دل پہ لفظوں کے وار مت کرنا

کُھردرے اور بدوضع جملے پریوار پر گہرے وار کر کے برباد کر ڈالتے ہیں۔کتنی ہی بار ایسے ہوتا کہ منہ سے بد مزہ کلمات نکلتے ہی نوبت قتل وغارت گری تک جا پہنچتی ہے۔کیا آپ نے اپنے گھر اور ماحول پر کبھی غور کیا ہے کہ کتنے ہی اجلے اور پیار بھرے رشتے ناتے ایسے ہیں جنھیں تلخیوں میں گندھے الفاظ نے کسی دیمک کی طرح چاٹ کھایا ہے

Hayat abdullah حیات عبداللہ پیر دسمبر

dil pay lafzon ke waar mat karna
اپنی بے انت خواہشوں کی زلفِ دراز کے اسیر لوگ دو رُخی شخصیت کے دوہرے آزار ہی میں تو مبتلا ہوتے ہیں۔ایسے لوگ اپنی ذات کے معاملے میں تو اتنے نازک مزاج اور نازک طبع ہوتے ہیں کہ اُن کے سینوں میں یہ خواہش ہر دم مچلتی ہے کہ اُن کے لیے ادا کیا جانے والا ہر حرف آبرومند ہو۔اُن کی سماعتوں سے ٹکرانے والا ایک ایک لفظ اُن کی شان اور توقیر میں اضافے کا موجب بنے اور اُن کے سامنے بولا جانے والا ہر جملہ موتیوں کی مالا ہو۔

مگر خود اُن کی اپنی زبانیں دوسروں کے لیے ایسے معزّز، مکرّم اور معظّم الفاظ ادا کرنے کے لیے ہمیشہ معذور اور اپاہج ہی رہتی ہیں۔دوسروں کے لیے الفاظ کی سنگ باری ہی ان کا معمول اور وتیرہ ہوتی ہے۔
 ہر شخص بنا لیتا ہے اخلاق کا معیار
 خود اپنے لیے اور زمانے کے لیے اور
 ہاتھی کی طرح دانت ہیں اربابِ ہوس کے
 کھانے کے لیے اور دکھانے کے لیے اور
کتنے ہی لوگ ایسے جو خود تو بڑھاپے کی چوکھٹ پر کھڑے ہیں مگر اُن کی یہ خواہش ہمیشہ جوان رہتی ہے کہ اُن کے کانوں سے ٹکرانے والا ہر لفظ رسیلا، چمکیلا اور بھاگ بھرا ہو۔

(جاری ہے)

چہار سُو نظریں دوڑا لیجیے لوگوں کی اکثریت ایسے فرحت خیز اور نشاط انگیز الفاظ ادا کرنے میں انتہائی مفلس اور قلاش نظر آئے گی جو دوسروں کی سماعتوں کے لیے بادِ نسیم کا مسرت انگیز جھونکا بن سکیں۔اَن پڑھ تو کجا اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی اس معاملے میں انتہائی لُولے لنگڑے دکھائی دیتے ہیں۔کتنے ہی لوگوں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو سن کر یہی خیالات دلوں میں در آتے ہیں کہ گویا کوئی کریلا نیم پر چڑھ بیٹھا ہے۔

شخصیت کا یہ دوغلا پن زندگی میں مسائل کے انبار لگا دیتا ہے۔آپ اپنے ماحول اور معاشرے میں چیختے چنگھاڑتے مسائل کی طرف دھیان دیں تو ان میں سے اکثریت کا سبب منہ سے نکلنے والے ناروا الفاظ اور نازیبا کلمات ہی ہوتے ہیں۔ ماں باپ اور میاں بیوی سمیت تمام رشتوں ناتوں میں انتشار اور خلفشار زبان سے نکلنے والے الفاظ ہی پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے“ ایک اور حدیث میں ارشادِ نبوی ہے کہ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی ہے۔

یہ زبان ہی تو ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ فتنے اور فساد پیدا کرتی ہے۔یہ الفاظ ہی تو ہوتے ہیں جو گھروں اور خاندانوں کو اجاڑ ڈالتے ہیں۔
ہم روزانہ کی بنیاد پر درشت اور کرخت لہجے میں یکلخت کتنی ہی سخت اور کُھردری باتیں کر جاتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ الفاظ دوسروں کے دل پر کس قدر برقِ تپاں بن کر گریں گے؟ رسیلے اور مدھر الفاظ رشتوں اور تعلقات کو توانا اور مضبوط بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔

آپ کے منہ سے نکلا ہوا کوئی مدھ بھرا جملہ کسی کو آپ کی شخصیت کے سحر میں مبتلا کر سکتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت شکلوں کی نہیں بلکہ ایسے خوش اخلاق لفظوں کی حریص اور ندیدی ہوتی ہے جو مثلِ شہدوانگبیں دلوں سے نکلتے ہیں۔
زمانہ قدیم کے لوگ کہتے تھے کہ پہلے تولو پھر بولو مگر رفتہ رفتہ لوگ اتنے جلد باز، بے پروا اور بد ذوق ہو گئے کہ پہلے بولنے اور پھر تولنے لگے مگر اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ صرف بولتے ہی بولتے ہیں، پہلے یا بعد الفاظ کا وزن کرنے کا تکلف کوئی کرتا ہی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ لفظوں کے گلشن میں ایسے بھدّے الفاظ خود رو جھاڑیوں کی مانند اگتے چلے جاتے ہیں کہ جو صرف انسان کی شخصیت ہی کو مسخ نہیں کرتے بلکہ انسان کے دل ودماغ میں گرانی اور تبخیر پیدا کر کے مسائل اور جرائم کے انبار بھی لگا دیتے ہیں۔اپنے خاندان کے لڑائی جھگڑوں اور قتل وغارت سے تنگ آ کر ہمارے سکول میں تبادلہ کروا کر آنے والے ایک استاذ اخلاق احمد نے بتایا کہ اُن کے خاندان کے ایک نوجوان نے ایک بزرگ کو قتل کر دیا۔

