انڈے اورڈنڈے ہی کیوں ۔۔؟

پیر دسمبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

بے پناہ مصروفیات نے کتابوں سے رشتہ اورجدیددورکے سائنسی ایجادات وسہولیات نے کتاب سے بچاکچاناطہ توڑا۔کسی وقت میں ہمارانام بھی کتابی کیڑوں کی فہرست میں شامل ہواکرتاتھا۔افسانوی ناول ،محبت نامے اورقصے کہانیوں کی کتابوں سے تومنٹوں اورچند گھنٹوں میں ہم تیرکی طرح آراورپارہوتے ۔بسااوقات کسی کتاب کاکام تمام کرتے کرتے دن اوررات کابھی پھرپتہ نہ چلتا۔

خیر جب سے دنیاوی ذمہ داریوں نے ہمیں گھیراہے سچ تویہ ہے تب سے کام کی مصروفیت کے باعث کتاب کیا۔۔؟ آرام وسکون سے پیٹ کی پوچاکرنے کاٹائم بھی اکثر نہیں ملتا۔بے پناہ مصروفیات کے ساتھ موبائل ،انٹرنیٹ ودیگرسائنسی سہولیات نے بھی ہمیں کتاب سے دوربہت دورکردیاہے۔کتاب،افسانوں ،قصوں اورکہانیوں سے کوئی رشتہ اورناطہ ہوتاتوہم شیخ چلی کی انڈوں والی کہانی صحیح سلامت سامنے لاتے مگرافسوس کتاب،افسانوں ،قصوں اورکہانیوں سے دور ہونے کے باعث شیخ چلی کی اصل کہانی کے بارے میں ہمیں کچھ زیادہ علم نہیں ۔

(جاری ہے)

سردی کے اس موسم میں ایوان اقتدارسے گرم گرم انڈوں کی گونج کے باعث شیخ چلی کی انڈوں والی کہانی کاآج ملک بھرمیں گلی گلی اورقریہ قریہ چرچاہے۔اس کہانی کوپہلے بھی ہرکسی نے اپنے مزاج اورالفاظ کے مطابق پیش کیااوریہ سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے۔شیخ چلی اورانڈوں کی ٹھوکری تووہی ہے لیکن آگے پیچھے والی کہانیاں جداجدا۔بہرحال مطلب ،نچوڑاورنتیجہ سب کاایک ہی ہے کہ شیخ چلی کے خیالی پلاؤ۔

ہم بھی کچھ مرچ مصالحے کااضافہ کرکے شیخ چلی کی انڈوں والی کہانی نقل کررہے ہیں ۔کہتے ہیں پہلے زمانے میں لوگ قبیلوں میں رہتے تھے۔ ہر قبیلے کا ایک رہنماء ہوتا تھا، جس کو سردار یا شیخ کہاجاتاتھا۔ ان قبیلوں میں ایک قبیلہ چلی کے نام سے مشہور تھا، جو خیالی پلاؤ پکانے میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ چلی قبیلے کے لوگ اپنے سردار کو شیخ چلی کہتے تھے۔

شیخ چلی اپنے نام کی طرح بڑے بڑے خیالی منصوبے بناتا اور ناکام ہو جاتا۔۔ ایک دن شیخ چلی ایک شخص سے بڑے بڑے منصوبے بنانے پر بحث کر رہا تھا۔ اس شخص نے شیخ سے کہا۔ شیخ صاحب! آپ اتنے بڑے منصوبے کیوں بناتے ہیں؟ آپ نے ایک ہفتے بعد اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے۔ یہ سننا تھا کہ شیخ چلی نے قبر کھدوائی اور اس میں لیٹ گیا۔ چھ دن گزر گئے۔ کچھ نہ ہوا۔

ساتویں دن شیخ نے سوچا کہ یہ ہفتے کا آخری دن ہے، موت آئی کے آئی۔ لیکن اس کے کان میں آواز پڑی اگر کوئی اللہ کا نیک بندہ یہ انڈے میرے گھر تک پہنچا دے تو میں اسے ایک اشرفی دوں گا۔ شیخ چلی اشرفی کا نام سن کر قبر سے باہر نکل آیا اور انڈے اٹھا لئے۔ مالک بولا، انڈے ٹوٹنے نہ پائیں ورنہ ایک پائی نہ دوں گا۔ شیخ چلی بڑے غرور سے بولا۔ شیخ چلی ہوں، کسی چھوٹے موٹے قبیلے کا سردار نہیں۔

