سب ساتھ ساتھ چلیں

کیا زیادہ لوگ تھوڑا تھوڑا اپنا شیئر ڈال کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے کام نہیں کر سکتے یقیناکر سکتے ہیں۔ میں کم سے کم 100 لوگوں کا ایک گروپ بنانا چاہتا ہوں جو اپنا حصہ ڈال کر معاشرے کے محروم طبقات کے لئے کام کریں گے

nadir khan نادر خان ہفتہ جون

sab sath sath chalein
26 اپریل 2019 کو ایک پروگرام میں وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب انتہائی مہربان شخصیت کے حامل ہیں اور معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں، اس ملاقات میں میری بہت پیاری دوست صائمہ علی، عامر شہزاد صدیقی، شاہد محمود انصاری وہ دیگر بھی موجود تھے۔

 میں نے ڈاکٹر صاحب سے ذکر کیا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں ایک بھی ریمپ ایسا نہیں جو یونیورسٹی میں آنے والے معذور طلبہ و طالبات کے لیے کے لئے قابل رسائی ہو جس کو بنا کسی کی مدد کے لئے استعمال کیا جا سکے اور نہ ہی کوئی ایک واش روم ایسا ہے جو ہم استعمال کر سکیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سنتے ہی اگلے دن اپنے دفتر آنے کو کہا۔

(جاری ہے)

اگلے دن ٹھیک دو بجے میں اور صائمہ علی وائس چانسلر صاحب کے دفتر میں موجود تھے، ہماری ملاقات ہوئی اور ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ پوری یونیورسٹی میں معذور طلبہ طالبات کے لیے جس طرح سے چاہتے ہیں ریمپ اور واش روم کا ڈیزائن (Accessibility Audit) ہمیں بنا کر دیں ہم اس بار یونیورسٹی کے بجٹ میں خاص طور پر اس کام کا بجٹ مختص کروائیں گے اور ساتھ یہ بھی فیصلہ ہوا چونکہ ایڈمن بلاک میں زیادہ معذور طلبہ و طالبات کی آمدورفت رہتی ہے اور یہاں کام کرنے والے سٹاف کے کچھ ممبران بھی معذوری کا شکار ہیں لہذا یہاں ریمپ کی اشد اور فوری ضرورت ہے جبکہ اس ریمپ کے لئے کوئی بجٹ موجود نہیں۔

 
میں نے اور صائمہ نے یہ ارادہ کیا کہ یہ پہلا ریمپ ہم اپنی مدد آپ کے تحت نمونے کے طور پر بنواکر دینگے تاکہ یہاں موجود سب لوگوں کو پتہ چل سکے کہ رسائی کیا ہوتی ہے۔ اب مسئلہ بجٹ کا تھا جو کہ ہمارے پاس بالکل بھی نہیں تھا میں نے فیس بک پر دوستوں سے گزارش کی ریمپ بنوانے کے لیے 70000 کی ضرورت ہے ہر بندہ اگر ایک ہزار روپے کا اپنا حصہ ڈالے تو ہم یہ کام باآسانی کر سکتے ہیں 13 لوگوں نے ایک ایک ہزار روپے کا اپنا حصہ ڈالا اس میں خود معذور افراد بھی شامل تھے جبکہ فیصل آباد سے شکیل احمد، ملتان سے اسد ملک اور سعودی عرب سے میرے دوست شہریارخان نے پانچ ہزار روپے فی کس کے حساب سے اپنا حصہ ڈالا یوں یہ ریمپ 30000 روپے کی لاگت سے مکمل ہوا جس پر ابھی ہینڈ گریل لگنا باقی ہے جس کا خرچ 40000 روپے ہے جو ابھی فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے نہیں لگ پایا۔

ریمپ کے پیسے اکٹھے کرنے کے لئے میں نے بہت سارے دوستوں کو بھی کال کی تو کسی نے کہا کہ یہ گورنمنٹ کا کام ہے تمہارا نہیں تو کسی نے کہا یہ کام فضول ہے کچھ لوگوں نے پیسے دینے کا وعدہ بھی کیا اور بعد میں کال نہیں سنی تو کسی کو لگا کہ میں اپنے لیے کچھ مانگ رہا ہوں، اور ہاں ایک اور بات اس سارے کام میں کچھ زمینی خداؤں کا بھی سامنا کرنا پڑا زمینی خدا وہ ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہماری عبادت کی جائے ہر جگہ ان کے گن گائے جائیں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ان سے اجازت لی جائے اگر آپ نے یہ سب نہیں کیا تو وہ ہر جگہ آپ کی اچھائیوں کو بھی برائیوں کی صورت میں پیش کریں گے۔

 یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں ان کے کہنے سے لوگ اپنا پیسہ وقت مستحق لوگوں کو دیتے ہیں اور یہ اگر منع کرتے دیں تو آپ پیسے اکٹھے نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی سے ٹائم لے سکتے ہیں اسی وجہ سے معاشرے میں آگے بڑھنے ان خداؤں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور ہمارے بہت سارے معذور افراد خداؤں کے بغیر ادھورے ہیں اگر ان کی عبادت نہ کریں تو ان کی روزی روٹی بند ہونے کا خدشہ ہے بہرحال چونکہ میں نے ہمیشہ زمینی خداؤں سے بغاوت کی ہے تو اس کا سامنا ہر موڑ پر کرنا پڑتا ہے مجھے لیکن ان زمینی خداؤں کو کیا خبر کے اوپر والا خدا صرف نیت اور کوشش دیکھتا ہے اور پھر ایسی جگہ سے راستہ بنا دیتا ہے جہاں سے انسان سوچ بھی نہ سکے۔

 
جی ہاں میں متفق ہوں یہ کام گورنمنٹ کا ہے لیکن کب تک ہم حکومت کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے تو وہ ہمیں پیسے دے گئی تو یہ کام کریں گے کیا زیادہ لوگ تھوڑا تھوڑا اپنا شیئر ڈال کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے کام نہیں کر سکتے یقیناکر سکتے ہیں۔ میں کم سے کم 100 لوگوں کا ایک گروپ بنانا چاہتا ہوں جو اپنا حصہ ڈال کر معاشرے کے محروم طبقات کے لئے کام کریں گے۔

 
مثال کے طور پر معذور افراد کے لئے راستہ بنانے پر اگر ایک لاکھ روپے لاگت آتی ہے تو ہر بندے کے حصہ میں 1000 روپے آئے گا، ایک ہزار سے زیادہ توہم کھانا کھانے جائیں تو وہاں خرچ کر آتے ہیں۔ اگر آپ اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ میں چاہتا تو اکیلے بھی یہ کام کر سکتا تھا 30 ہزار روپے اپنی جیب سے نکالنا کوئی مشکل کام نہیں الحمدللہ، لیکن دوسرے لوگوں کو ساتھ شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ معاشرہ ہم سب کا ہے اس کی فلاح و بہبود کے لئے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے۔

خیر اس کام کا اجر تو مجھے اللہ نے عید سے دو دن پہلے ڈاکٹر عفان قیصر کی صورت میں عطا کر دیا تھا جب ایک گھر میں موجود تین بچیوں کی عید کی خوشیوں کا وسیلہ اللہ نے عفان کو بنا کر بھیجا تھا۔ آئیں مل کر ساتھ چلیں زندگی کی دوڑ میں کوئی ہم سے پیچھے نہ رہ جائے سب ساتھ ساتھ چلیں۔ 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

sab sath sath chalein is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 June 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.