نیا بلدیاتی نظام ”یک جماعتی“ مفادات کا آئینہ دار

پبلک‘پرائمری ہیلتھ اور تعلیم کے شعبے آئندہ سے سندھ حکومت ہی چلایا کرے گی

پیر 27 دسمبر 2021

آر ایس آئی
ایک بات تو ہم سب،پہلے ہی سے بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ چونکہ سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیپلز پارٹی کو غیر معمولی برتری اور واضح اکثریت حاصل ہے اس لئے اپوزیشن جماعتیں چاہے جتنا شور شرابا کر لیں یا سندھ اسمبلی کو گھیرے میں لے کر اس کے داخلی و خارجی راستے عارضی طور پر بند کروا دیں،یا چاہے احتجاجی سیاست سے آسمان ہی کیوں نہ اپنے سر پر اُٹھا لیں بہرحال نیا بلدیاتی قانون،پیپلز پارٹی اپنی مرضی،منشا اور مستقبل کے سیاسی اہداف کو پیش نظر رکھ ہی بنائے گی لیکن سندھ اسمبلی سے منظور کیا جانے والا نیا بلدیاتی قانون اس درجہ ”یک جماعتی“ مفادات کا آئینہ دار ہو گا کم از کم ایسی توقع ہر گز کسی کو پیپلز پارٹی جیسی جمہوری جماعت سے نہ تھی،کہنے کو تو بلدیاتی قانون میں کی گئی تمام ترامیم سندھ کی عوام کو پہلے سے زیادہ بااختیار اور طاقتور بنانے کیلئے کی گئی ہیں مگر حقیقت میں نئے بلدیاتی قانون کے تحت انعقاد پذیر ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد بلدیاتی اداروں اور ان میں متمکن ہونے والے افراد کی اہمیت و حیثیت پرکاہ برابر بھی نہیں رہے گی عین ممکن ہے کہ اس نئے بلدیاتی قانون کی روشنی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کھڑا کرنے کے لئے صوبہ بھر میں کسی سیاسی جماعت بشمول پیپلز پارٹی کو سرے سے امیدوار ہی نہ ملیں کیونکہ بلدیاتی قانون میں نئی ترامیم کے تحت بلدیاتی اداروں کو حاصل بنیادی نوعیت کے اختیارات اور ذمہ داریاں بھی حکومت سندھ خود اپنے ذمہ لے لی لیں ہیں،آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ سندھ کے نئے بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے تحت صوبے میں نافذ العمل بلدیاتی نظام کی پوری ہیت کذائیہ کو یکسر تبدیل کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

نئے قانون کے تحت ضلع کونسل ختم کرکے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن قائم کی جائیں گی جبکہ میونسپل ٹاؤن کی آبادی ایک لاکھ 25 ہزار تک ہو گی اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی حدود میں کوئی دیہی علاقہ شامل نہیں ہو گا نیز نئے بلدیاتی قانون میں میٹرو پولیٹن سسٹم میں اضلاع کا پرانا نظام ختم کرکے ٹاؤن نظام متعارف کرایا گیا ہے جس میں اب میئر،ڈپٹی میئر کا انتخاب شو آف ہینڈ کے بجائے خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا یعنی ٹاؤن میونسپل کونسل کے ارکان اپنے ساتھیوں میں سے ہی میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کر سکیں گے علاوہ ازیں بلدیاتی اداروں کی مدت میعاد،حلف اُٹھانے سے لے کر 4 سال تک ہو گی اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی آبادی 50 لاکھ تک کر دی جائے گی۔


