نہال ہاشمی اور راجہ پورس کے ہاتھی!

مپولین بونا پارٹ نے کہا تھا”جب دشمن غلطی کرنے لگے تو اسے کرنے دو!“

پیر جون

Nehal Hashmi Aur Raja Poras K Hathi
آصف رضا میانہ:
مپولین بونا پارٹ نے کہا تھا”جب دشمن غلطی کرنے لگے تو اسے کرنے دو!“
لڑائی خواہ وہ میدان حرب میں لڑی جائے یا میدان سیاست میں وہ اعصاب کی مرہون منت ہوتی ہے اگرمضبوط سے مضبوط شخص مقابل میں ہو اور سخت سے سخت حالات ہوں مگر اعصاب قابو میں ہوں تو غلطی کا اندیشہ کم ہوگا۔اور اس کے برعکس اگر کمزور سے کمزور مدِمقابل ہو اور شکست کے خوف سے اعصاب جواب دے جائیں تو بدحواسی میں ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ شکست یقینی ہو جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کی 28 مئی کی تقریر اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب اعصاب مدمقابل کا پریشر برداشت نہ کر پائیں اور جواب دے جائیں تو بڑے سے بڑے سورما اور شمشیرزن بھی آپ کو جنگ نہیں جتوا سکتے بلکہ وہ بدحواسی میں وہی کچھ کرتے ہیں جو راجا پورس کے ہاتھیوں نے اس کی فوج کے ساتھ کیا تھا۔

(جاری ہے)


راجہ پورس 315 سے 340 قبل مسیح تک دریائے جہلم اور چناب کے درمیان کے علاقے پر مشتمل سلطنت پورو کا حکمران تھا جو اپنی شجاعت ،بہادری اور فن سپاہ گری کے باعث پورے ہندوستان میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

326 قبل مسیح میں سکندراعظم نے مصر اور ایرانی سلطنتوں کو فتح کیا تو اس کا اگلا ہدف مکمل ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنا تھا اور ایسی سلطنت قائم کرنا تھا جہاں مقدونیہ سے لے کر عظیم ہندوستان تک اس کی حکومت کا پرندہ لہرائے۔اس سے قبل ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے راجا سکندر کی حکمرانی کے تابع ہو چکے تھے مگر راجہ پورس سکندر کی ہندوستان فتح کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر حائل تھا۔

سکندر اپن فوج کے ساتھ دریائے جہلم کے کنارے خیمہ زن ہو اتو دریائے جہلم کی دوسری جانب راجہ پورس اس غیر ملکی حملہ آور کو روکنے اور اس کی پیش قدمی روکنے کیلئے تیار اور بے تاب تھا۔مون سون کا موسم برسات اور دریا کا تیز بہاؤ جہاں سکندر کیلئے راجہ پورس پر حملہ کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا وہیں یہ موسم پورس کیلئے ایک قدرتی دفاع ثابت ہورہا تھا۔

سکندر کمال کا جنگجو اور ذہین تھا اس نے اپنی آدھی فوج کو دریا پار کروا کر پورس پر حملہ کردیا ۔راجہ پورس کی فوج یونانی فوج سے تعداد اور وسائل میں زیادہ تھی اور پورس کی فوج کی اصل طاقت وہ دیوہیکل ہاتھی تھے جنہیں جنگ کیلئے خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی۔یہ ہاتھی زرہ بکتر اور اور ان کے ہاتھی دانت تیز دھار نوکیلے دانتوں میں بدل دیئے گئے تھے۔

جو سامنے سے آنے والے کو باآسانی چیڑ پھاڑ دیتے تھے اور جو بچ جائے وہ ان کے پاؤں میں کچلے جاتے تھے۔مضبوط اور موٹی زرہ بکتر ہونے کے باعث ان ہاتھیوں پر تیز دھار تلوار کا حملہ بے سود ہوتا تھا۔یوں یونانیوں کے لئے اس انوکھی فوج سے لڑنا ناممکن لگ رہا تھا۔یہ دیوہیکل ہاتھی راجہ پورس کی فوج اور دفاع کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔سکندر کی فوج دریا پار کرنے کے بعد گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں ابتدائی طور پر یونانیوں کا کافی جانی نقصان ہوا مگر پھر سکندر کی غیر معمولی جنگی حکمت عملی نے راجہ پورس کی رسالہ اور پیادہ فوج کی کمر توڑدی۔

