نصاب تعلیم میں پاکیزہ زندگی کے عنوان سے مواد کی شمولیت

اس وقت صوبے بھر میں تقریباً باون ہزارسرکاری اور ایک لاکھ کے قریب پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیں تما م سکولوں میں ہمارے بچوں کو تعلیم تو دی جا رہی ہے لیکن ان کی تربیت کا کوئی بندو بست نہیں ہے۔

جمعہ جنوری

Nisab e Taleem Mian Pakeeza Zindagi K Unwan Se Mawad Ki Shamooliat
عنبرین فاطمہ:
اس وقت صوبے بھر میں تقریباً باون ہزارسرکاری اور ایک لاکھ کے قریب پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیں تما م سکولوں میں ہمارے بچوں کو تعلیم تو دی جا رہی ہے لیکن ان کی تربیت کا کوئی بندو بست نہیں ہے ۔جس کی وجہ سے معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں قصور میں پیش آنے والا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یہ واقعہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے اس طرح کے واقعات آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن آج تک ان کی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر ٹھوس پالیسی سامنے نہیں آسکی۔

یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں اس کی بڑھتی ہوئی شرح تشویشناک ہے۔

(جاری ہے)

زینب کے ساتھ جو ہولناک واقعہ پیش آیا اس کے بعد گڈ گورننس پر انگلیاں تو اٹھیں لیکن یہ مطالبہ بھی زور پکڑ گیا کہ بچوں کے نصاب میں اس جرم کے حوالے سے آگاہی اور حکومت کی طرف سے دیگر اقدامات کئے جائیں اور یہ مطالبہ جائز اور وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔

اسی چیز کو دیکھنے ہوئے گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت میں صوبائی وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جوکہ نصاب میں معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور آگاہی کے لئے مواد مرتب کرے گی لہذا اس کمیٹی کے اجلاس کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ نصاب میں پاکیزہ زندگی کے عنوان سے مواد نصاب میں شامل کیا جائیگا۔

مہذب معاشرے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت تعلیمی نصاب کے ذریعے کرتے ہیں وہ تعلیم کیساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا موادنصاب میں شامل کر کے بچوں کو معاشرتی برائیوں سے آگاہی دیتے ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں ان تمام برائیوں سے آگاہی مل جاتی ہے جس سے وہ بچ کر اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جنسی تشدد جیسی دیگر برائیاں جنم لے رہی ہیں یہ وہ برائیاں ہیں جو معصوم بچوں کی زندگی پر اثر ڈالتی ہیں ،ہمیں ان کا تدارک کرنے کے لئے ماہر تعلیم اور علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کربھی ان سے بھی مشاورت لینے کی ضرورت ہے جو کہ مہذب انداز میں شائستہ الفاظ میں نصاب میں ایسی چیزیں شامل کرنے کی تجویز دیں کہ جن سے بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو آگاہی بھی مل سکے۔

بچے گھر کے بعد اگر سب سے زیادہ وقت کہیں گزارتے ہیں تو وہ ہیں ان کے تعلیمی ادارے ،پانچ سے چھ گھنٹے اساتذہ کے پاس تعلیم حاصل کرتے ہیں لہذا اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ا نکی اخلاقی تربیت بھی کریں اور انہیں معاشرتی برائیوں سے آگاہ کریں، ارد گرد کے ماحول کے بارے بھی بتائیں تاکہ بچے ان برائیوں سے بچ کر اپنی زندگیاں گزار سکیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں والدین کے لئے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینا اور اچھی تعلیم کا بندوبست کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے وہ اسی سوچ میں مبتلا رہتے ہیں کہ بچوں کا پیٹ کیسے پالیں ،کیسے مکان کا کرایہ دیں کس طرح سے ان کی بہترین تعلیم کا بندوبست کریں ،اسی چکر میں دونوں روزگار کی تلاش کے لئے گھر سے نکلتے ہیں بعد میں بچے اہل محلہ کے کرم پر ہوتے ہیں ،اب وقت ہے کہ والدین دیکھیں کہ جس محلے میں وہ رہ رہے ہیں وہاں اردگرد کا ماحول کیسا ہے ہماری غیر موجودگی میں بچے کہاں اور کس کے پاس رہیں گے ،وہاں کے لوگوں کا برتاؤ اور رویہ کیسا ہے ایسے لوگ تو نہیں رہتے کہ جو کہ معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہیں۔

