
طلوعِ خورشیدِ انقلاب کے بعد
جمعرات 9 جولائی 2020

مراد علی شاہد
(جاری ہے)
کوئی بھی انقلاب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جیسے کے روس،چین،فرانس،باستیل یا ٹی انقلاب کامیابی کے بعد زیادی دیر استحکام پذیر نہیں رہتا۔اس کی کیا وجوہات ہیں کہ انقلاب کامیاب ہونے کے بعد وہی انقلابی اپنے ہی لائے ہوئے انقلاب کے خلاف کیوں ہو جاتے ہیں۔ایک بڑی وجہ جو میں نے تاریخ کی کتابوں سے اخذ کی ہے وہ یہ ہے کہ جو توقعات وامیدیں دورانِ انقلاب راہنماؤں سے باندھ لی جاتی ہے ان سب کا نتیجہ انقلابی جلدی میں دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔لیکن یہ برخلاف فطرت ہوتا ہے یعنی کوئی بھی انقلاب لاتے ہوئے انقلابی کو جتنی جدو جہد،مشکلات،جانی ومالی نقصان اور وقت درکار ہوتا ہے انقلابی اس کے نتائج پلک جھپکتے ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ انقلابیوں کو راہنماؤں کی طرف سے سوہانے خواب اور دودھ کی نہروں میں نہانے کے قصے سنائے جاتے ہیں جو انقلاب کامیاب ہو جانے کے بعد ملک میں فوری طور پر نظر نہیں آتا تو راہنماؤں کے جلد deliver نہ کرنے کی ایک وجہ سے انقلاب اپنے نتائج ویسے اور جلد نہیں دے پاتا جس کی توقعات انقلابی رکھے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ میرے خیال میں انقلاب کامیاب ہونے کے بعد نتائج کیوں جلد نہیں ملتے اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔
سماجی مسائل،معاشی مسائل اور توقعات
یہ تینوں مسائل ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں یا لازم وملزوم ہیں یعنی کہیں نہ کہیں ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ان تینوں کا تعلق انسان اور سماج سے ہے۔گویا انسانی ترقی دراصل سماجی ترقی ہوتی ہے،انسان سماجی ترقی کے لئے انقلاب لاتے ہیں جس سے سماجی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح ہم انقلاب کے زمانہ میں راہنما کی باتیں سنتے ہیں اور اس کی بجا آوری کے تن من کی بازی لگا دیتے ہیں انقلاب کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہماری نہیں بلکہ راہنما کی ذمہ داریاں شروع ہو چکی ہیں یقین جانئے یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہونی چاہئے کہ انقلاب کے کامیاب ہو جانے کے بعد تو دراصل ہماری ذمہ داریاں شروع ہوتی ہیں کہ اب اس کامیابی کے استحکام کو کیسے استقلال بخشنا ہے۔راہنما کے کاندھے سے کاندھا ملانا ہے اور پورے معاشرے کو ایک پرچم تلے جمع کر کے انقلاب کے ثمرات کو محفوظ رکھنے کے طریقے بتانا ہیں تاکہ جو پھل اس انقلاب کے سائے تلے آبیار ہوا اس کی جڑیں بھی مضبوط رہیں اور ثمر آور بھی ہو۔اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس طرح ہر کسی کو پنا اپنا معاشرتی کردار نبھانے کا موقع مل جائے گا جس سے معاشی ترقی ناگزیر ہو جائے گی لیکن
اگر عوام کی توقعات پر پورا نہ اترا جاسکے تو پھر یا تو انقلاب ناکام ہو جاتے ہیں یا پھر نئے انقلاب کی راہیں ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اب جہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں نئے انقلاب کے داعی بننا چاہئے یا پھر دوبارہ انہیں سیاسی راہنماؤں پر بھروسہ کیا جائے۔تو میرے خیال میں آزمودہ سیاسی ہاتھوں سے بہتر ہے کہ نئے انقلاب کی طرف جایا جائے۔کیونکہ آزمائے ہوئے کو آزمانا بے وقوفی ہوتی ہے اور پھر بحثیت مسلمان ہمارا یہ بھی عقیدہ ہونا چاہئے کہ مومون ایک ہی بات سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ ہمیں نئے انقلاب کت ڈر سے آزمودہ کو نہیں آزمانا چاہئے بلکہ نئے انقلاب کے خواب دیکھنا شروع کر دینے چاہئے۔کیونکہ ہر انقلاب اسی سوچ کے ساتھ لایا جاتا ہے کہ معاشی خوش حالی ہوگی اور معیشت بہتر ہوگی جس سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوگالیکن حقیقت میں کیا ہوتا ہے کہ جب انقلاب کامیاب ہوجاتا ہے،معاشی خوش حالی عروج پر جانے لگتی ہے تو پھر سیاسی کھیل شروع ہوجاتا ہے۔اس طرح ان لوگوں کی وجہ سے جو انقلاب معاشی خوش حالی کے لئے لایا گیا تھا اسی معاشی خوش حالی کی وجہ سے اپنی موت آپ مرجاتا ہے۔کیونکہ پیسے کی ریل پیل انسانوں میں لالچ اور خود غرضی پیداکر دیتی ہے جس سے کرپشن جنم لیتی ہے۔اسی کرپشن کی وجہ سے لوگوں میں دولت جمع کی ہوس پرورش پاتی ہے جو انقلاب کے موت کا باعث بن جاتی ہے۔لہذا انقلاب کامیاب کرانا اتنا مشکل نہیں جتنا کامیاب انقلاب کی پاسداری کے لئے جدوجہد کرنا۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
مراد علی شاہد کے کالمز
-
برف کا کفن
بدھ 12 جنوری 2022
-
اوورسیز کی اوقات ایک موبائل فون بھی نہیں ؟
منگل 7 دسمبر 2021
-
لیڈر اور سیاستدان
جمعہ 26 نومبر 2021
-
ای و ایم اب کیوں حرام ہے؟
ہفتہ 20 نومبر 2021
-
ٹھپہ یا بٹن
جمعہ 19 نومبر 2021
-
زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔
منگل 9 نومبر 2021
-
لائن اورکھڈے لائن
جمعہ 5 نومبر 2021
-
شاہین شہ پر ہو گئے ہیں
جمعہ 29 اکتوبر 2021
مراد علی شاہد کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.