پی آئی اے کا بیڑہ آر پار

کیا یہ پی آئی اے کے اپنے لوگ ہیں یا خفیہ ہاتھ جو اس ادارے کی نئی اٹھان کے مخالف ہیں۔یہ نجکاری والا ایشو تو صرف ایک بہانہ لگتاہے، نجکاری کے فوائد اور نقصانات اپنی جگہ پر مگر کیا اس بحث کا فیصلہ سڑکوں پر کیا جانا چاہئے

جمعرات فروری

PIA Ka Bera Gharaq
اسد اللہ غالب:
پی آئی اے میں گھرپھونک تماشہ دیکھ والا تماشہ لگا ہوا ہے۔کراچی ایئر پورٹ ایک بار پہلے بھی میدان جنگ بنا تھا۔ تب دہشت گردوں نے اس پر حملہ کیا تھا اور نجانے کتنے لوگوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا گیاتھا، اس قدر حساس علاقے میں گھسنے کے لئے دہشت گردوں کو لازمی طور پر اندرکھاتے کسی کی مدد حاصل ہو گی، یہ ا یئر پورٹ آج دو فروری کو پھر دھواں دھواں ہوا، اب ایک طرف سیکورٹی ادارے تھے ا ور سامنے بظاہر پی آئی کے کارکن جو اس ادارے کا پہیہ جام کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ملک کے وزیر اعظم نے ایک فرمان کے ذریعے پی آئی اے میں ہڑتال، احتجاج وغیرہ کو ممنوع قرار دے دیا تھا مگر اس حکم کو کوئی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھا۔

جو ہوا برا ہوا۔
یہ ادارہ برسوں کے بعد اپنے پاوٴں پر کھڑ اہونے کی کوشش کر رہا تھا، ملکی فضاوٴں میں ہوائی جہازوں کے جیٹ انجنوں کا شور گونجنے لگا تھا۔

(جاری ہے)

شجاعت عظیم ایک فرد کا نام ہے مگر وقت نے ثابت کیا یہ تو ایک عزم ، ایک حوصلے اور ایک مشن کے مترادف ہے۔ مجھے ایک بار پھر اپنے دوست طارق عظیم یادآئے جو کینیڈا میں سفارت کے منصب پر فائز ہیں، انہیں اپنے بھائی کی کارکردگی خاک میں ملتے دیکھ کر دلی قلق پہنچا ہو گا مگر وہ اس قدر دور بیٹھے بے بس تھے مگر شجاعت عظیم حالات اور سازشوں کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے رہے، ان کے جو بس میں تھا ، وہ کر گزرے اور پی آئی اے کی روایتی آن بان ا ور شان کے احیا کے لئے انہوں نے کوئی دقیقہ فرگزاشت نہیں رہنے دیا۔


مگر اب نقشہ کچھ اور ہی ہے اور نقشے کو بگاڑنے کا جتن کرنے والے کون ہیں، کیا یہ پی آئی اے کے اپنے لوگ ہیں یا خفیہ ہاتھ جو اس ادارے کی نئی اٹھان کے مخالف ہیں۔یہ نجکاری والا ایشو تو صرف ایک بہانہ لگتاہے، نجکاری کے فوائد اور نقصانات اپنی جگہ پر مگر کیا اس بحث کا فیصلہ سڑکوں پر کیا جانا چاہئے یا مذاکرات کی میز پرساری ہنگامہ آرائی کا مقصد کچھ اور لگتا ہے اور وہ یہ کہ جواچھا کام ہو چکا ہے، ا سے ملیا میٹ کر دیا جائے اور مزید اچھے کاموں کے رستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں ۔


یہ اچھے کام کیا تھے، کوئی ایک ہو تو بتاوٴں، درجنوں کے حساب سے ہیں،اسی کراچی ایئر پورٹ ہی کو لے لیجئے،ا س کا ناک نقشہ تبدیل ہو گیا ہے، اسلام آباد ایئر پورٹ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگیا ہے، اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کا پچاسی فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے، گوادر ایئر پورٹ کی اپ گریڈیشن پر دن رات کام جاری ہے، اسے اقتصادی راہداری کا حصہ بننا ہے۔

کوئٹہ ایئر پورٹ کا حلیہ تبدیل کر دیا گیا ہے، فیصل آباد میں اتنی سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں کہ ا ب یہاں سے پروازیں مدینہ منورہ جا رہی ہیں، شجاعت عظیم کا یہی ایک کام ان کی بخشش کے لئے کافی ہے، مگر ان کے کام نہیں بلکہ کارنامے اور بہت سارے ہیں۔ لاہور ، کراچی میں جدید آلات نصب کر دیئے گئے ہیں تاکہ دھند کی صورت میں پروازیں آتی جاتی رہیں۔

