صہیونی جارحیت پر اقوام متحدہ کی کارکردگی ‘سوالیہ نشان؟

امریکہ کو دوہرا معیار قیام امن کی را ہ میں بڑی رکاوٹ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے

بدھ مئی

shyoni jarhiyat par aqwam mutahidda ki karkardagi sawalia nishaan
حافظ عارف زاہد
صہیونیوں نے 20ویں صدی کے اوائل میں فلسطین کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے قبضہ میں کرنے کا جو پروگرام ترتیب دیا تھا وہ عالمی طاقتوں کی سر پرستی میں اس وقت منظر عام پر آیا جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کے قلب میں واقع اسرائیل نامی ناجائز صہیونی ریاست کا اعلان 15 مئی 1948 ء کو ہوا، جب اسرائیل ایک الگ ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا، اس وقت اس کا کل رقبہ صرف پانچ ہزار مربع میل اور اس کی حدود میں کم و بیش پانچ لاکھ یہودی آباد تھے جبکہ اب اسرائیل کا رقبہ 34 ہزار مربع میل اور آبادی 57 لاکھ سے زائد ہے۔

اسرائیل عالمی برادری کی طرف سے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آبادیاں قائم نہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے آئے روز مظلوم فلسطینیوں کی زمینیں غصب کر کے نئی یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے، اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ کے لگ بھگ یہودی آبادکاروں کو بسایا جا چکا ہے جبکہ 22 لاکھ مقای فلسطینی اس علاقے میں قیام پذیر ہیں۔

(جاری ہے)

1967ء میں پھر ایک جنگ کا آغاز ہوا تو اس جنگ میں اسرائیل نے مصر سے غزہ کی پٹی بھی چھین لی اور ہرنئی جنگ کے بعد اسرائیل مزید علاقوں پر قابض ہوتا چلا گیا۔

اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی پر قبضے کے بعد سے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے سینکڑوں منصوبے بنا چکی ہے جن پر مکمل عمل در آمد ہو چکا ہے۔26 بستیاں تو مقبوضہ بیت المقدس میں جبکہ رملہ اور البریح ضلع میں 24یہودی بستیاں قائم کی گئی ہیں۔ آبادی کے تناسب سے غرب اردن میں آباد کار یہودی کل آبادی 166 فیصد ہیں جبکہ عملی طور پر وہ پورے غرب اردن کے 42 فیصد علاقے پر قابض ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں فلسطینیوں کی ہتھیائی گئی اراضی پر 26 یہودی بستیوں میں لاکھوں صہیونی رہائش پذیر ہیں،یہ تعداد غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کا54.6 فیصد بنتی ہے البریح اور رملہ کے علاقہ میں 24 یہودی رہائشی منصوبوں میں ہزاروں یہودی رہائش پذیر ہیں۔ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ سے150 میٹر کے فاصلے پر” معالیہ از یتیم“ کے نام سے ایک کالونی بھی تعمیر کی ہے جس میں 132 رہائشی اپارٹمنٹس ہیں، اگر اسرائیل کو اس قسم کے اقدامات سے روکا نہ گیا تو وہ پر فلسطین پر قبضہ کر سکتا ہے۔

تسلط و طاقت کے فلسفہ پر قائم اس ناجائز ریاست کے ساتھ ہی ظلم و جور اور سفاکیت و بربریت کا یہ سلسلہ ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل 16 یہودی بستیوں کو1948ء میں زیر تسلط آ نے والے علاقوں کے ساتھ ملا دیا تھا تا کہ صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم پورے ہوسکیں ، یہ طرفہ تماشا ہے کہ عالمی برادری خصوصاََ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں ہونیوالے مظالم بھی نظر نہیں آتے اورفلسطین میں اسرائیلی جبر و تسلط سے صرف نظر اندازہی نہیں کیا جار ہا بلکہ ان ظالمانہ اقدامات پر اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کے اعلانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

صہیونی ریاست کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ فلسطین ہنوزحل طلب ہے اور اسی کی وجہ سے مشرق وسطی ٰمیں بدامنی کی لہر مزید پھیل رہی ہے، آج ہر طرف یہی بحث جاری ہے کہ اقوام متحدہ جو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی ہی قرار دادوں پرعملدرآمد یقینی بنانے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی ، عراق پر امریکی حملے افغانستان کیخلاف نیٹو کارروائی بوسنیا، چیچنیا‘ میانمار اور فلسطین جیسے معاملات و مظالم پر اس سے کوئی امید رکھنا یا شکوہ کر نا عبث و بیکار ہی ہے، تمام عالمی قوانین روند کر فلسطینیوں پر مظالم کرنے والے اسرائیل کیخلاف اسلامی ممالک کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔


