ناخواندگی

جمعرات 21 اکتوبر 2021

Hussain Jan

حُسین جان

پاکستان جنوبی ایشیاء میں واقع ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اس ملک کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو صرف سماجی ہی نہیں بلکہ معاشرتی،اقتصادی اور سیاسی مسائل بھی اس ترقی پذیر ملک کو درپیش ہیں۔ بڑھٹی آبادی، ناخواندگی، بے روزگاری ، غربت، چائلڈ لیبر، کرپشن، ذخیرہ اندوزی،کم عمر کی شادی، بے راہ روی، ہراسمنٹ،زبردستی کی شادی،تیزاب گردی قانون کی حکمرانی کا فقدان ،صحت کی سہولیات کا فقدان،اور ریپ جیسے سماجی مسائل پاکستان میں عام ہیں۔

ہم نے سوچا کیوں نا ان سماجی مسائل کو ایک ایک کر کے اجاگر کیا جائے، ان کی وجوہات اور ان پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے پر تفصیل سے لکھا جائے۔
تو اسی سلسلے میں آج ہم ناخواندگی پر لکھنے جارہا ہیں۔

(جاری ہے)

سب سے پہلے تو ہم آسان الفاظ میں ناخواند گی کی تعریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے تو بہت سے دانشوروں اور سماجی سائنسدانوں نے اپنے اپنے اندازاور الفاظ میں ناخواندگی کی تعریف کر رکھی ہے۔

ہم انہی بڑئے لوگوں کی تعریفوں میں سے ایک جامع تعریف نکالنے کی کوشش کریں گے۔انتہائی آسان الفاظ میں لکھنے اور پڑھنے سے قاصر شخص کو ناخواندہ کہتے ہیں۔ کچھ لوگو ں کے نزدیک اخبار تک نا پڑھنے والے لوگ بھی ناخواندگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ سماجی سائنسدان تو نام نا لکھنے والوں کو بھی ناخواندہ یعنی ان پڑھ تصور کرتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک گھڑی پر وقت نا دیکھنے والے بھی ناخواندہ تصور کیے جائیں گے۔


یہ تو ہوگئی ناخواندہ کی تعریف اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں ناخواندگی کی شرح کتنی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں خواندہ افراد تقریبا کی تعداد تقریبا58فیصد ہے۔ اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ شرع بہت کم بلکہ افسوس ناک حد تک کم ہے۔ موجودہ دور میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے افراد کی بڑی تعداد لکھنا پڑھنا جانتی ہو۔

آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کیوں ہمارا ملک خواندگی کی شرع میں اتنا پیچھے راہ گیا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو بتاتے چلیں کہ خواندگی کی شرع کم ہونے کی وجوہات بھی سماجی مسائل ہیں۔ اور ان وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ اس کے وسائل اتنے نہیں کہ ہر پاکستانی کو مفت تعلیم مہیا کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو وسائل دستیاب ہیں ان پر بھی اشرافیہ کا قبضہ ہے۔

مزدور، ریڑھی بان، چھوٹے دکاندار وغیرہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر لڑکا پیدا ہوا تو اسے جلد از جلد کام پر بھیج دیا جائے گا تاکہ وہ گھر کے اخراجات اٹھانے میں معاون ہوسکے۔ لڑکیاں اس حوالے سے زیادہ بدنصیب ہیں۔ ان کو گھر کے کام کاج میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لہذا اس طرح نا تو لڑکے سکول جا پاتے ہیں اور نا ہی بہت سی لڑکیاں سکولوں کے منہ دیکھ پاتی ہیں۔


والدین کا ان پڑھ ہونا بھی ناخواندگی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ اکثر والدین سوچتے ہیں کہ بچوں نے پڑھ کر کیا کرنا ہے ہماری طرح انہوں نے بھی تو مزدوری ہی کرنی ہے لہذا بجائے اس کے کہ ان کو سکول بھیجا جائے ان کو کسی کام پر لگا دو۔ کچھ لوگ مذہب کی آڑ لے کر بھی لڑکیوں کو سکول نہیں بھیجتے۔ کم آمدنی بھی ناخواندگی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ لوگوں کو سکول کے اخراجات پورے کرنے کے وسائل ہی دستیاب نہیں ہوتے۔

اس کے ساتھ ساتھ صحت کی ناکافی سہولتیں بھی ناخواندگی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں زچہ و بچہ کے لیے سہولیات کا فقدان ہے۔ بچوں میں پیدائشی طور پر بہت سی بیماریاں جنم لے لیتی ہیں۔ بعض اوقات تو ان بچوں کی پوری عمر ہی ان بیماریوں سے لڑنے میں گزر جاتی ہے ایسے میں وہ سکول نہیں جاپاتے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ناخواندگی کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے ہمیں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔بڑا سیدھا سادھا سا فارمولہ ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت وقت کو اپنی زمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑئے بچوں کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ تعلیمی سہولیات باہم پہنچائے۔ ایک بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سرکار سکولوں میں تو فیسیں بہت کم کردیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو دیگر اخراجات جیسے کہ یونی فارم، کتابیں، سواری وغیرہ والدین کو خود برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

اور ظاہر ہے غریب والدین کے اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ یہ اخراجات برداشت کرسکیں۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ فیس کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات بھی مہیا کرئے۔
اس کے ساتھ ساتھ این جی اوز اور اشرافیہ کوبھی چاہیے کہ ایسے تعلیمی ادارئے بنائیں جن میں فیسوں کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات بھی میسر ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ پریکٹس عام ہے وہاں بڑئے بڑئے لوگ اپنے اخراجات پر سکول چلا رہے ہوتے ہیں جن میں بچے مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر چیز بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔


پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ الحمد اللہ یہاں ہر گلی میں کوئی نا کوئی مسجد موجود ہوتی ہے۔ اگر اس مسجد کو نمازوں کے اوقات کے بعد بطور مدرسہ یا سکول استعمال کر لیا جائے تو بھی خواندگی کی شرح کو بڑھایا جاسکتاہے۔ اہل محلہ صرف اپنی اپنی گلی کے غریب بچوں کے تعلیم کے اخراجات برداشت کرلیں تو بھی پاکستان میں تعلیم عام ہوسکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے تعلیم پر بہت زور دیا ہے۔ تعلیم روشنی ہے ، منزل تک پہنچے کی بہترین سیڑھی تعلیم ہی ہے۔ لہذا یہ ہمارا اجتماہی مسئلہ ہے۔ اور اسے ہم سب کو مل جل کر ہی حل کرنا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے اس فرض کو ضرور پورا کریں گے۔ تعلیم عام ہو گی تو پاکستان بہت جلد ترقی کی منازل طے کرلے گا۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Nakhawandgi Column By Hussain Jan, the column was published on 21 October 2021. Hussain Jan has written 170 columns on Urdu Point. Read all columns written by Hussain Jan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.