ایک ہاں کی دیرہے

جمعرات 16 ستمبر 2021

Mumtaz Abbas Shigri

ممتاز عباس شگری

آمنہ شگری کاتعلق گلگت بلتستان کے ضلع شگرکے علاقے حیدرآبادسے ہے، انکی عمر محض پندرہ سال ہے چھ بہن بھائیوں میں ان کاچوتھانمبرہے، یہ گرلزہائی اسکول الچوڑی میں دسویں جماعت کی طالبہ ہے ، والد محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ والدہ ہاوس وائف ہے، ا ن کے والدگرمیوں کے موسم میں سیاحوں کے ساتھ کے ٹوتک ان کے ساتھ جاتے رہتے تھے جب یہ واپس پہنچتے توسفرکی کہانی اپنی بیٹی کوسناتے تھے، کہانیاں سنتے سنتے آمنہ کولگی میں بھی کے ٹوتک جاسکتی ہوں ، مجھ میں بھی صلاحیت موجودہے، اگردنیابھرکی خواتین کے ٹوسمیت دیگرپہاڑوں کوسرکرسکتی ہے تومجھ میں کیاکمی ہے، یہ اندرہی اندرسوچتی رہتی ہمارے معاشرے میں خواتین نے کبھی کوئی پہاڑسرنہیں کی اگرمیں اس فیلڈکاانتخاب کروں تومعاشرے میں کیاعزت رہے گی، یہ بات اُس کواندراندرسے ملامت بھی کررہی تھی، یہ تعلیمی سلسلے کوآگے بڑھاتے برفیلے پہاڑوں پرپاکستانی سرسبزپرچم لہرانے کاخواب دیکھتے رہے۔

(جاری ہے)