 صہیونی حکومت کے ظالمانہ برتاوٴ سے متعلق عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی سستی و کاہلی اور مغرب کی ہمہ گیر حمایت نے علاقے میں خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے سلسلے میں مزید گستاخ بنایا ہوا ہے۔ صہیونی حکومت کے فلسطینیوں خاص طور پر بچوں کے خلاف جارحانہ اور پرتشدد اقدامات ساری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ رہے ہیں مغرب اور خاص طور پر امریکہ کا ر ویہ فلسطینیوں کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس سے انصاف پسند دنیا میں ایک قسم کی بے چینی بڑھتی ہی جارہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جہاں ایک طرف فلسطینی مرد مظالم کا شکار ہیں وہیں دوسری طرف بے گناہ خواتین اور نو عمر بچوں اور بچیوں سے اسرائیلی جیلیں بھری پڑی ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں ہزار وں بے گناہ مسلمان خواتین پابند سلاسل ہیں جن میں نو عمر بچیاں اور معمر خواتین بھی شامل ہیں۔ صہیونی درندوں کی جانب سے مختلف بہانوں سے خواتین خصوصا نوجوان لڑکیوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونسا جار ہا ہے بعد ازاں ان کی رہائی کیلئے بھاری جرمانہ وصول کیا جاتا ہے، قیدیوں کی رہائی اسرائیلی انتظامیہ کی آمدنی کا منافع بخش ذریعہ بن گیا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں مسلمان خواتین کیلئے تشدد سے بڑا مسئلہ صنفی امتیاز کا نہ ہونا ہے۔ بناپردہ کے مسلم خواتین کومردقیدیوں کے ساتھ ایک ہی بیرک میں رکھا جاتا ہے،اس تکلیف کو برداشت نہ کرتے ہوئے کئی خواتین قیدیوں نے خودکشی کی بھی کوشش کی مگر صہیونی درندوں پر اس کا ذرہ برابر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ خواتین کو مردوں کی طرح سخت جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے جس سے بہت سی خواتین شہید بھی ہوئی ہیں لیکن یہاں مقام افسوس ہے کہ حقوق نسواں کی نام نہاد علمبردار تنظیمیں کسی اور ملک میں خواتین کے خلاف ہونے والے معمولی واقعات پر آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں مگر صہیونی ظلم کی چکی میں پسنے والی فلسطین کی بے گناہ خواتین کے حق میں آج تک ایک لفظ کہنے کی بھی نہیں توفیق نہیں ہوئی، واضح رہے کہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 12 سال سے کم عمر بچوں اور بچیوں کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے۔

نیتن یاہو حکومت کا جنگی جنون کا خمیازہ اسرائیلی عوام پربجلی بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ اسرال جو کہ آج اسلحہ پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے اس کا وجود دراصل انگریزوں کا ہی مرہون منت ہے اور اب بھی اسرائیل کی معیشت کا پہیہ امریکی امداد سے ہی رواں دواں ہے۔ آج امریکہ کے تمام فیصلہ ساز ادارے یہودی لابی ہی کے ماتحت ہیں اور پینٹاگون پر بھی یہودی ہی قابض ہیں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی فلسطینیوں پر صہیونیوں کے مظالم کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کرتا۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے حکام کی طرف سے اسرائیلی مظالم کے اعتراف کے باوجود اب تک صرف ان مظالم پر لفظی مذمت ہی کی گئی ہے جس سے عملی طور پر فلسطینیوں کی کوئی مدد ہوئی ہے نہ ہی کبھی اسرائیل کے حملے رکے ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں آج بھی ہزاروں فلسطینی بچے، خواتین اور مردسخت اذیت کا شکار ہیں ۔
فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی فوجی مختلف خطرناک ا دویات آزما رہے ہیں جن کی وجہ سے متعد دفلسطینی مہلک امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔

عالمی ادارہ اسی حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر کے غفلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے فلسطین اور جنوبی ایشیا کے لئے کشمیر دونوں کا تعلق عالم اسلام سے ہے، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ عالمی مسئلے صرف 2 ہی ہیں کشمیراورفلسطین ۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپ مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اسرائیل جو کو فلسطین میں کرے اور جو کچھ بھارت کشمیر میں کرے ان دونوں ممالک کو امریکہ اور یورپ کی پوری حمایت حاصل ہے۔

فلسطین میں اسرائیلیوں نے ایک قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ امریکہ مشرق و سطی میں اسرائیل کیلئے ظلم روا رکھتا ہے، یورپ بھی اسرائیل کے ساتھ ہے مگر شرمندہ ہے۔ بھارت کشمیر میں بھی ہیں کچھ کرتا ہے کشمیر کے لئے بھی عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔ امریکہ سمیت تمام استعماری قوتوں نے مسلم خطوں کو خصوصی ہدف بنا رکھا ہے اور یہ بات سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ اسرائیل کا پشتیبان امریکہ ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اسرائیلی مظالم پر صرف لفظی مذمت کرنے پر اکتفا کیوں کر رہے ہیں؟ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و بربریت پر او آئی سی کی خاموشی بھی لحمہ فکریہ سے کم نہیں ہے، سب سے بڑھ کرستم ظریفی یہ ہے کہ مسلم حکمران بھی صرف زبانی احتجاج کر رہے ہیں۔ عالم اسلام کا دفاع اور مظلوم مسلمانوں کی مدد ہم سب پر فرض ہے، یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیتیں دین اسلام کی ترویج اور امت مسلمہ کے تحفظ کیلئے صرف کرے۔ مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن کے قیام کیلئے غاصب صہیونی حکومت کے خلاف ٹھوس فیصلہ کر کے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی ظلم وستم اور فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو رکوانا ہوگا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

shyoni jarhiyat par aqwam mutahidda ki karkardagi sawalia nishaan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 May 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.