بلدیاتی قانون میں ترمیم کرکے کراچی سے ڈسٹرکٹ کونسل کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اب ڈسٹرکٹ کونسل کی جگہ ٹاؤن میونسپل کمیٹیاں ہوں گی المیہ ملاحظہ ہو کر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج،عباسی شہید ہسپتال سوبھراج ہسپتال،لیپروسی سینٹر،سرفراز رفیقی سینٹر جیسے اہم طبی ادارے بھی بلدیہ عظمی کراچی یعنی کے ایم سی سے لے کر سندھ حکومت کے حوالے کر دئیے گئے ہیں نیز پیدائش اور اموات کے رجسٹریشن سرٹیفیکیٹس کا کام بھی بلدیاتی اداروں سے واپس سندھ حکومت کو فراہم کر دیا گیا ہے جبکہ نئے قانون کے تحت بلدیاتی ادارے صحت اور تعلیم کے کسی بھی شعبے میں کوئی ادنی سی خدمات بھی انجام نہیں دے سکیں گے اور پبلک ہیلتھ،پرائمری ہیلتھ کے شعبے بھی آئندہ سے سندھ حکومت ہی چلایا کرے گی علاوہ ازیں تمام بڑے ہسپتالوں کے علاوہ،ڈسپنسریز،میڈیکل ایجوکیشن اور فرسٹ ایڈ جیسے چھوٹے موٹے عوامی خدمات کے اداروں کو بھی بلدیاتی اداروں کی دسترس سے باہر کر دیا گیا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرنک کے قوانین بنانا اور ایسے اداروں کی رجسٹریشن کرنے کے اختیارات بھی چھین لئے گئے ہیں اور آئندہ سے بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والا طبی عملہ بھی مکمل طور پر سندھ حکومت کے ماتحت آگیا ہے اب آپ سوچ رہے ہوں گے آخر پھر بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے عوامی نمائندے کریں گے کیا؟تو جناب عرض یہ ہے کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی قانون میں اگلی نئی ترمیم آنے تک پبلک ٹوائلٹس کو مکمل طور پر بلدیاتی نمائندوں کے زیر انتظام رکھنے کا فیاضانہ فیصلہ کیا ہے،واضح رہے کہ سندھ بھر میں نافذ العمل ہونے والے نئے بلدیاتی قانون کو پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول وفاقِ پاکستان نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے سندھ حکومت کے بلدیاتی نظام کو عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ”وہ اس سلسلے میں دائر پٹیشن کی جلد سماعت کرے کیونکہ سندھ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے جبکہ تحریک انصاف سندھ میں اس قانون کیخلاف تحریک بھی چلائے گی۔کراچی کو اس کا حق دلائیں گے ظلم نہیں ہونے دیں گے۔
سندھ حکومت کے نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے کراچی کی عوام کو رہے سہے اختیارات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے“۔

مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی حیران کن طور پر نئے بلدیاتی قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پیپلز پارٹی کا وفاق میں اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے۔وفاق میں یہ فیڈریشن کی بات کرتے ہیں صوبے میں یہ عوامی و جمہوری حقوق سلب کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اختیارات پر حملہ کیا ہے مزید اختیارات ختم کر دئیے ہیں۔

پیپلز پارٹی شہریوں کے حقوق پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے“جبکہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا اس بلدیاتی قانون کے متعلق کہنا تھا کہ ”سندھ میں فنڈز کی تقسیم این ایف سی کی بنیاد پر ہونی چاہئے لیکن پہلے سب کی نیت صاف ہونی چاہئے۔ن لیگ کے دور حکومت میں میں فیڈرل ٹیکس ریونیو ڈبل ہوا تو صوبے کو زیادہ پیسہ ملا مگر سمجھ نہیں آتا کہ اندرون سندھ میں پیسہ کہاں لگ رہا ہے اگر کراچی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو کہیں تو پیسہ لگے“۔

یاد رہے کہ وفاقی سیاست میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی حلیف ہیں لیکن نئے بلدیاتی قانون نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف سیاسی مہم جوئی میں شامل ہونے کا سنہرا موقع فراہم کر دیا ہے دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی قانون میں ہونے والی ترامیم کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر کوئی متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا مگر سچ تو یہ ہے کہ آنے والے انتخابات سندھ اسمبلی سے منظور شدہ نئے بلدیاتی قانون کے تحت ہی منعقد ہوں گے کیونکہ جو سیاسی جماعتیں بلدیاتی اداروں کی بحالی کے نام پر پیپلز پارٹی کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں اصولی طور پر تو وہ بھی بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے اور بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کی سخت مخالف ہی ہیں اس لئے ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام کے بجائے بالکل دیہاتی نظام کے پھلنے پھولنے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Naya Baldiyati Nizaam Yak Jamaati Mufadat Ka Aaina Daar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 December 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.