ملک میں پرانے موسمیاتی راڈارز کی جگہ جدید تریں راڈار نصب کئے گئے ہیں۔ بدین میں نصب کیا جانے والا راڈار سیلاب کی پیشگی خبر دے گاا ور گلگت چترال میں نصب راڈار گلیشیئرز کے پگھلنے پر نظر رکھیں گے۔ہوائی اڈوں کی سیکورٹی نظام میں اصلاحات عمل میں لائی گئی ہیں اور اب ایک میجر جنرل اس ادارے کو چلانے کے لئے موجود ہے ۔ پی آئی اے کے بیڑے میں نئے جہاز شامل کئے گئے ہیں، پرانے جہازوں میں سہولتیں بڑھائی گئی ہیں۔

اور سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ ادارے کے نقصانات پر قابو پا نے کے لئے فضول اخراجات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔بھلا ان اصلاحات کو وہ لوگ کیسے ہضم کر سکتے ہیں جو گھر بیٹھے بڑی بڑی تنخواہیں لینے کے عادی ہیں۔دنیا کی دیگر ہوائی سروسز پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ پی آئی اے میں کس قدر فالتو اور غیر ضرور ی بھرتیاں کی جا چکی ہیں، یہ لوگ اس ادارے کے لئے سفید ہاتھی ثابت ہو رہے ہیں۔

ماضی میں جس حکومت کا جی چاہا، اپنے چہیتوں کو اس میں بھرتی کا لفافہ دے دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ا دارہ اپنے ہی بوجھ تلے دب گیا اور اس کے لئے معمول کا سانس لینا بھی نا ممکن ہو گیا، موجودہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ اس بوجھ کو کم کیا جائے، ادارے کی کارکردگی کو بڑھایا جائے اور اسے منافع بخش بنانے کے لئے ا نتظامی شراکت دار تلاش کئے جائیں۔آپ اسے نجکاری کہہ لیں یا درد مندی کا نام دے لیں۔

حکومت کی کوشش یہ ہے کہ اس ادارے کا حال اسٹیل مل والا نہ ہو کہ جسے چلانے والا ہی کوئی نہ ملے اور یہ بند پڑا ہو۔
پی آئی اے ایسی تو نہ تھی جیسی بنا دی گئی ہے اور اسے اوپر اٹھانے میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ اس ایئر لائن کا موٹو تھا کہ ہم نے دنیا کو اڑنا سکھایا۔ اب یہ خود لولی لنگڑی ہوتی جا رہی تھی، شجاعت عظیم نے اس بد عملی اور رجعت قہقری کے سامنے بند باندھا۔

مگر اس کے پر کاٹنے کے لئے نجکاری کا بہانہ بنا کر خون خرابہ کروا دیا گیا ہے، اس المئے پر ذرا بھر کسی کو خوشی نہیں، ہر جان قیمتی ہے اور ناحق اموات پر ہر کسی کو دلی افسوس ہے مگر لاشوں تک نوبت لانے والوں کو بھی کچھ خیال ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسی صورت پیدا کرنے سے اجتناب کریں جہاں ریاست سے ٹکرآ ہو جائے۔اس المئے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمے داروں کو سخت سزا ملنی چاہئے۔

عمران خان کو تو موقع ملنا چاہئے ، وہ تاک لگائے بیٹھا رہتا ہے، کراچی کے تازہ المئے پر اس نے فوری سیاست کا آغا زکر دیا ہے ا ور چھ فروری کا دن ہڑتالیوں سے یک جہتی کے ا ظہار کے لئے مختص کر دیا ہے۔ابھی اور سیاسی عناصر بھی اس المئے کا فائدہ اٹھانے کے لئے میدان مں کو دسکتے ہیں مگر یہ سب لوگ پی آئی اے کی مسلسل بربادی کے عمل پر خاموش رہے ا ور پچھلے دو سال کے اندرا س ا دارے کو نئی زندگی دینے پر ان کے منہ سے ایک بھی حرف ستائش نہ نکل سکا۔

جماعت اسلامی نے چار فروری کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے، وہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ریلوے کا پہیہ جام کرنے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔پیپلز پارٹی بھی حالات کا فائدہ اٹھانے کے لئے پر تول رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے خلاف کاروائی ہو گی، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں ہڑتالیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔پی آئی اے میں گھر پھونک تماشہ دیکھ والا تماشہ لگا ہے۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ گھر والے ہی اس ادارے کوتہس نہس کرنے پر تلے یٹھے ہیں۔نہ اس ادارے کو انہوں نے خود چلایا ، نہ کسی دوسرے کو چلانے دے رہے ہیں، شاباش کے مستحق ہیں یہ لوگ !!

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

PIA Ka Bera Gharaq is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 February 2016 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.