فروری 2021میں کوہ پیماء محمدعلی سدپارہ ،اپنے بیٹے ساجدسدپارہ اوردوغیرملکی کوہ پیماوں سمیت مشن کے ٹوکیلئے روانہ ہوئے ،یہ مسلسل کوشش کرتے رہے ۔ پانچ فروری کی صبح یہ کیمپ تھری سے نکلنے ہی والے تھے ، ساجدکی طبعیت خراب ہوگئی ، والدنے بیٹے کوواپس بھیجنے کافیصلہ کرلیا، ساجدنے والدکوآخری بارالواع کرکے واپسی کاراستہ چن لیاجبکہ محمدعلی سدپارہ ساتھوں سمیت کے ٹوپرسبزہلالی پرچم لہرانے نکل گئے، موسم انتہائی خراب تھا انہیں سانس لینے کیلئے بھی رکناپڑرہاتھا لیکن یہ مشن کے ٹوکوکسی صورت ادھوراچھوڑنے کیلئے تیارنہیں تھے ،یہ بوتل نک پرپہنچے ہی تھے قدرت نے ان سے اجازت چھین لی،یہ تینوں کوہ پیما وہاں سے غائب ہوگئے ، ساجدجب بیس کیمپ پہنچے توپتہ چلاان کابیس کیمپ سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے ،یہ خبرجنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ٹیلی ویژن اسکرین حرکت میں آئی ،سوشل میڈیاپر صارفین حکومت سے انکی تلاش کامطالبہ کرنے لگے ، حکومتی مشینری چل پڑی ہیلی کاپٹرکی مددسے تلاش شروع کردی،کئی دن کی تلاشی کے باجودان کاکوئی سراغ نہیں مل سکا،سترہ فروری کوحکومت نے ان تینوں کوہ پیماوں کومردہ قراردیااوریہ تینوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے برف کی چادراُڑکرسوگئے، آمنہ شگری ان تمام حالات سے باخبرتھی ، انہوں نے مصمم ارادہ کرلیاکہ میں کسی چوٹی کوسرکے علی سدپارہ کے نام کردوں گی، دیرے دیرے یہ انکی خواب بن گئی، ایک دن انہوں نے اپنے والدسے ان باتوں کاذکرکرتے ہوئے ساتھ خسرگنگ سرکرنے کی خواہش کااظہارکیا، والدباہمت تھا معاشرے کی رواج کوپس پست ڈالتے ہوئے اولادکی خوشی کی خاطرہاں میں سرہلایا،رخت سفرباندھا27اگست کویہ والداوربھائی کے ہمراہ خسرگنگ کی طرف نکل گئے، گھرسے نکلتے ہوئے والدہ سے اجازت طلب کی تووالدہ دل پرپتھررکھ کرآنکھوں میں آنسوبھرتے ہوئے بولی میری بیٹی تم کرسکتی ہے ،میں تمہیں روک نہیں سکتی ، میں تمہیں اللہ کے حوالے کررہی ہوں ، ماں کی اجازت کے ساتھ یہ صبح سویرے نکل پڑے ، سفرکرتے کرتے جب یہ بیس کیمپ پرپہنچے توموسم تیوربدلنے لگا،آسمان پربادل نمودارہوا اوردیکھتے ہی دیکھتے پوری فضا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی کم تھی، انکاٹاگٹ چارسے پانچ دن کاتھالیکن موسم کی سختیوں نے ان کومزیدانتظارپرمجبورکردیا،ان کے ہاں دوہی راستے تھے ، کم سے کم کھانے پینے کی اشیاپراکتفا کرتے ہوئے چوٹی سرکرلیں یاواپسی کاراستہ اختیارچن لیں، اس دوران آمنہ کاوالدہمت کاچٹان ثابت ہوا، بیٹی کی آنکھوں میں آنکھیں ملاکرکہنے لگی بیٹاہم کسی صورت چوٹی سرکرکے ہی واپس لوٹیں گے،انکی ٹیم بیس کیمپ میں دودن ٹھہرنے کے بعدکیمپ ٹوکی جانب روانہ ہوئے جوں جوں اوپرکی طرف بڑھنے لگے موسم کی سختیاں انکے راستے میں حائل ہوتاگیا کیمپ ٹومیں تین دن قیام کے بعد کیمپ تھری سے ہوتاہو ایہ ا ٓٹھویں دن چوٹی تک پہنچنے ہی والاتھا، موسم ایک بارپھرانگڑائیاں لینے لگا ،3ستمبر کو باپ بیٹے جواں مردی کے ساتھ ٹھیک 12بج کر17منٹ پر 6400میڑ بلندخسرگنگ کی چوٹی کی نوک پرمثل دیوارکی طرح کھڑے ہوگئے اورپاکستان کاپرچم لہراتے ہوئے اللہ کاشکراداکیا، اس وقت آمنہ کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ وہ اپنی خواب کوتکمیل ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی، ان کے ہاتھ میں پرچم عباس بھی تھاجوانہوں نے نے نوامیں پیاساشہیدکربلاعملدارعباس کی بہن زینب (س)کوپرسہ دینے کیلئے لے گئی تھی ،ہواکی لہربہت تیزتھی، برف اُڑرہی تھی یہ چوٹی کی نوک پرچارمنٹ کھڑی رہی،اوراللہ اکبر،لبیک یاحسین کی صدابلندکرکے واپس مڑگئی، انکے لیے واپسی کاراستہ بھی آسان نہیں تھا،نیچے اترے آمنہ کی پاوٴں سرک گئی اوربرف کے گراس میں گرگئی،رسی کاایک سراوالدکے کمرکے ساتھ جبکہ دوسراسرابھائی کے کمرکے ساتھ بندھاہواتھا بہن کوگرتے دیکھ کربھائی نے پوزیشن سنبھالی ،یہ ان کیلئے خطرناک موڑتھا،قدت ان پرمہربان ہوئی اوریہ بچ گئی ۔