راجہ پورس نے اپنی فوج کی اس پسپائی کے باعث اپنے آخری حربے کے طور پر اپنے خاص ہاتھیوں سے یونانیوں پر حملہ کیا تو سکندر نے ہاتھیوں کو روکنے کا انوکھا حل نکالا۔زرہ بکتر ہونے کے باعث ہاتھیوں پر تیز تلوار کے حملہ کا اثر نہیں ہوتا تھا۔سکندر نے اپنے تیراندازوں اور سپاہیوں سے ہاتھیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا۔سکندر کے سپاہیوں نے راجہ پورس کے ہاتھیوں کی آنکھیں نکال دیں۔

مون سون کی بارش سکندر کے لئے غیبی مدد ثابت ہوئی اور یو ں پورس کے ہاتھی پھسلن اور آنکھیں نکال دئے جانے سے ایسے بدحواس ہوئے کے سامنے کی بجائے پیچھے کا دوڑنے لگے اور پورس کے سپاہی اپنے ہی ہاتھیوں کے تیز دھار ہاتھی دانتوں سے کٹ کٹ کر مرنے لگے اور کچھ ان کے پاؤں کے نیچے آکر کچلے جانے لگے۔یونانیوں کی جنگی تدبیر کام کر گئی انہوں نے پورس اور اس کی فوج کا محاصرہ کرلیا اور یوں سکندر اعظم پورس کی بڑی فوج کے باوجود اس جنگ میں فتح یاب ہوا راجہ پورس کے وہ دیوہیکل ہاتھی جو جنگی تربیت یافتہ اور زرہ بکتر بھی تھے بدحواسی میں اپنی ہی فوج کو کچل بیٹھے اور ہاتھیوں نے اپنی فوج اور پورس کو وہ نقصان پہنچایا جو مقابل کے ہزاروں یونانی فوجی نہ کرسکے ۔

یوں راجہ پورس کہ یہ ہاتھی دنیا کی تاریخ میں اُلٹی تدبیر اور ناکامی کا استعارہ بن گئے۔آج بھی لوگ اپنی ہی صفوں سے نکل کر اپنی ہی پارٹی یا جماعت کو اپنی بدحواسی اور کم عقلی سے نقصان پہنچائیں تو ان کو راجہ پورس کے انہی حواس باختہ ہاتھیوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے جو اپنی ہی شکست کا باعث بنے۔
نہال ہاشمی مسلم لیگ ن کی صفوں میں موجود ویسے ہی راجہ پورس کے حواس باختہ ہاتھی ہیں جنہوں نے اپنی شعلہ بیانی سے اپنی پارٹی کو زبردست مشکل میں ڈال دیا ہے۔

میرے خیال میں نہال ہاشمی کا شکرادا کرنا چاہیے کیونکہ نہال ہاشمی نے 28 مئی کی اپنی شعلہ بیانی سے مسلم لیگ ن کو وہ ڈینٹ اور نقصان پہنچایا ہے جو شاید تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر بھی نہ پہنچا سکی۔
نہال ہاشمی کر تقریر کے دو پہلو ہیں۔پہلا پہلو تو اس تعفن زدہ خوشامدی اور چاپلوسی کلچر کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اب ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں ”وفاداری“کا معیار بن گیا ہے۔

