صنعتی تہذیب
آج ہم جسے مغربی تہذیب کہتے ہیں وہ دراصل صنعتی تہذیب ہے جو ملٹی نیشنل اور ٹرانس نیشنل کارپوریشن کی قیادت میں کھلے بازار کی معیشت کے سہارے معیشت کی آفاقیت (گلوبلائزیشن) یا ایک ایسے آفاقی نظام ‘ معاشی نظام کے نصب العین کی تکمیل کے مرحلے میں ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر سیاسی نظام اس کے زیر نگیں آ چکا ہے یا آنے والا ہے
جمعرات 8 جون 2017

(جاری ہے)
پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی کمپنیوں کے منہ کو ہتھیار سازی اور اس کی فروخت کا خون لگ چکا تھا اس خونی کاروبار سے ہونے والے بھاری منافع کو دیکھ کر1914 کے بعد ہر بڑی کمپنی نے اپنی پونجی کا بڑا حصہ اسلحہ سازی اور متعلقہ تجارت کیلئے وقف کر دیا۔یورپ کی ترقی کا دو1947ء میں شروع ہوا جب امریکہ نے یورپی بازار کے فروغ کیلئے ۷۱ ارب ڈالر کی امداد دی جس کے نتیجہ میں یورپ کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا لیکن غریب اور پسماندہ ممالک کو دی جانے والی امداد کا اصل چہرہ 1965ء میں سامنے آیا اور دنیا کو پتہ چلا کہ ترقی یافتہ ملکوں کی امداد دراصل غریب ملکوں میں بازار پیدا کرنے کیلئے ہے نہ کہ ترقی یافتہ ملکوں کی امداد دراصل غریب ملکوں میں بازار پیدا کرنے کیلئے ہے نہ کہ ترقی یافتہ بنانے کے لئے مشہور ناول دی گاڈ فادر کے مصنف نے اپنی کتاب The fourth K میں یہی سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ہر جنگ کے بعد کچھ لوگ پہلے سے زیادہ طاقتور اور دو لت مند ہو جاتے ہیں۔ پھر خود ہی اس نے جواب دیا کہ یہ سب ہتھیاروں کی تجارت سے ہوتا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی ترقی اور ترسیل و ابلاغ کے انقلاب نے جس پر مغرب کی اجارہ داری ہے آج گھر گھر پر مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار کر رکھی ہے۔ ان کا نشانہ پوری دنیا ہے۔ یہ نام نہاد تہذیبی انقلاب مغرب دنیا کے عوام کی اس اکثریت کو اس اندھی صارفیت اور اس سے پیدا ہونے والی نفسا نفسی بے اطمینانی جنسی بے راہ روی غربت و افلاس کے سمندر میں غرق کر دینا چاہتا ہے تاکہ اعلیٰ طبقہ ارب پتی کھرب پتی سکون کے ساتھ اپنی دنیا میں مست رہیں ان کے محلات محفوظ رہیں۔ ان کے اختیار اقتدار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ یہ ساری اشتہار بازی جھوٹا پراپیگنڈہ جدید فلسفہ اور جمہوریت سب اسی کا رواحد میں مصروف ہیں۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
متعلقہ مضامین :
متعلقہ عنوان :
مضامین و انٹرویوز کی اصناف
مزید مضامین
-
بیج سے تناور درخت تک: اردوپوائنٹ کے 26 سالہ سفر کی داستان
-
آزادی اظہار یا آزادی انتشار؟
-
صحافتی صنعت کی بیوروکریسی
-
حکومت کی بے نیازی اورگلیات کے لوگوں کی محرومیاں
-
عالمی یومِ ماحولیات :پاکستان میں جنگلات کی تباہی اور بیڈگورنس
-
سیاحتی شعبہ اور افسرشاہی
-
گلیات میں جنگلی حیات کا زوال اور انتظامی ناکامیاں
-
Rag Doll ریگ ڈول
-
جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کی زندگی میں ہی پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا تھا!
-
جہد مسلسل--اردو پوائنٹ کے25سال
-
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
-
اوورسیز پاکستانیز ہمارے دل کے قریب
مزید عنوان
Sanati Tehzeeb is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 June 2017 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.