کا عدم اعتماد لمحہ فکریہ

وفاقی محتسب کا آن لائن سماعت کی سہولت سے انصاف کی بروقت فراہمی یقینی ہو گی

جمعرات 16 دسمبر 2021

آر ایس آئی
دنیا بھر میں جمہوری و عوامی حکومت کا بنیادی وظیفہ ہی عوام کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انتظامی سہولیات بہم پہنچانا ہوتا ہے اور اس اہم ترین ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ہر جمہوری حکومت شہر،ضلع،تحصیل سے لے کر یونین کونسل کی نچلی سطح تک مختلف محکمہ جاتی سرکاری ادارے قائم کرکے ان میں موزوں اور اہل سرکاری اہلکاروں کو تعینات کرتی ہے تاکہ عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے ان اداروں سے رجوع فرما سکیں اور وہاں موجود حکومتی اہلکار اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر آئین و قانون کی روشنی میں عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں لیکن اگر بدقسمتی سے حکومت وقت کے قائم کردہ محکموں میں متعین سرکاری اہلکار و افسران عام افراد کو درپیش انتظامی مسائل کو حل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو جائیں یا پھر وہ اپنے ذمہ واجب لاوا کام کا معاوضہ،تنخواہ کے علاوہ بھی بصورت رشوت اعلانیہ و غیر اعلانیہ سائلین سے طلب کرنا شروع کر دیں تو پھر ان بدعنوان عناصر سے باز پرس کرنے کے لئے چند احتسابی ادارے بھی ہر حکومت کے زیرنگیں ضرور موجود ہوتے ہیں جن سے متاثرہ افراد،رجوع فرما کر بدعنوان سرکاری اہلکار و افسران کے خلاف اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں مثال کے طور پر محکمہ اینٹی کرپشن کا قیام وطن عزیز پاکستان کے طول و عرض میں عمل میں لایا ہی صرف اس لئے گیا تھا کہ یہ احتسابی ادارہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانی کو بے نقاب کرکے بدعنوانی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزائیں دے گا مگر افسوس صد افسوس خالص انسداد کرپشن کے لئے وجود میں آنے والا یہ ادارہ،کرپشن کی بہتی گنگا کے گند کو سرکاری اداروں سے صاف کرنے کے بجائے خود اس کا ایک جزو لاینفک بن کر رہ گیا اور اب عوام کا اس احتسابی ادارے پر بد اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ وہ سرکاری اہلکاروں کی زیادتی کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن سے رجوع کرنا تو درکنار اُلٹا اپنی نجی محفلوں میں اس پر ”محکمہ اینٹی کرپشن“ کی پھبتی کس کرکے بھد اُڑاتے ہیں۔

(جاری ہے)


محکمہ اینٹی کرپشن جیسے احتسابی اداروں کے یکسر ناکام اور غیر موٴثر ہونے کے بعد ہی وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی محتسب کا ادارہ قائم کیا گیا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناکہ”دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے“ اور ” سانپ کے ڈسے ہوئے کو راہ میں پڑی ہوئی رسی پر بھی اکثر سنپولئے کا ہی گمان ہونے لگتا ہے“ کچھ ایسی ہی بدگمانی ناکام احتسابی اداروں کا شکار عوام کو وفاقی محتسب کے متعلق ناصرف کل تھی بلکہ آج بھی لاحق ہے دوسروں کا تو خیر ذکر ہی کیا کریں خود ہم بھی ایک مدت سے یہ ہی فرض کئے بیٹھے تھے کہ وفاقی محتسب بھی عوامی شکایات پر کاغذی کارروائیوں کا ملمع چڑھا کر انہیں داخل دفتر کرنے کے لئے قائم کیا گیا دیگر سرکاری احتسابی اداروں کی مانند ایک روایتی سا محکمہ جاتی ادارہ ہی ہو گا مگر ہماری یہ خام خیالی اس وقت انتہائی خام اور سراسر فضول ثابت ہوئی جب گزشتہ دنوں ہمارا اپنا واسطہ ایک مسئلے کے سلسلے میں وفاقی محتسب سے پڑ گیا۔

حیسکو حیدرآباد کے خلاف ایک شکایت وفاقی محتسب کی ویب سائٹ پر آن لائن اندراج کرائی تو چند لمحوں بعد ہی موبائل فون پر پیغام موصول ہوا کہ ”آپ کی شکایت زیر سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لئے وفاقی محتسب کے ریجنل دفتر حیدرآباد کو ارسال کر دی گئی ہے“ نیز چند روز بعد وفاقی محتسب کی جانب سے ایک خط بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک موصول ہوا جس میں میری شکایت کی سماعت اور اس کے حل کے لئے حیسکو حکام کو وفاقی محتسب کے ریجنل دفتر،حیدرآباد میں طلب کیا گیا تھا یہاں تک تو بات پھر بھی اچھی طرح سے سمجھ میں آگئی تھی کہ وفاقی محتسب ادارہ واقعی ایک متحرک احتسابی ادارہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔


سرکاری اداروں سے نالاں اور مایوس افراد کو کم از کم ایک بار اپنے مسئلہ اور شکایت کے حل کے لئے وفاقی محتسب سے ضرور رجوع کرنا چاہئے خاطر جمع رکھئے کہ سائل کی ہاتھ سے لکھی گئی یا وفاقی محتسب کی ویب سائٹ پر درج کروائی گئی آن لائن درخواست پر وفاقی محتسب کی جانب سے بلا کسی تاخیر کارروائی شروع ہو جاتی ہے اور شکایت کنندہ کو ایس ایم ایس کے ذریعے اس کی شکایت کا نمبر اور تاریخ سماعت کی اطلاع کر دی جاتی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 60 یوم کے اندر ہر شکایت کو نمٹا بھی دیا جاتا ہے۔

وفاقی محتسب کی جانب سے عوامی شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے مقرر کئے گئے ایسوسی ایٹ ایڈوائزر ڈاکٹر ریاض صدیقی کا شکایات پر فوری ریلیف دلوانا قابل تحسین اقدام ہے۔ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اگلے برس سے وفاقی محتسب کے صدر دفتر کی طرح تمام علاقائی دفاتر میں بھی آن لائن سماعت کی سہولت فراہم کر دی جائے گی یعنی مستقبل قریب میں کوئی بھی شکایت کنندہ سکائپ،IMO اور انسٹاگرام پر اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر اپنی شکایت پر ہونے والی سماعت میں براہ راست شریک ہو کر اپنا موٴقف پیش کر سکے گا۔

یاد رہے کہ وفاقی محتسب کے فیصلوں پر کوئی بھی فریق نظرثانی کی اپیل دائر کر سکتا ہے جس کا فیصلہ 45 دن میں کر دیا جاتا ہے نیز فیصلوں کے خلاف اپیل صرف صدر پاکستان کو ہی کی جا سکتی ہے اور وہ بھی عموماً وفاقی محتسب کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہیں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی محتسب کے قیام سے لے کر آج تک،اس احتسابی ادارے کی طرف سے جاری کردہ فیصلوں کے خلاف کی گئی اپیلوں میں سے فقط 2 فیصد اپیلیں ہی سماعت کے لئے قبول کی گئی ہیں اور وہ بھی تمام شکایت کنندگان کی تھیں سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ ملک کا کوئی اور احتسابی ادارہ عوامی امنگوں کے مطابق کام کرے یا نہ کرے بہرکیف ”وفاقی محتسب واقعی کام کرتا ہے“۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Ehtesaabi Idaroon Per Awam Ka Adam Aitmad Lamha Fikriya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 December 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.