جو سیاسی کارکن اپنے لیڈر کی اندھا دھند چاپلوسی اور اس کے ہر قوم اور فعل کا دفاع کرے گا وہ اتنا ہی وفادار اور قابل اعتماد سمجھا جائے گا۔یہ اُسی شخصیت پرستی کے کلچر کا عکاس ہے کہ آج مسلم لیگ ن کے اکثر وزیر اور ایم ان ایز اپنے پارٹی لیڈر پر کرپشن کے الزامات کا اندھا دھند دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔پارٹی پالیسیوں اور پارٹی کے نظریات کا دفاع کرنا ہر سیاسی ورکر کا بنیادی آئینی استحقاق ہے مگر کسی خاندان کے کرپشن الزامات کا اس طرح سے دفاع کرنا پوری دنیا میں صرف ہمارے ہاں ہی ہے۔


نہال ہاشمی کی تقریر کا دوسرا پہلو پہلے سے زیادہ افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے تقریر کی تب وہ روزے میں تھے ان کا مخاطب JIT یا عدلیہ نہیں تھی۔یہ کس قدر ڈھٹائی کی بات ہے کہ موصوف روزے کو اپنی جماعت کا ذمہ دار بتاتے ہیں اور اگریہ محال تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ان کامخاطب JIT یا سپریم کورٹ نہیں تھی تو کون ساآئین یا اخلاقیات کا معیار ان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ بچوں کو نشان عبرت بنانے اور زمین تنگ کرنے کی دھمکی دے ڈالیں؟ نہال ہاشمی کو روزے کا اگر اتنا ہی پاس ہوتا تو وہ اپنے اندر تخاطب اور الفاظ میں وہ سختی اور کرختگی ہرگز نہ برتتے۔


ادھر مسلم لیگ ن اور حکومتی نمائندے یہ کہتے ہیں کہ نہال ہاشمی کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے تھا اور نہال ہاشمی اپنے بیان میں عدلیہ یا JIT کو مخاطب کرنے سے صاف مکر گئے ہیں۔مگر ان کی یہ بات سمجھ سے اس لئے بالا تر ہے کہ جو شخص پروفیشنل وکیل ہو اور قانون دان ہونے کے ناطے آئین قانون اور عدلیہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو،مسلم لیگ ن سندھ کا جنرل سیکرٹری ہو ،وزیراعظم کا خصوصی مشیر برائے قانون رہا ہو اور ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے ایوان بالا سینٹ کا فعال ممبر ہو اور میڈیا کی اہمیت سے بھی واقف ہو وزیراعظم کے میڈیا سیل سے بھی منسلک رہا ہو ایسا تجربہ کار اور باخبر سیاسی نمائندہ انجانے میں،ملک کی سب سے بڑی عدالت اور اس کی قائم کردہ JIT کو صاف اور ننگے الفاظ میں دھمکی سے ڈالے یہ ممکن نہیں ہے نہال ہاشمی اپنی تقریر کے متن اور اس کے معانی سے تو اتنے بے خبر تھے کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

اور نہ اتنے بہادر کہ “ذاتی حیثیت“ میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو سرے عام دھمکی دے سکیں اور اس سے ٹکر لے سکیں۔یہ بیان کسی نیم خواندہ،کونسلر لیول کے کسی سیاسی کارکن نے دیا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی تھی نہال ہاشمی کے زبان سے ادا ہوئے یہ لفظ اور یہ لب لہجہ دراصل کسی اور کا پیغام تھا۔زبان صرف نہال ہاشمی کی استعمال کی گئی مرکزی خیال اور الفاظ کسی اور کے تھے۔

اور یہ پہلی بار نہیں ہو اگرہماری قوم کی یاداشت کمزور نہیں ہوئی تو انہیں یاد ہوگاکہ کس طرح اگست 2015 میں مسلم لیگ ن کے ہی سینیٹر مشاہداللہ نے بی بی سی کواپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی چیف جنرل ظہر السلام اسلام آباد ھرنے کے پیچھے تھے اور وہ حکومت گرانا چاہتے تھے مگر جب فوج کا زبردست ردعمل سامنے آیا توان سے موسمیات کی وزات واپس لے لی گئی ۔