آمنہ اورانکی ٹیم کی واپسی کی خبرسن کر گاوں کے مردوزن انکے استقبال کیلئے ہاتھوں میں پھول لیکرکھڑے تھے جبکہ یہ ماں کوخوش خبری دینے کیلئے بے تاب، گاوٴں میں شایان شان طریقے سے انکااستقبال ہوا، لوگوں نے ہاربھی پہنائے لیکن اس نے گلے سے ہاراتارکرآنسوصاف کرتے ہوئے والدکے گلے میں ڈال کرکہامیراہیرومیراوالد ہے، یہ کیفیت عجیب تھااس منظرنے ہرشخص کے آنکھوں کوآنسووں سے ترکردیا،ننھی کوہ پیماکی کامیاب مہم جوئی پرگاوں والے خوش تھے ہرطرف سے مبارک بادی کاسلسلہ شروع ہوگیا۔


میری ان سے کچھ دن پہلے بات ہوئی ،یہ چاہتے ہیں کہ حکومت بلتستان کے ضلع شگرمیں ماونٹیرنگ اسکول بنائیں،تاکہ انہیں بہترین اندازمیں ٹریننگ مل سکیں ،یہ گلگت بلتستان حکومت سے نالاں بھی نظرآئے ان کے مطابق وزیرسیاحت راجہ ناصرعلی خان کوماونٹیرنگ اسکول شگرمیں بناناچاہیے کیونکہ یہاں کے باہمت کوہ پیما مروزن پہاڑوں کوسرکرناچاہتے ہیں،میں یہاں آمنہ شگری سے اتفاق کرتاہوں آخرحکومت اس اسکول کوشگر کی بجائے ہنزہ میں کیوں بناناچاہتی ہے ، حکومت ضدکیوں کرناچاہتی ہے ،کیاآپ نہیں چاہتے ہمارے نوجوان نسل کے ٹو،جی ون ،جی ٹو، بروپیک جیسے چوٹیوں پرپاکستانی پرچم لہرائیں ، کیاآپ نہیں چاہتے ہماری نوجوان نسل دنیابھرمیں پاکستان کانام روشن کریں ، اگرچاہتی ہے توان کیلئے ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے آپ کوان نوجوانوں کی کامیابیاں ہضم نہیں ہورہی توکم ازکم پاکستانی پرچم کے ساتھ وفاداری نبھائیں ،یہاں کے نوجوان پاکستانی پرچم کوآنکھوں کاتارااوردل کامسکن سمجھتے ہیں یہ اس سرسبزپرچم کودنیاجہاں میں لہراناچاہتے ہیں بس آپ کے ایک ہاں کی دیرہے ،جس دن آپ ہاں میں سرہلائیں گے مانٹیرنگ اسکول شگرمیں بن جائیں گے اوریہ لوگ بھی ہرچوٹی سرکرسکیں گے، بلتستان کے نوجوان مردوں کی طرح بہنیں بھی کسی سے کم نہیں ،یہ ہرچوٹی کے آخری نوک پرپاکستانی سرسبزپرچم لہراناچاہتے ہیں ،بس انہیں حوصلے کی ضرورت ہیں انہیں گائیڈلائن کی ضرورت ہیں ،جس دن انہیں گائیڈلائن ملیں گے یہ دنیاجہاں میں کامیابی کے جھندے گاڑدیں گے، اوراگرہم یوں حقدارکوحق دینے کی مخالفت کرتے ہوئے جینے کوروش بنائیں گے توشایدآگے آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے ،ہمارانام لینے والابھی کوئی نہیں ہوگا،وہ ہماری قبروں کوبھی ٹھوکرماریں گے،کیونکہ تاریخ حقوق دینے اور کارنامے انجام دینے والوں کی یادرکھی جاتی ہے حقوق چھینے والوں کی نہیں ۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Aik Haan Ki Deer Hai Column By Mumtaz Abbas Shigri, the column was published on 16 September 2021. Mumtaz Abbas Shigri has written 8 columns on Urdu Point. Read all columns written by Mumtaz Abbas Shigri on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.