ٹریفک کا بڑھتا ہوا عذاب اور عالم بے حسی

پاکستان میں ٹریفک نے پاکستانیوں کی زندگی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے عذاب نے زندگی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ روزانہ جتنے حادثات ٹریفک کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

منگل نومبر

Traffic Ka Barhta Huwa Azab Aur Aalam Be Hisi
ڈاکٹر عارفہ صبح خان:
پاکستان میں ٹریفک نے پاکستانیوں کی زندگی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے عذاب نے زندگی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ روزانہ جتنے حادثات ٹریفک کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس میں پاکستان کا سوا دو سو ممالک میں سے تیسرا نمبر ہے۔ ہر سال 35 ہزار افراد روڈ ایکسیڈنٹ میں مر جاتے ہیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سالانہ ہے ۔

یہ افراد کسی نہ کسی جسمانی نقص یا عارضہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں سب سے زیادہ حادثات جنم لیتے ہیں۔ اسلام آباد پاکستان میں واحد جگہ ہے جہاں ٹریفک قوانین کی پابندی کی جاتی ہے اور حادثات کی شرح تمام شہروں کی نسبت بہت کم ہے۔ لاہور میں سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ایک ہی سڑک پر ٹرک ٹرالے بسیں ویگنیں لینڈ کروزر،تانگے ،رکشے ،چھکڑے چنگ چی، موٹرسائیکلیں،سائیکلیں اور انواع اقسام کی گاڑیوں کے ساتھ گدھا گاڑیاں اور سریوں سے بھری ہوئی پک اپ چلتی ہیں۔

سب سے خطرناک سواریوں میں چنگ چی اور بجری سریوں سے لدے ہوئے تانگے اور اوپن پک اپس ہیں۔ میرے ایک کولیگ نے بتایا کہ گذشتہ برس وہ موٹرسائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک پک اپ نے زور سے بریک لگائی اور تین سریے اس کے پیٹ میں گھس گئے اور ایک سریہ اس کے پیٹ کو پھاڑ کر کمر سے نکل گیا۔ پک اپ اسے کئی میٹر تک کھینچتی لے گئی۔ میرے کولیگ کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال تک زیرعلاج رہا اور کسی بھی کام کے قابل نہیں رہا۔

اب بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پنجاب میں اوسطاً 700 ٹریفک حادثات ہوتے ہیں۔ 2017ء میں صرف صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 80 ہزار 310 حادثات ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ حادثات موٹرسائیکلوں کو پیش آئے ہیں۔ موٹرسائیکل ویسے بھی غیر محفوظ سواری ہے لیکن پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں موٹرسائیکل استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ مڈل کلاس طبقہ کی ترجمان ہے۔

پاکستان میں ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے۔ پورے پاکستان کی سڑکیں دیکھ کر زمانہ جہالت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد سڑکیں ٹوٹی پھوٹی‘ خستہ حال اور ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ اگر سڑکیں کارپیٹڈ نہیں بنا سکتے تو کم از کم انہیں سیدھے سادھے طریقے سے پختہ ہی بنا دیں۔ جگہ جگہ دس دس فٹ کے فاصلے پر سپیڈ بریکر لگے ہوئے ہیں۔

یہ سپیڈ بریکرز خود ساختہ ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت بنا لئے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر عجیب و غریب ،بے ڈھنگے ،سخت اور اونچے نیچے ،غیر ہموار بنائے جاتے ہیں کہ ان سے گزرنے کے بعد گاڑی کی تو جو حالت ہوتی ہے‘ خود انسان کی حالت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ سپیڈ بریکروں نے پاکستانیوں کی زندگیوں اور ان کی گاڑیوں کی حالت اتنی خستہ کر دی ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا ہے۔

حکومت نے لوہے کے سپیڈ بریکرز بنا کر ٹریفک کی روانی کو خراب کرنے کے ساتھ گاڑیوں کی زندگی کم کر دی ہے اور لوگوں کے اعضاء میں مستقل درد بٹھا دیئے ہیں۔ یہ سب کے سب ناقص اور ٹریفک قوانین کے خلاف ہیں۔ 70 فیصد سپیڈ بریکرز پر ریفلیکٹرز نہیں لگائے گئے ہیں جس سے حادثات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اندھے سپیڈ بریکرز کے باعث لازماً حادثات رونما ہوتے ہیں اور درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں‘ لیکن سپیڈ بریکرز کے حوالے سے نہ کوئی موثر قانون ہے اور نہ کوئی جامع حکمت عملی۔