آج ن لیگ میں وہ پہلے سے زیادہ معتبر اور مکرم سمجھے جاتے ہیں اور ایک وزارت واپس لیے جانے کے عوض وہ سینیٹر ہونے کہ ساتھ پی آئی بحالی کمیٹی سمیت چار دیگر اہم سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی ہیں۔یوں ان کی یہ تعظیم وتکریم دوسرے ورکرز کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جب تک قیادت اور ان کے کرپشن الزامات کے دفاع میں کسی بھی حد تک نہیں جاتے پارٹی اور حکومت میں کوئی اہم ”پوسٹ“ نہیں ملنے والی۔

کسی دور میں سیاست ایک باوقار اور بااصول لوگوں کا انتخاب ہوا کرتا تھا اور وہ سیاست دان کا لفظ گالی سمجھتے تھے اور خود کو اُیلٹیس مین کہلوانا پسند کرتے تھے۔ مگر اب منافقت ،دروغ گوئی ،شب وستم،تیرابازی کا ایسا بازار گرم ہے کہ ایسی سیاست اور ایسے کلچر سے کراہٹ ہونے لگی ہے۔
جوں جوں JIT اپنی طے کردہ ڈیڈلائن کی طرف گامزن ہے توں توں حکومتی ایوانوں میں بے چینی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی اس پانامہ جدوجہد نے ملک کے سٹیٹس کر ہروہ کاری ضرب لگائی ہے جس کا اس سے قبل تصور بھی محال تھا۔موجودی JIT سے قبل طاقت ورطبقے کا اعلیٰ عدلیہ اور ملک کے اعلیٰ ترین اداروں سے اس قدر تفصیلی اور آزادانہ تحقیقات صرف خواب ہی ہواکرتی تھیں۔ اور یہ ایسی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہے کا اثر ہے کہ حکومتی پارٹی کے اعصاب،ان تحقیقات کا پریشر نہیں برداشت کرپارہے کیونکہ نہ تو وہ ان کے عادی تھے اور نہ ہی توقع کررہے تھے۔

نہال ہاشمی کا 28 مئی کا ”کارنامہ“ اس اعصاب شکن کیس میں حکومتی بے چینی کا واضح ثبوت ہے۔
رہی سہی کسر ججز نے اپنے ریمارکس میں نکال لی جب عدالت نے حکومت کو اٹلی کے شہر سسلی کے بدنام زمانہ سسیلین مافیا سے تشبیہہ دے دی جو مافیا اپنے مخالفین کے اہل خانہ او ر ان کے بچوں کو اغوا اور قتل کرانے میں بدنام تھا۔حکومت نے اس عدالتی تشبیہہ پر بھی غلطی تسلیم نہیں کی اور سادہ کاغذ پر بغیر کسی لیٹر پیڈ اور سٹیمپ کے”گمنام“حکومتی ترجمان کے نام سے مذمتی پریس ریلیز سرکاری ٹی وی پر چلوادی۔

اس غلطی کا بھی جناب چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے جواب طلب کر لیا ہے۔یوں حکومت اور شریف خاندان اپنی اس قانونی جنگ میں زبردست اعصابی دباؤ کا شکار ہے اور غلطی پر غلطی کیے جا رہے ہیں۔جب یہ سطور شائع ہوگی تب تک حکومتی کیمپ کا ایک اہم گلیڈایٹر نہال ہاشمی سپریم کورٹ سے فرد جرم عائد کی جا چکی ہوگی۔کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ اس قانونی جنگ میں حکومتی گلیڈی ایٹرز طلال چوہدری،دانیال عزیز،حنیف عباسی اور طارق فضل چوہدری اور دیگرلوگ نہال ہاشمی کی طرح اعصابی دباؤ میں وہی غلطی کر جائیں کہ نتائج راجہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح اپنی ہی حکومت اور ن لیگ کی ساکھ کو روند کر رکھ دیں ن لیگ کا 1997ء میں سپریم کورٹ پر حملہ بھی لوگ بھولے نہیں۔

