سیتلا مندر، لاہور

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری منگل فروری

Seetla Mandir Lahore
بھارت میں شرپسند ہندوؤں کی طرف سے بابری مسجد کی شہادت نے جہاں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا وہیں پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں پر بھی اس کا براہِ راست اثر پڑا اور ان کے مندروں کو بھی توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کے مشتعل جتھوں نے بہت سے مندروں کو گرا دیا جو انتہائی قابل مُذمت فعل ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔

دوسری جانب اگر انسانی رویئوں کا مشاہدہ کریں تو یہ چیز بھی واضح ہوتی ہے کہ غصے کی حالت میں آپ ہر وہ چیز کرتے ہیں جس پر آپ کا بس چلتا ہے۔  سرحد کے اُس پار کوئی مسجد شہید ہوتی ہے تو قہر اِس پار کے مندروں پر بھی ٹوٹتا ہے۔
تباہی کا سامنا کرنے والے مندروں میں سے ایک لاہور کا سیتلا دیوی مندر  بھی تھا جو غالباً ان دنوں لاہور کا سب سے بڑا مندر تھا ۔

(جاری ہے)

اِسے 1992 میں بابری مسجد کے بعد ہونے والے فسادات میں توڑ دیا گیا اور آج اس کا بس نام ہی باقی ہے۔

یہ مندر شاہ عالمی گیٹ سے لاہوری گیٹ کی طرف جاتے ہوئے سرکلر روڈ پر پاپڑی منڈی کے ساتھ واقع ہے۔
مائی شیتلا یا ماتا سیتلا(سنسکرت میں ٹھنڈا کرنے والی)، ہندوؤں کی وہ دیوی ہیں جو منگلا کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔

یہ ٹھنڈک یا سُرور پہنچانے والی مانی جاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ جلدی بیماریوں کے علاج کی خاطران کی پوجا کی جاتی ہے۔ چونکہ چیچک کے مریض کو بھی سخت گرمی محسوس ہوتی ہے اس لیے اس دیوی کی پرستش کر کے مریض کی صحت اور ٹھنڈک کی دعا کی جاتی ہے۔
آج بھی ہمارے ہاں اکثر دیہاتوں میں کسی کو چیچک ہو جائے تو یہی بتایا جاتا ہے کہ اسے ماتا نکلی ہے۔

دو سال پہلے جب میں ایک دیہات کے سرکاری اسپتال میں  میڈیکل آفیسر کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا تو اکثر خواتین جلدی بیماریوں والے بچوں کو لے کہ آتیں اور پوچھنے پر بتاتیں کہ اسے "ماتا'' نکل آٸی ہے اور اس وقت میں سوچتا رہ جاتا کہ دانے اور پھوڑوں کو کوئی کیسے ماتا کہہ سکتا ہے۔۔۔؟؟
  اِن کے ہاتھ میں ایک جھاڑو بھی دیکھا جا سکتا ہے اور یہ گدھے پر سوار رہتی ہیں۔

ہندوؤں کے ساتھ ساتھ بُدھ مت کے ماننے والے اور بھارت و بنگلہ دیش  کے کچھ قبائل بھی ان کو مانتے ہیں۔
اب چلتے ہیں مندر کی طرف۔
لاہور کے سیتلا مندر کے بارے میں مٶرخ کنہیا لال اپنی کتاب تاریخِ لاہور میں لکھتے ہیں ؛
” یہ متبرک مکان شاہ عالمی اور لوہاری کے وسط میں شہر کے باہر واقع ہے جسے ”سیتھلا دیوی کا استھان“ کہتے ہیں۔

اگرچہ شب و روز مقتدان ہنود اس کی پرستش بہ کمال ارادت مندی سے کرتے ہیں مگر خاص پرستش اس حالت میں ہوتی ہے  جب چیچک کی بیماری کا زور ہوتا ہے۔ یہ استھان ہندو مسلمان دونوں قوموں کا مرجع ہے۔
مندر سے بسمت گوشۂ لگنی، بہت سے مکانات وکوٹھریاں بنی ہوئی ہیں جس میں سادھو رہتے ہیں یا مہنت کے گائے‘ بیل‘ بھینس وغیرہ باندھے جاتے ہیں“۔


 کراچی میں بھی کبھی ایک مندر مائی سیتلا کے نام سے موجود تھا۔ تقسیم کے بعد یہ مندر اپنی اصل شکل میں نہ رہے۔ لیکن ہندوستان میں مائی سیتلا کےکٸی مندر موجود ہیں۔ ہریانہ میں ایک گڑگاؤں کے نام سے ایک علاقہ موجود ہے اور یہاں پر ہونے والے ماٸی سیتلا کے میلے کو ہندوستان میں کنبھ کے میلے کے بعد دوسرا اہم ترین میلہ مانا جاتا ہے۔