اگر ایسے حالات ہیں تو والدین کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اپنے بچے کو ان معاملات سے کیسے دور رکھنا ہے۔اب جبکہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نصاب میں بچوں کی آگاہی کے لئے پاکیزہ زندگی کے عنوان سے مواد شامل کرنا ہے تو پھر یہ عملی طور پر نظر بھی آنا چاہیے خبروں کی حد تک باتیں نہیں رہنی چاہیے ، حکومت کو چاہیے کہ فوری طور عملی اقدامات کرے سکولوں کو یہ مواد مہیا کیا جائے ،سکولوں میں اس حوالے سے تقریری مقابلے کروائے جائیں اورآگاہی کے نقطہ نظر سے نمایاں جگہوں پربینرز لگائے جائیں۔

جہاں بچے اپنے نصاب میں اس کو پڑھیں وہیں ان کے والدین تک بھی یہ چیزیں پہنچائی جائیں تاکہ وہ بھی اس سے آگاہی حاصل کرکے اپنے بچوں کو معاشرتی برائیوں سے بچاسکیں۔جس طرح سے مطالعہ پاکستان میں حقوق نسواں کا ایک چیپٹر شامل کیا گیا تھا اسی طرح سے پاکیزہ زندگی کے نام سے ایک چیپٹر اسلامیات ،مطالعہ پاکستان یا اردو کے مضمون میں شامل کیا جائیگا۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے اساتذہ کو جہاں درس و تدریس کے طریقہ کار سکھائے جاتے ہیں وہیں اساتذہ کوبچوں کی نفسیات کے حوالے سے مضامین پڑھائے جائیں ان کی ٹریننگ کی جائے تاکہ وہ بچوں کی نفسیات سمجھتے ہوئے ان سے ڈیل کریں انکو سمجھائیں، ان کے مسائل حل کریں۔ اساتذہ کے ساتھ علماء کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ جب بچے اور بڑے ان کے پاس مساجد میں آتے ہیں وہ ان کو ایسے معاملات کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں آگاہی دیں۔

اس وقت ملکی سطح پر ایک بڑی بحث جاری ہے کہ بچوں کو آگاہی کے حوالے سے نصاب میں ایسی چیزیں شامل کی جائیں کہ جن سے بچوں کی اخلاقی تربیت ہو لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ یہ کہہ رہا ہے کہ ان معاشرتی برائیوں سے آگاہی کے حوالے سے مواد نصاب کا حصہ بنایا گیا تو بچے تجسس کا شکار ہو جائیں گے کہ یہ کیا چیز ہے اور ہمیں اس کے بارے میں کیوں تربیت دی جا رہی ہے لہذا ان کا بہکنے کا زیادہ خطرہ ہو گا۔

حکومت کو سرکاری سکولوں کیساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولوں کو بھی پابند کرنا ہو گا کہ وہ اپنے نصاب میں ایسا مواد شامل کریں کہ جس سے بچوں کی اخلاقی تربیت کا بندوبست ہو سکے اکثر پرائیویٹ سکولوں میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اساتذہ کی سالانہ کیا ماہانہ ٹریینگ نہیں کی جاتی ہے ان چیزوں پر بھی غور کرنا ہو گا ،دوسرا یہ کہ تعلیم جیسے حساس شعبے میں اساتذہ بھرتی کرنے سے قبل کے ان کے فیملی بیک گراؤنڈ اور ان کے اپنے کنڈکٹ کے حوالے سے رپورٹ بھی ضرور لی جانی چاہیے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Nisab e Taleem Mian Pakeeza Zindagi K Unwan Se Mawad Ki Shamooliat is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 January 2018 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.