اپوزیشن کو پنولین بونا پارٹ کا وہ شہرہ آفاق قوم پھر سے یاد دلادیں کہ
”جب دشمن غلطی کرے تو اُسے روکو مت اُسے غلطی کرنے دو!“
نہال ہاشمی اور راجہ پورس کے ہاتھی!
آصف رضا میانہ:
مپولین بونا پارٹ نے کہا تھا”جب دشمن غلطی کرنے لگے تو اسے کرنے دو!“
لڑائی خواہ وہ میدان حرب میں لڑی جائے یا میدان سیاست میں وہ اعصاب کی مرہون منت ہوتی ہے اگرمضبوط سے مضبوط شخص مقابل میں ہو اور سخت سے سخت حالات ہوں مگر اعصاب قابو میں ہوں تو غلطی کا اندیشہ کم ہوگا۔

اور اس کے برعکس اگر کمزور سے کمزور مدِمقابل ہو اور شکست کے خوف سے اعصاب جواب دے جائیں تو بدحواسی میں ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ شکست یقینی ہو جاتی ہے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کی 28 مئی کی تقریر اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب اعصاب مدمقابل کا پریشر برداشت نہ کر پائیں اور جواب دے جائیں تو بڑے سے بڑے سورما اور شمشیرزن بھی آپ کو جنگ نہیں جتوا سکتے بلکہ وہ بدحواسی میں وہی کچھ کرتے ہیں جو راجا پورس کے ہاتھیوں نے اس کی فوج کے ساتھ کیا تھا۔


راجہ پورس 315 سے 340 قبل مسیح تک دریائے جہلم اور چناب کے درمیان کے علاقے پر مشتمل سلطنت پورو کا حکمران تھا جو اپنی شجاعت ،بہادری اور فن سپاہ گری کے باعث پورے ہندوستان میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔326 قبل مسیح میں سکندراعظم نے مصر اور ایرانی سلطنتوں کو فتح کیا تو اس کا اگلا ہدف مکمل ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنا تھا اور ایسی سلطنت قائم کرنا تھا جہاں مقدونیہ سے لے کر عظیم ہندوستان تک اس کی حکومت کا پرندہ لہرائے۔

اس سے قبل ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے راجا سکندر کی حکمرانی کے تابع ہو چکے تھے مگر راجہ پورس سکندر کی ہندوستان فتح کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر حائل تھا۔سکندر اپن فوج کے ساتھ دریائے جہلم کے کنارے خیمہ زن ہو اتو دریائے جہلم کی دوسری جانب راجہ پورس اس غیر ملکی حملہ آور کو روکنے اور اس کی پیش قدمی روکنے کیلئے تیار اور بے تاب تھا۔

مون سون کا موسم برسات اور دریا کا تیز بہاؤ جہاں سکندر کیلئے راجہ پورس پر حملہ کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا وہیں یہ موسم پورس کیلئے ایک قدرتی دفاع ثابت ہورہا تھا۔سکندر کمال کا جنگجو اور ذہین تھا اس نے اپنی آدھی فوج کو دریا پار کروا کر پورس پر حملہ کردیا ۔راجہ پورس کی فوج یونانی فوج سے تعداد اور وسائل میں زیادہ تھی اور پورس کی فوج کی اصل طاقت وہ دیوہیکل ہاتھی تھے جنہیں جنگ کیلئے خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی۔

یہ ہاتھی زرہ بکتر اور اور ان کے ہاتھی دانت تیز دھار نوکیلے دانتوں میں بدل دیئے گئے تھے۔جو سامنے سے آنے والے کو باآسانی چیڑ پھاڑ دیتے تھے اور جو بچ جائے وہ ان کے پاؤں میں کچلے جاتے تھے۔مضبوط اور موٹی زرہ بکتر ہونے کے باعث ان ہاتھیوں پر تیز دھار تلوار کا حملہ بے سود ہوتا تھا۔یوں یونانیوں کے لئے اس انوکھی فوج سے لڑنا ناممکن لگ رہا تھا۔