مائی سیتلا کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ بے شمار ایسے مندر جو کہ کسی اور دیوی دیوتا کے نام سے منسوب تھے‘ وہاں پر بھی سیتلا تالاب ضرور ہوا کرتا تھا۔ جہاں پر لوگ جلدی بیماریوں کی شفاء کے لئے غسل کیا کرتے تھے۔
شیتلا مندر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ شہر کے بڑے اور قدیم مندروں میں سے تھا جسے 1909 میں ہندوؤں کی شیتلا دیوی کے نام پر بنایا گیا۔

وہاں موجود ایک پرانی تختی پر بھی یہی سال تحریر ہے۔ اس مندر میں شیتلا دیوی کی بہت بڑے پیمانے پر پوجا کی جاتی تھی خصوصاً ہر بدھ کے روز ایک بڑی پوجا کا اہتمام کیا جاتا۔
ہندوؤں کے مطابق مندر کے قریب موجود پانی کے تالاب میں جو کوئی ڈبکی لگاتا اس کی تمام جِلدی بیماریاں زائل ہو جاتیں۔

تقسیم سے پہلے دیوالی کے موقع پر یہاں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین بھی اپنے بچوں کو لایا کرتی تھیں۔
تقسیم کے بعد مندرکی حدود میں میں بھارت سے نقل مکانی کر کہ آنے والے مسلم خاندان آباد ہو گئے لیکن مندر کا تکونی گنبد اور برجیاں قائم رہیں۔ یہاں قریب کہیں دو مندر اور بھی تھے جنہیں مکمل ختم کر دیا گیا لیکن اِس مندر کا کچھ حصہ بچ گیا جو بعد میں توڑ دیا گیا۔


قریب رہنے والے ایک پڑھے لکھے بزرگ (جن کی عمر بیاسی سال تھی) نے بتایا کہ حملے کہ وقت ہجوم اپنے ساتھ بھاری مشینیں بھی لایا تھا جس کے ذریعے مندر کو گرایا گیا اور ایک صاحب نے اوپر چڑھ کہ کلہاڑے سے توڑ پھوڑ کی۔ مندر کے قریب واقع تاریخی تالاب کو بند کر کہ وہاں پارک بنا دیا گیا۔
مرکزی سڑک سے ذرا پرے مندر کا مرکزی دروازہ اب بھی قائم ہے جسکی محراب سے یوں لگتا ہے جیسے کسی مقبرے کا دروازہ ہو۔

محراب کے اوپرایک چھجہ اور کچھ نقش و نگار اب بھی موجود ہیں۔ اندر جائیں تو ایک تنگ سی گلی میں دائیں ہاتھ ایک چھوٹی سی مسجد اور آگے مختلف دوکانیں اور چھوٹے چھوٹے گھر ملتے ہیں۔ یہاں ایک کے بعد ایک تین محرابیں (جنہیں مقامی لوگ آدھا چاند کہتے ہیں) موجود ہیں جو مختلف تعمیرات کے بعد کہیں آدھی رہ گئی ہیں اور کہیں نیچی ہو گئی ہیں۔  اُس بزرگ نے بتایا کہ یہ مندر کی وہ محرابیں ہیں جو جوں کی توں ابھی تک قائم ہیں۔

اس کے علاوہ اوپر کر کہ ایک پرانی تختی اب بھی دیکھی جا سکتی ہے جس پہ ہندی اور اردو میں ایک عبارت تحریر ہے۔
اردو کی عبارت یہ ہے؛
شیتلا مائی
شری مہنت پرسرام گر سہ1909  
مندر کے قریب ایک گئو شالہ بھی موجود تھی جس میں اب فرنیچر کی دوکانیں بن گئی ہیں۔ مندر کی حدود میں چھوٹے چھوٹے گھر اور مختلف اشیاء بنانے والے کاریگروں کی دوکانیں آباد ہیں ۔

جا بجا کوڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایک محلے دار نے مجھے تصاویر بناتے دیکھا تو اندر لے جا کر بچی کھچی دیواریں اور محرابیں دکھائیں جو یہ سوچ کہ کیمرے میں قید کر لیں کہ کل کو یہ بھی رہیں نہ رہیں۔۔۔۔
اس شخص نے بتایا کہ کوئی آٹھ دس سال پہلے بھارت سے ایک ہندو فیملی یہاں آئی تھی۔ انہوں نے باہر والی محراب پر احتراماً جوتے اتار دیئے اور اندر آ کہ ایک نقشہ کھولا۔

اس نقشے کے مطابق ماضی میں جس جگہ مائی شیتلا کی مورتی رکھی جاتی تھی وہاں اپنی پوجا کی اور مندر کی حالت دیکھ کر بہت روئے۔
لاہور کا شیتلا مندر اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے لیکن یہ نام اب بھی اس جگہ کی پہچان ہے۔ بھارت سے وقتاً فوقتاً لوگ اسے دیکھنے آتے رہتے ہیں۔ 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Seetla Mandir Lahore is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.