عدالت میں مقدمہ چلا طویل عرصے تک دو خاندان ذلیل ہوتے رہے۔بالآخر دونوں فریقوں میں صلح ہو گئی۔قتل جیسے گھناؤنے جرم کے گھاؤ بھرنے لگے۔اللہ کا کرم یہ ہوا کہ دونوں خاندان پھر شِیروشکر ہو گئے، محبتیں ازسرِنو پروان چڑھنے لگیں۔ایک دن مقتول کا ایک بیٹا اور قاتل دونوں شکرقندی کے کھیت میں”کَسی“ کے ساتھ شکرقندی نکال رہے تھے کہ اچانک”کَسی“کا اوچھا وار ایک موٹی شکرقندی پر پڑا، شکرقندی کے دو ٹکڑے ہو گئے۔

قاتل نے از راہِ تفنن کہ دیا کہ جب میں نے تیرے باپ کو قتل کیا تھا، اُس کی گردن بھی اس شکرقندی کی طرح کٹ کر دُور جا گری تھی۔اس کے منہ سے نکلا لفظ لفظ زہر آگیں تھا۔حرف حرف دلوں کو چیر دینے والا تھا۔سو یہ کڑوے کسیلے لفظ نکلنے کی دیر تھی کہ مقتول کا بیٹا آگ بگولا ہو گیا۔اس نے اسی”کَسی“ کے ساتھ باپ کے قاتل کو قتل کر ڈالا۔
زبان سے نکلنے والے اس ایک جملے نے دونوں قبیلوں کے درمیان دوبارہ نفرت اور عداوت کی آگ بھڑکا دی۔

پھر بات صرف اسی قتل پر منتج نہ ہوئی بلکہ اس ایک جملے کی بنا پر مزید تین افراد قتل ہو گئے۔یہ سب کیوں ہوا؟ اتنے افراد کیوں قتل ہو گئے؟ سبب منہ سے نکلنے والا ایک تلخ جملہ تھا جس نے پھلتی پھولتی محبتوں کو بھسم کر ڈالا۔جس نے معاندت کے ایسے بیج بو دیے کہ آج تک دو خاندان مخاصمت کے گرداب سے نکل ہی نہ پائے۔نرم اور میٹھے لفظ محبتوں کے سرووسمن اگاتے ہیں تو کُھردرے اور بدوضع جملے پریوار پر گہرے وار کر کے برباد کر ڈالتے ہیں۔

کتنی ہی بار ایسے ہوتا کہ منہ سے بد مزہ کلمات نکلتے ہی نوبت قتل وغارت گری تک جا پہنچتی ہے۔کیا آپ نے اپنے گھر اور ماحول پر کبھی غور کیا ہے کہ کتنے ہی اجلے اور پیار بھرے رشتے ناتے ایسے ہیں جنھیں تلخیوں میں گندھے الفاظ نے کسی دیمک کی طرح چاٹ کھایا ہے۔ترش الفاظ کو تو میں گُھن اور دیمک سے بھی زیادہ بھیانک سمجھتا ہوں کہ دیمک تو ہولے ہولے کسی لکڑی کو چاٹتا ہے مگر نوکیلے اور متعفّن الفاظ کا ردّ عمل اتنا یک دم ہوتا ہے کہ انسان سنبھل ہی نہیں پاتا۔

معمولی پڑھا لکھا شخص بھی خوب جانتا ہے کہ انسان کا حُسن وجمال اس کے تیکھے خدوخال، کٹیلے نین نقش اور گورے چِٹّے رنگ روپ سے زیادہ اس کی زبان کی لطافت اور انداز تکلّم کی نفاست میں پنہاں ہوتا ہے۔چہرہ اگر حُسن وجمال کا پیکر ہو اور منہ سے نکلنے والے جملوں میں جگہ جگہ بوسیدگی کے پیوند لگے ہوں تو گویا رعنائی اور زیبائی کو گہن سا لگ جاتا ہے۔

 وہ شخص محبت سے ہمیشہ رہا محروم
 اوروں کے لیے جس میں محبت نہیں ہوتی
 چہرے کا سنگھار کبھی کام نہ آیا
 سیرت کے بنا کوئی بھی صورت نہیں ہوتی
آپ نے کچھ لوگ ایسے ضرور دیکھے ہوں گے جو عام سے چہرے اور لب ورخسار کے ساتھ محض حسِین الفاظ کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کی گفتگو کے قرینے اور سلیقے کو دیکھ کر احمد فراز کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے۔

 سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں 
 یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
انسان کی زبان سے نکلنے والے جملے رسیلے اور سجیلے ہوں تو پھر اس کی باتوں سے خوشبو کی لپٹیں آتی ہیں۔اس کی ذات مہک اٹھتی ہے۔اس کی باتیں سن کر دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔
 تیری ہستی سے تری ذات سے خوشبو آئے
 تُو جو بولے تو تری بات سے خوشبو آئے
ہم اگر اپنی زبان سے سندر کومل الفاظ نہیں نکال سکتے تو کم از کم اس بغیر ہڈی کی زبان کو قابو میں تو رکھ سکتے ہیں کہ صرف اتنا کرنے سے ہی بہت سے مسائل سے جان بچ سکتی ہے۔
 دل پہ لفظوں کے وار مت کرنا
 ایسے گھاؤ کبھی نہیں بھرتے

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

dil pay lafzon ke waar mat karna is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 December 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.