سیالکوٹ، توہین مذہب کا واقعہ

منگل 7 دسمبر 2021

Engineer Muhammad Abrar

انجینئر محمد ابرار

پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست ہے. پاکستان کے آئین کی رو سے کوئی ایسا قانون اس ملک میں رائج نہیں ہو سکتا جو شریعت محمدی کے خلاف ہو. ناموس رسالت و ختم نبوت دونوں ایسے حساس مسائل ہیں کہ جن کے بارے آئین پاکستان قوانین موجود ہیں. ذووالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے دور حکومت میں ختم نبوت کو قانون کا حصہ بنایا جس کے تحت منکرین ختم نبوت قادیانی، لاہوری اور دیگر گروہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کو نبی مانتے ہیں وہ کافر ہے.

یہ گروہ نہ خود کو مسلمان کہہ سکتے ہیں نہ ہی  شعائر اسلام مثلاً نماز ،روزہ اور زکوة جیسی اصطلاحات کو اپنی عبادات کے لئے استعمال کر سکتے ہیں.

(جاری ہے)

اور ان  گروپس کا اپنی عبادگاہ کو مسجد کہنا بھی قانوناً جرم ہے. پاکستان میں منکرین ختم نبوت کو ہر وہ حقوق حاصل ہیں جن حقوق کی پاکستان میں بسنے والی دیگر اقلیتیں حامل ہیں. پھر بھی ریاست پاکستان کی ناک نیچے قادیانی خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور وہ تمام عبادات و اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو کہ مروجہ طور پر صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں.

اسی وجہ سے لوگوں کا ریاست سے اعتماد اٹھ رہا ہے.
ناموس رسالت کا مسئلہ امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے. امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ اگر رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو اور امت اسکا بدلہ نہ لے سکے تو ساری امت مر جائے. تعزیرات پاکستان کی شق  295C کے تحت جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے، اس کی سزا موت ہے.

قانون کی پاسداری اور اس کو لاگو کرنا عوام نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے. مگر ریاست اس معاملے میں کمزور نظر آتی ہے.  بالعموم بہت سے گستاخانِ رسول اور بالخصوص آسیہ ملعونہ کو توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے کے باوجود رہا کر دیا گیا. اب یہ افراد بیرون ملک مقیم ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں. سیالکوٹ پاکستان کا اہم صنعتی شہر ہے جس میں وزیر آباد روڈ پر موجود راجکو فیکٹری میں ایک سری لنکن شہری پریانتا کمارا کو توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے قتل کیا.

پریانتھا کمارا 2010 میں پاکستان آیا اور اسے نومبر 2013 میں راجکو کا جنرل مینجر بنایا گیا. پریانتھا کمارا نے سنہ 2000 میں پروڈکشن انجینرنگ میں گریجویشن کر رکھی تھی. ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول نے مذہبی پوسٹر کو پھاڑا جس پر مذہبی شخصیات کے نام اور تصاویر موجود تھیں. فیکٹری کے ملازمین نے صبح کے وقت احتجاج شروع کیا جس کے بعد وہ لوگ فیکٹری کے احاطے میں موجود مقتول پرانتھا کمارا کے دفتر گئے اور اسے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا.

پرانتھا کمارا تشدد کے باعث ہلاک ہوگیا جسے بعدازاں روڈ پر لا کر آگ لگا دی گئی. روڑ بلاک و احتجاج کی خبر سن کو پنجاب پولیس موقع پر پہنچ گئی. موقع پر موجود لوگ لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے لگاتے رہے جس کے باعث لبرل و دین دشمن عناصر تحریک لبیک کو اس واقعے سے جوڑنے کے لئے سر جوڑے ہوئے ہیں. جبکہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں. پاکستان میں اکثریت سنی مسلک کے مسلمانوں کی ہے جو لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتے ہیں.

پاکستان کے قانون کے مطابق اگر اس قسم کا واقع پیش آئے تو شہریوں کو اس واقعے کو قریبی پولیس اسٹیشن میں اطلاع دے کر FIR جمع کروانی ہوتی ہے. حال ہی میں جن جن مقامات پر گستاخی کا ارتکاب کیا گیا تحریک لبیک کے ذمہ داران کی جانب سے اس کے خلاف قانون جارہ جوئی کی گئی. تحریک لبیک ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے جو کہ اس قسم کے تشدد کی ہرگز ہمایت نہیں کرتی.

لہذا ترجمان تحریک لبیک نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے اس واقع کی مذمت کی اور کہا کہ ناموس رسالت کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے. سربراہ تحریک لبیک حافظ سعد رضوی نے کہنا تھا کہ توہین مذہب کا پاکستان میں قانون موجود ہے اور اس واقع کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیں. حقائق کو دیکھا جائے تو آج تک جتنے بھی گستاخانِ رسول اور توہین مذہب کے مجرمان جیلوں میں قید ہیں کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں دی گئی.

اگر ان مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جاتی تو کوئی بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز کوشش نہ کرتا. اسلام امن کے ساتھ ساتھ غیرت کا بھی درس دیتا یے. تاریخ گواہ کے کہ جب مسلمانوں کو غیرت ایمانی موجود تھی تب کسی کی اسلام کے خلاف بیان دینے اور اس طرح کے سنگین کام کرنے کی جرات نہ تھی. اسی لئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
صفحہ دہر سے باطل جو مٹایا کس نے؟
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟
میرے کعبےکو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!
اگر حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی پوری کرے تو ماورائے عدالت قتل کو روکا جا سکتا ہے.

اس ضمن میں حکومت وقت کو چاہئیے کہ جیلوں میں موجود توہین مذہب کے مجرمان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کروایا جائے تا کہ عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہو سکے. حافظ سعد حسین رضوی صاحب کے مشورے کے مطابق حکومت پاکستان سیالکوٹ راجکو فیکٹری کے واقع کی تحقیقات کرے تا کہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں.

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sialkot Toheen Mazhab Ka Waqiya Column By Engineer Muhammad Abrar, the column was published on 07 December 2021. Engineer Muhammad Abrar has written 20 columns on Urdu Point. Read all columns written by Engineer Muhammad Abrar on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.