یہ دیوہیکل ہاتھی راجہ پورس کی فوج اور دفاع کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔سکندر کی فوج دریا پار کرنے کے بعد گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں ابتدائی طور پر یونانیوں کا کافی جانی نقصان ہوا مگر پھر سکندر کی غیر معمولی جنگی حکمت عملی نے راجہ پورس کی رسالہ اور پیادہ فوج کی کمر توڑدی۔راجہ پورس نے اپنی فوج کی اس پسپائی کے باعث اپنے آخری حربے کے طور پر اپنے خاص ہاتھیوں سے یونانیوں پر حملہ کیا تو سکندر نے ہاتھیوں کو روکنے کا انوکھا حل نکالا۔

زرہ بکتر ہونے کے باعث ہاتھیوں پر تیز تلوار کے حملہ کا اثر نہیں ہوتا تھا۔سکندر نے اپنے تیراندازوں اور سپاہیوں سے ہاتھیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا۔سکندر کے سپاہیوں نے راجہ پورس کے ہاتھیوں کی آنکھیں نکال دیں۔مون سون کی بارش سکندر کے لئے غیبی مدد ثابت ہوئی اور یو ں پورس کے ہاتھی پھسلن اور آنکھیں نکال دئے جانے سے ایسے بدحواس ہوئے کے سامنے کی بجائے پیچھے کا دوڑنے لگے اور پورس کے سپاہی اپنے ہی ہاتھیوں کے تیز دھار ہاتھی دانتوں سے کٹ کٹ کر مرنے لگے اور کچھ ان کے پاؤں کے نیچے آکر کچلے جانے لگے۔

یونانیوں کی جنگی تدبیر کام کر گئی انہوں نے پورس اور اس کی فوج کا محاصرہ کرلیا اور یوں سکندر اعظم پورس کی بڑی فوج کے باوجود اس جنگ میں فتح یاب ہوا راجہ پورس کے وہ دیوہیکل ہاتھی جو جنگی تربیت یافتہ اور زرہ بکتر بھی تھے بدحواسی میں اپنی ہی فوج کو کچل بیٹھے اور ہاتھیوں نے اپنی فوج اور پورس کو وہ نقصان پہنچایا جو مقابل کے ہزاروں یونانی فوجی نہ کرسکے ۔

یوں راجہ پورس کہ یہ ہاتھی دنیا کی تاریخ میں اُلٹی تدبیر اور ناکامی کا استعارہ بن گئے۔آج بھی لوگ اپنی ہی صفوں سے نکل کر اپنی ہی پارٹی یا جماعت کو اپنی بدحواسی اور کم عقلی سے نقصان پہنچائیں تو ان کو راجہ پورس کے انہی حواس باختہ ہاتھیوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے جو اپنی ہی شکست کا باعث بنے۔
نہال ہاشمی مسلم لیگ ن کی صفوں میں موجود ویسے ہی راجہ پورس کے حواس باختہ ہاتھی ہیں جنہوں نے اپنی شعلہ بیانی سے اپنی پارٹی کو زبردست مشکل میں ڈال دیا ہے۔

میرے خیال میں نہال ہاشمی کا شکرادا کرنا چاہیے کیونکہ نہال ہاشمی نے 28 مئی کی اپنی شعلہ بیانی سے مسلم لیگ ن کو وہ ڈینٹ اور نقصان پہنچایا ہے جو شاید تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر بھی نہ پہنچا سکی۔
نہال ہاشمی کر تقریر کے دو پہلو ہیں۔پہلا پہلو تو اس تعفن زدہ خوشامدی اور چاپلوسی کلچر کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اب ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں ”وفاداری“کا معیار بن گیا ہے۔

جو سیاسی کارکن اپنے لیڈر کی اندھا دھند چاپلوسی اور اس کے ہر قوم اور فعل کا دفاع کرے گا وہ اتنا ہی وفادار اور قابل اعتماد سمجھا جائے گا۔یہ اُسی شخصیت پرستی کے کلچر کا عکاس ہے کہ آج مسلم لیگ ن کے اکثر وزیر اور ایم ان ایز اپنے پارٹی لیڈر پر کرپشن کے الزامات کا اندھا دھند دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔پارٹی پالیسیوں اور پارٹی کے نظریات کا دفاع کرنا ہر سیاسی ورکر کا بنیادی آئینی استحقاق ہے مگر کسی خاندان کے کرپشن الزامات کا اس طرح سے دفاع کرنا پوری دنیا میں صرف ہمارے ہاں ہی ہے۔


