آئی ایم ایف کی پاکستانی سلامتی پر کاری ضرب

خود غرض مغرب کے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نجات کب ملے گی

بدھ 15 دسمبر 2021

محمد عبداللہ حمید گل
ہمارے وزیراعظم عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑے خوشنما،دلفریب وعدے کئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔افسوس!پی ٹی آئی نے بھی حسب سابق اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ حکومتوں کی طرح قرضوں کا سہارا لے لیا۔حسب عادت یوٹرن لیا اور جس طرح آئی ایم ایف کے احکامات کی تابعداری کی انہوں نے غلامی میں پچھلی تمام حکومتوں کے ریکارڈ ہی توڑ ڈالے۔

جس سے وطن عزیز کی خوشحالی و ترقی کی بجائے معاشی تنزلی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ایسے میں ہر پاکستانی یہ سوال کرنے پر حق بجانب ہے کہ ”تبدیلی“ اور ”ریاست مدینہ“ کے نام پر عوام کو کیوں بے وقوف بنایا گیا،اس کا ذمہ دار کون ہے اور کیا موجودہ حکومتی ٹیم میں معیشت چلانے کی صلاحیت سے عاری ہے؟،حکومتی ناقص معاشی پالیسیوں کی سزا عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔

(جاری ہے)

حالیہ دنوں میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین کا آئی ایم ایف سے معاہدے طے پانے اور تمام شرائط تسلیم کرنے کا بڑے فخریہ انداز میں اعلان بھی سامنے آیا۔350 ارب روپے کے سیلز ٹیکس کی چھوٹ سمیت پٹرول،بجلی و گیس کی مد میں سبسڈی کا خاتمے کے عوض آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر قرض کی اگلی قسط جاری کر دی جائے گی۔

ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر معاہدہ کی بنیاد پر ابھی اس کی جانب سے صرف دو ارب ڈالر ہی مل پائے ہیں اور قرض کی تیسری قسط کی ادائیگی کے لئے نئی عائد کردہ شرائط کی بنیاد پر عوام پر مزید مہنگائی مسلط کر دی گئی ہے۔
پٹرولیم ایسوسی ایشن کی ہڑتال سے پٹرول 200 روپے لیٹر تک فروخت ہوتا رہا۔چینی 155 روپے کلو تک جا پہنچی۔آٹا کا بحران پیدا کرکے مہنگائی کی چکی میں پستی ہوئی عوام سے اربوں لوٹ لئے۔

حکومت بتائے کہ عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟۔حکومتی ستم در ستم،ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ضمنی بجٹ لانے کی تیاریاں دراصل پہلے سے بدحال مفلسی کی ماری ہوئی عوام کو عملاً زندہ در گور کر دینے کا عندیہ ہے۔تاہم مذکورہ معاہدے کا سیدھا سادہ اور واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اپنی خود مختاری،سالمیت،اپنی خودی،قومی آزادی کا سودا کرتے ہوئے وطن عزیز کو عالمی ساہو کار کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔

اب ہماری پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی آئی ایم ایف کی ہدایت پر ہو گی،قومی مالیاتی اداروں کی رپورٹیں بھی اس کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہونگے اور بجٹ سمیت معاشی پالیسیوں میں ردو بدل کی منظوری نا منظوری کا دارومدار بھی اسی ادارے کی منشاء کے مطابق ہو گا۔چنانچہ حاکم وقت سے سوال تو بنتا ہے کہ پھر ہم کہاں کے آزاد ہیں؟۔
پاکستان نے پہلی بار 1958ء میں آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلایا جب ایک ڈالر تین روپے کا تھا۔

تب سے لے کر پاکستان 22 بار آئی ایم ایف سے قرضہ لے چکا ہے۔پاک بھارت 1965ء جنگ کے بعد جب ملکی بیرونی امداد بند ہوئی تو ڈالر 7 روپے کا ہو گیا۔مگر اس دوران بھی پاکستان کے مالی حالات بہتر تھے اور قرضی کی ادائیگی ہو سکتی تھی۔ایوب خان کے زمانے میں ہر پاکستانی پر صرف 60 روپے کا قرض تھا۔آج ہمارا ہر شہری یہاں تک کہ نوزائیدہ بچہ بھی ایک لاکھ 82 ہزار سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔

لیگی حکومت کے دور میں قرضوں کے بوجھ میں 15 ہزار 561 ارب روپے کا اضافہ ہوا،پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں قرضوں میں 8 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ مشرف کے 9 سالہ دور میں قرضوں میں 3 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔موجودہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان جولائی 2018ء سے 2021ء تک قرضوں کی ادائیگی اور معاشی ترقی کے نام پر 33 ارب ڈالر قرض لے چکی ہے۔

جس سے شرح نمو کم ہونے اور ملک کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 2024ء تک ملک کا مجموعی اندرونی اور بیرونی قرض 45 ہزار 573 ارب روپے ہو جائے گا۔اگرچہ چین،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات سے بھی اربوں ڈالر کے بیل آؤ پیکج ملے جن کی بنیاد پر قومی معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے گئے۔
آئی ایم ایف کے قرضوں کی تین اقساط کی تین ارب ڈالر کی وصولی کے باوجود بقول ہمارے وزیراعظم ”ملک چلانے کے لئے پیسہ نہیں“۔

جب کورونا جیسی مشکل گھڑی میں برادر سعودی عرب،چین اور متحدہ عرب امارات نے ہمارے ساتھ بے لوث دوستی کا حق ادا کیا،مجموعی 12،ارب ڈالر کے قریب بیل آؤٹ پیکجز کے ذریعے ہماری معیشت کو سنبھالنے کیلئے معاونت کی۔پھر ہمیں خود غرض مغرب اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں پر تکیہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہمارے سامنے ایک راستہ تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور امریکہ کے سامنے مکمل سرنڈر کی راہ اپنا لیں،ایٹمی صلاحیت ختم کرنے پر رضا مند ہو جائیں،اپنی خارجہ پالیسی امریکہ کے تابع کر لیں،جہاد کشمیر ختم کرنے میں امریکہ اور بھارت کا ہاتھ بٹائیں،یہ راستہ اختیار کرنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے عقیدے،نظریے اور آزادی سے محروم ہونا قبول ہے۔

دوسرا آبرو مندانہ آپشن یہ ہے کہ ہم قرضے ادا کرنے سے انکار کر دیں،اقتصادی دانش وروں کے مطابق اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا،برآمدات نہیں ہوں گی،یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ ہماری برآمدات ختم ہو جائیں گی۔
برآمدات کا سلسلہ چین،افغانستان،ایران اور دیگر اسلامی اور عرب ممالک سے جاری رہ سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے۔ہم ایران سے سستا تیل لے سکتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ڈیفالٹ کرنے والا پاکستان پہلا ملک نہیں ہو گا۔لاطینی امریکہ کے 16 ممالک ڈیفالٹ ہو چکے ہیں۔ارجنٹائن،برازیل اس کی بڑی مثالیں ہیں۔جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔پاکستان اپنے ذمہ واجب الادا قرضے واپس نہ کرنے کی وجہ سے ایک ایسے دلدل میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنے کی تدبیر نہ کی گئی تو خدانخواستہ ملکی سلامتی خطرے میں پڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

IMF Ki Pakistani Salamti Par Kari Zarb is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 December 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.