قصور وار کون؟؟؟

کوئی ایک نہیں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو آئے دن معاشرے کے رویوں سے تنگ آکر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لیتے ہیں اور یہ حقیقت ہے جب مرد میں عورت کی روح ہو تو زندگی تماشا دنیا کا ہاسا بن جاتی

فیضی ڈار اتوار اکتوبر

qasoor war kon?
آج پھر سے ایک معاشرے اور ماں کی محبت نے مل کر جوان اکلوتے بیٹے کی جان لے لی...معمول کے مطابق ڈیوٹی کے دوران ایک گھر سے ایمرجنسی کال پر ایمرجنسی ڈیل کرنے کے لئے روانہ ہوئے... مریض تک پہنچے... جہاں پر ایک نوجوان لڑکی سر کو پکڑے ایک سائیڈ پر لیٹے رورہی تھی. چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت زیادہ ٹیشن کا شکار ہیں. لڑکی کے بھائی کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ گھریلو پریشانی کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی جو کہ اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پریشان کھڑا تھا...
لڑکا بتانا چاہتا تھا مگر شاید مگر مناسب نہ سمجھتے ہوئے اگنور کردیا.... باہر آکے لڑکے کو حوصلہ دیا اور کہا کہ پریشانی والی کوئی بات نہیں صرف انہوں نے بہت زیادہ ٹینشن لی ہوئی ہے جیسے آپ ہی حوصلہ دے کے ختم کرسکتے ہیں.....اتنا کہنا تھا کہ لڑکے نے بتانا شروع کردیا.
میری بہن کو طلاق ہوگی ہے اور خاوند نے خودکشی کرلی ہے جو یہی پریشانی لے رہی ہے...بھائی کی بات نے عجیب سی الجھن میں ڈالا اور پوچھنے پر مجبور کیا کہ طلاق اورخودکشی ایک ساتھ کیسے جس پر اس نے کہا کہ انکا خاوند نامرد تھا رشتہ ہونے پر ہمیں نہیں بتایا گیا جب شادی ہوگئی تو بہن نے امی کو بتایا تو امی غصے میں ان کے گھر گئی اور جھگڑا کیا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیوں کیا جس پر دونوں گھروں میں کافی تلخ کلامی ہوئی اور بات محلے کے بڑے چوہدریوں تک پہنچی جس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ واقعی لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی یہ بات اسکا خاوند برداشت نہ کرسکا اور زہر کھا کر جان دے دی.... یہ اسکی موت کا خود کو زمہ دار ٹھہراتی ہے....
لڑکے کی ماں کو پتہ تھا کہ اسکا بیٹا بچپن سے ہی نامرد کے لیکن لوگوں کی باتوں اور معاشرے کے ڈر سے ماں نے بات چھپوائی اور شادی کروا دی اور لڑکی کو یہ بھی کہا کہ اسے ہر چیز ہر حقوقِ ملے گا زمین بھی اسکے نام کروائے گے وہ کسی کو نا بتائے...لیکن........یہ سب سننے کے بعد میرے پاس کچھ الفاظ نہیں تھے مجھے خود سمجھ نہیں آرہی تھی تسلی کس کو دوں قصور کس کا ہے اس لڑکی کا جیسے جوانی میں ہی طلاق ہوگی...یا اس ماں کا جسکا اکلوتا بیٹا دنیا سے چلا گیا... اس لڑکی کی ماں کا جو اپنی بیٹی کو ساری عمر کے لئے ایسے شخص کے لئے نہیں چھوڑ سکتی تھی اور بیٹی لینے چلی گئی یا اس لڑکے کی ماں کا جو بیٹے کی محبت میں اتنا بڑا جھوٹ بولنے اور اسکی سزا لے چکی تھی؟؟؟؟
یا پھر اس معاشرے کا جو اسے مرد ماننے سے انکار کررہی اور طرح طرح کی باتیں بنا رہا تھا؟؟ ایسا کوئی ایک نہیں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو آئے دن معاشرے کے رویوں سے تنگ آکر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لیتے ہیں اور یہ حقیقت ہے جب مرد میں عورت کی روح ہو تو زندگی تماشا دنیا کا ہاسا بن جاتی۔

(جاری ہے)

ایسے مرد جبلتا نسوانیت سے بھرپور ہوتے، نزاکت اور شرافت کا مظہر۔ معاشرہ تو دور کی بات والدین اور بہن بھائی ان سے بے زار ہوتے۔ انکا کوئی دوست نہیں ہوتا کوئی ہم درد کوئی خیرخواہ نہیں۔ کیونکہ مخالف جنس کی روح لئے یہ مرد چوکوں بازاروں میں خواتین کو تاڑتے نہیں، جملے نہیں کستے، تصاویر زوم ان کرکے نہیں دیکھتے، ہوس زدہ نگاہوں سے دیکھتے نہیں۔

اور نامردانگی کی اس توہین کی سزا آخری سانس تک پاتے ہیں۔ کبھی کوئی نہیں سوچتا امر بی ہے اللہ کا فیصلہ ہے۔ کوئی انکو ایک مریض سمجھ کر نفسیاتی علاج کرانے کی کوشش نہیں کرتا۔ کوئی انکو انکے حال پر بھی نہیں چھوڑتا۔ گھر میں گھر والے اور باہر باہر والے نہیں رہنے دیتے۔ اور جب یہ مرد عورت کا لبادہ اوڑھ کر گھنگرو باندھ کر ناچنے لگتا ہے تو پھر معاشرے کے غیور مرد نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔

اپنے جیسے ایک مرد کا مجرا دیکھنا انکو بھاتا ہے لیکن دو قدم اسکے ساتھ چل اسکے مسائل حل کرنا قبول نہیں۔۔
عجیب بات ہے مرد کی روح والی عورت غیرت مند، بہادر اور قابل رشک لیکن عورت کی روح لئے مرد کھسرے، ہیجڑے، گالی بدنامی اور قابل نفرت ناقابل قبول
ہم کیوں مخالف جنس کی روح لئے مرد کو جینے نہیں دیتے؟وہ جیسا ہے اسکو ویسا قبول کیوں نہیں کرتے؟ ہم کیوں انکو مجرے پر مجبور کرتے ہیں؟ ہم کیوں دو وقت کی روٹی کے لئے عزت کی نیلامی پر مجبور کرتے ہیں؟
کیوں ایک خواجہ سرا تعلیم حاصل نہیں کرسکتا؟ پروفیشنل نہیں بن سکتا؟ کیوں اپنی زندگی نہیں جی سکتا؟ آپ کیسے اپنے بچے کو بیگھر کر سکتے ہیں محض اسلئے کہ وہ بہن کا دوپٹا یا ماں کے جوتے پہنتا ہے؟ کیوں؟ اسکو بیوٹیشن بنا دیں ڈریس ڈیزائنگ سیکھا دیں تاکہ وہ اپنے شوق بھی کر لے اور اپنے پیروں پر بھی کھڑا ہو جائے...
پر افسوس اب وہ ماں کا بیٹا کبھی نہیں آئے گا وہ نامرد رہ کر جینا نہیں چاہتا تھا اس لئے اس نے مرنے کو ہی مردانگی سمجھی....

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

qasoor war kon? is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 October 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.