نہال ہاشمی کی تقریر کا دوسرا پہلو پہلے سے زیادہ افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے تقریر کی تب وہ روزے میں تھے ان کا مخاطب JIT یا عدلیہ نہیں تھی۔یہ کس قدر ڈھٹائی کی بات ہے کہ موصوف روزے کو اپنی جماعت کا ذمہ دار بتاتے ہیں اور اگریہ محال تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ان کامخاطب JIT یا سپریم کورٹ نہیں تھی تو کون ساآئین یا اخلاقیات کا معیار ان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ بچوں کو نشان عبرت بنانے اور زمین تنگ کرنے کی دھمکی دے ڈالیں؟ نہال ہاشمی کو روزے کا اگر اتنا ہی پاس ہوتا تو وہ اپنے اندر تخاطب اور الفاظ میں وہ سختی اور کرختگی ہرگز نہ برتتے۔


ادھر مسلم لیگ ن اور حکومتی نمائندے یہ کہتے ہیں کہ نہال ہاشمی کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے تھا اور نہال ہاشمی اپنے بیان میں عدلیہ یا JIT کو مخاطب کرنے سے صاف مکر گئے ہیں۔مگر ان کی یہ بات سمجھ سے اس لئے بالا تر ہے کہ جو شخص پروفیشنل وکیل ہو اور قانون دان ہونے کے ناطے آئین قانون اور عدلیہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو،مسلم لیگ ن سندھ کا جنرل سیکرٹری ہو ،وزیراعظم کا خصوصی مشیر برائے قانون رہا ہو اور ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے ایوان بالا سینٹ کا فعال ممبر ہو اور میڈیا کی اہمیت سے بھی واقف ہو وزیراعظم کے میڈیا سیل سے بھی منسلک رہا ہو ایسا تجربہ کار اور باخبر سیاسی نمائندہ انجانے میں،ملک کی سب سے بڑی عدالت اور اس کی قائم کردہ JIT کو صاف اور ننگے الفاظ میں دھمکی سے ڈالے یہ ممکن نہیں ہے نہال ہاشمی اپنی تقریر کے متن اور اس کے معانی سے تو اتنے بے خبر تھے کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

اور نہ اتنے بہادر کہ “ذاتی حیثیت“ میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو سرے عام دھمکی دے سکیں اور اس سے ٹکر لے سکیں۔یہ بیان کسی نیم خواندہ،کونسلر لیول کے کسی سیاسی کارکن نے دیا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی تھی نہال ہاشمی کے زبان سے ادا ہوئے یہ لفظ اور یہ لب لہجہ دراصل کسی اور کا پیغام تھا۔زبان صرف نہال ہاشمی کی استعمال کی گئی مرکزی خیال اور الفاظ کسی اور کے تھے۔

اور یہ پہلی بار نہیں ہو اگرہماری قوم کی یاداشت کمزور نہیں ہوئی تو انہیں یاد ہوگاکہ کس طرح اگست 2015 میں مسلم لیگ ن کے ہی سینیٹر مشاہداللہ نے بی بی سی کواپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی چیف جنرل ظہر السلام اسلام آباد ھرنے کے پیچھے تھے اور وہ حکومت گرانا چاہتے تھے مگر جب فوج کا زبردست ردعمل سامنے آیا توان سے موسمیات کی وزات واپس لے لی گئی ۔

آج ن لیگ میں وہ پہلے سے زیادہ معتبر اور مکرم سمجھے جاتے ہیں اور ایک وزارت واپس لیے جانے کے عوض وہ سینیٹر ہونے کہ ساتھ پی آئی بحالی کمیٹی سمیت چار دیگر اہم سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی ہیں۔یوں ان کی یہ تعظیم وتکریم دوسرے ورکرز کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جب تک قیادت اور ان کے کرپشن الزامات کے دفاع میں کسی بھی حد تک نہیں جاتے پارٹی اور حکومت میں کوئی اہم ”پوسٹ“ نہیں ملنے والی۔