پھر جگہ جگہ ناکے‘ رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں جس سے ٹریفک کے تسلسل میں فرق پڑتا ہے۔ سڑک پر حادثات کی دوسری بڑی وجہ موبائل فون ہیں۔ ایک راہگیر کے کان سے بھی موبائل لگا ہے۔ ایک چھکڑا چلانے والا بھی موبائل پر گانے لگا کر دھت ہے اور لگڑری گاڑیوں میں بیٹھے افراد بھی نہ صرف یہ کہ موبائل پر گپ شپ لگا رہے ہوتے ہیں۔ حادثات کی ایک بہت بڑی وجہ دوران سفر موبائل فون کا استعمال ہے۔

تیزرفتاری‘ اوورٹیکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اموات کا بڑا سبب ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی کھلے عام ہوتی ہے۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس ہوتی ہیں اور خاص طورپر ویگنوں‘ ٹرکوں‘ ٹرالوں کی زیادہ تر ایک ہی بتی جل رہی ہوتی ہے۔ رات کو دور سے یہ تک پتہ نہیں چلتا کہ کوئی موٹرسائیکل آرہی ہے یا ٹرک آرہا ہے ۔ اکثر رکشے اور چنگ چی بغیر لائٹ کے چلتے ہیں۔

اسی طرح لاہور کی آدھی سے زیادہ سڑکیں ناجائز تجاوزات کی زد میں رہتی ہیں۔ سڑک کا ایک بڑا حصہ پارکنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سڑکوں پر فقیروں اور خواجہ سراوٴں کی یلغار کی وجہ سے بھی ٹریفک میں تعطل کے ساتھ حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ سگنل توڑنے پر بھی چالان نہیں کیا جاتا اور ون ویلنگ جو ایک ہولناک حادثے کا سبب ہے۔ اْسے بھی ابھی تک ختم نہیں کیا گیا ہے۔

ٹریفک پولیس نے جون 2017ء میں ٹیوٹا کے ذریعے ڈرائیونگ کا اعلان کیا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں تمام طالبعلم اور بے شمار لوگوں نے اس کورس میں حصہ لینے کے لئے تین ہزار روپیہ فیس جمع کرائی لیکن کورس شروع نہیں کرایا گیا۔ ہزاروں طالبعلموں نے تین ہزار روپے حکومت کے خزانے میں جمع کرادئیے۔ نومبر کے ابتدائی ایام تک یہ کورس نہ کرایا گیا۔ اس طرح سکول کالج یونیورسٹیاں کھلنے سے طالبعلم 7 نومبر کو شروع کئے جانے والے کورس میں شریک نہ ہوسکے۔

حکومت بھی جانتی تھی اس طرح لاکھوں کروڑوں روپیہ دھوکے سے اکٹھا کرلیا گیا اور طالبعلموں کے بار بار استفسار کے باوجود یہ رقم طالبعلموں کو واپس نہیں کی گئی۔ ٹریفک پولیس کو ٹریفک کے حوالے سے آگہی دینی چاہیے۔ اب تک لاکھوں افراد ٹریفک حادثات میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ آج لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک چیونٹی کی طرح رینگتی ہے۔

پورا پاکستان پرائیوٹائز کردیا گیا ہے اور پرائیویٹ ادارے پانچ منٹ تاخیر پر پورے دن کی تنخواہ کاٹ لیتے ہیں لیکن یہاں یہ حال ہے کہ بیس بیس منٹ صرف سگنل پر باری آنے کے انتظار میں گزر جاتے ہیں۔ پٹرول الگ دھواں بن کر ضائع ہوجاتا ہے اور یہ زہریلا دھواں ہماری سانسوں میں اترتا، ہمارے رنگ کو میلا کرتااور ہمارے پھیپھڑے ، گلا خراب کردیتا ہے ۔ ہر طرف ٹریفک بلاک اور نظام زندگی مفلوج ہوجاتا ہے۔ ایمبولینس پندرہ پندرہ منٹ سر پٹختی رہتی ہے۔ کئی بار مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتا ہے۔ ٹریفک کی بدنظمی اور حادثات نے خاص طور پر لاہوریوں کے اعصاب کا امتحان لے رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Traffic Ka Barhta Huwa Azab Aur Aalam Be Hisi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 November 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.