کسی دور میں سیاست ایک باوقار اور بااصول لوگوں کا انتخاب ہوا کرتا تھا اور وہ سیاست دان کا لفظ گالی سمجھتے تھے اور خود کو اُیلٹیس مین کہلوانا پسند کرتے تھے۔ مگر اب منافقت ،دروغ گوئی ،شب وستم،تیرابازی کا ایسا بازار گرم ہے کہ ایسی سیاست اور ایسے کلچر سے کراہٹ ہونے لگی ہے۔
جوں جوں JIT اپنی طے کردہ ڈیڈلائن کی طرف گامزن ہے توں توں حکومتی ایوانوں میں بے چینی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی اس پانامہ جدوجہد نے ملک کے سٹیٹس کر ہروہ کاری ضرب لگائی ہے جس کا اس سے قبل تصور بھی محال تھا۔موجودی JIT سے قبل طاقت ورطبقے کا اعلیٰ عدلیہ اور ملک کے اعلیٰ ترین اداروں سے اس قدر تفصیلی اور آزادانہ تحقیقات صرف خواب ہی ہواکرتی تھیں۔ اور یہ ایسی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہے کا اثر ہے کہ حکومتی پارٹی کے اعصاب،ان تحقیقات کا پریشر نہیں برداشت کرپارہے کیونکہ نہ تو وہ ان کے عادی تھے اور نہ ہی توقع کررہے تھے۔

نہال ہاشمی کا 28 مئی کا ”کارنامہ“ اس اعصاب شکن کیس میں حکومتی بے چینی کا واضح ثبوت ہے۔
رہی سہی کسر ججز نے اپنے ریمارکس میں نکال لی جب عدالت نے حکومت کو اٹلی کے شہر سسلی کے بدنام زمانہ سسیلین مافیا سے تشبیہہ دے دی جو مافیا اپنے مخالفین کے اہل خانہ او ر ان کے بچوں کو اغوا اور قتل کرانے میں بدنام تھا۔حکومت نے اس عدالتی تشبیہہ پر بھی غلطی تسلیم نہیں کی اور سادہ کاغذ پر بغیر کسی لیٹر پیڈ اور سٹیمپ کے”گمنام“حکومتی ترجمان کے نام سے مذمتی پریس ریلیز سرکاری ٹی وی پر چلوادی۔

اس غلطی کا بھی جناب چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے جواب طلب کر لیا ہے۔یوں حکومت اور شریف خاندان اپنی اس قانونی جنگ میں زبردست اعصابی دباؤ کا شکار ہے اور غلطی پر غلطی کیے جا رہے ہیں۔جب یہ سطور شائع ہوگی تب تک حکومتی کیمپ کا ایک اہم گلیڈایٹر نہال ہاشمی سپریم کورٹ سے فرد جرم عائد کی جا چکی ہوگی۔کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ اس قانونی جنگ میں حکومتی گلیڈی ایٹرز طلال چوہدری،دانیال عزیز،حنیف عباسی اور طارق فضل چوہدری اور دیگرلوگ نہال ہاشمی کی طرح اعصابی دباؤ میں وہی غلطی کر جائیں کہ نتائج راجہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح اپنی ہی حکومت اور ن لیگ کی ساکھ کو روند کر رکھ دیں ن لیگ کا 1997ء میں سپریم کورٹ پر حملہ بھی لوگ بھولے نہیں۔

اپوزیشن کو پنولین بونا پارٹ کا وہ شہرہ آفاق قوم پھر سے یاد دلادیں کہ
”جب دشمن غلطی کرے تو اُسے روکو مت اُسے غلطی کرنے دو!“

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Nehal Hashmi Aur Raja Poras K Hathi is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 June 2017 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.