پھر وہ انڈے لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے جب تھکاوٹ محسوس ہوئی توشیخ چلی ایک درخت کے نیچے ٹیک لگائے بیٹھ گیا،شیخ چلی نے بیٹھتے ہی انڈوں والی ٹھوکری اپنے پاؤں کے آگے رکھ دی۔خیالوں کی دنیا کاتو وہ تھاہی بادشاہ،ٹیک لگائے کچھ آرام ملتے ہی لگا سوچنے۔ انڈوں کی مزدوری سے مجھے اشرفی ملے گی، اشرفی سے مرغی لے لوں گا، وہ مرغی انڈے دے گی، انڈے بیچ کر پھربکری لے لوں گا، وہ بکری پھر بچے دے گی، بکری کے بچے بیچ کر گائے لے لوں گا، وہ دودھ دے گی، دودھ بیچ کربھینس لے لوں گا۔

پھر جب میرے پاس بہت سے روپے اکٹھے ہوجائیں گے تو میں ایک عالی شان محل بناؤں گا،اس محل میں میری بیوی بچے بھی شاہانہ اندازسے رہتے ہوں گے،ہمارے کئی نوکرہوں گے،کوئی نوکرجب مجھ سے پیسے مانگے گاتومیں اسے یوں لات ماردوں گا۔ لات مارناہی تھاکہ ٹھوکری میں پڑے سارے انڈے ٹوٹ اورشیخ چلی کے خیالوں کی دنیامیں بننے والے سارے محل ریزہ ریزہ ہوگئے۔

اسی لئے توکہاجاتاہے کہ خیالوں کی دنیامیں بنائے جانے والے محل اورتاج محل ،،وقت کا ضیاع،،سے آگے کچھ نہیں ہوتے۔وزیراعظم عمران خان نے مرغیوں اورانڈوں کے ذریعے نئے پاکستان بنانے کے جوخواب دیکھنے شروع کردےئے ہیں وہ شیخ چلی کے خیالی پلاؤاورخیالی دنیامیں بنائے جانے والے محلات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔معیشت اورتجارت کے ہم خلاف نہیں ۔

معاش اورذریعہ معاش پرہی توزندگی کایہ نظام آگے بڑھ رہاہے، امیرہے یاغریب،کوئی حکمران ہے یاعوام ،معاش کے بغیرکسی کابھی گزارہ ممکن نہیں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ انڈوں اورمرغیوں کے کندھوں پرنہ تونئے پاکستان بنائے جاسکتے ہیں اورنہ ہی ترقی کوپروان چڑھایاجاسکتاہے۔انڈے سے چوزہ تونکل سکتاہے لیکن نیاپاکستان کبھی بھی نہیں ۔ماناکہ انڈوں اورمرغیوں کی فارمنگ منافع بخش کاروبار،اچھاذریعہ معاش اورمعیشت کی مضبوطی کے لئے لوہے کے پل کاکرداراداکرتاہوگالیکن ان سب اچھائیوں ،دلائل ،خوبیوں اورباتوں کے باوجودکسی ملک کے وزیراعظم کی زبان سے کارخانوں،فیکٹریوں،موٹرویز،ملز،پارکس ،ہاؤسنگ سوسائٹیزاورروزگارسکیموں کی بجائے مرغیوں اورانڈوں کے تذکرے اچھے نہیں لگتے۔

حکومت کی طرف سے غریبوں کوانڈے دینے کااعلان یہ اس ملک اورغریبوں کے ساتھ مذاق نہیں تواورکیاہے۔۔؟ کیاحکومت صرف انڈے اورڈنڈے دینے کے لئے ہی رہ گئی ہے۔۔؟ویسے بھی انڈے اورمرغیاں بیچنے سے معیشت کتنی مضبوط ہوگی۔۔؟ہوامیں اڑنے والے ڈالروں کے سامنے ان مرغیوں اورانڈوں کی کیاحیثیت ہے ۔۔؟ وزیراعظم عمران خان انڈوں کے ذکرخیرکی بجائے غریبوں کے لئے آسان شرائط پرقرضوں اورکسی روزگارسکیم کے تحت رکشے،ٹیکسیاں اورکیری ڈبے دینے کااعلان بھی توکرسکتے تھے۔

معاشی نظام کومضبوط سے مضبوط تربنانے کے لئے زمینداروں،کاشتکاروں اورکسانوں کوپانی،بجلی اورکھادکی فراہمی پربھی توکسی خاص ریلیف اورپیکج کااعلان کیاجاسکتاتھا۔وزیراعظم نے اگرانڈوں اورمرغیوں کاذکرلازمی کرناہی تھاتوپھرلوگوں کوانڈے دینے کی بجائے ملک کے دوردراز،پسماندہ اوردیہی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پرحکومتی سرپرستی میں پولٹری فارمزبنانے کیلئے سکیمیں شروع کرنے کااعلان کردیاجاتا۔

اس سے معیشت کاکچھ بھلاہوتایانہ لیکن کم ازکم گرم گرم انڈوں کایہ ذکرتوآج ہرجگہ نہ ہوتا۔سردیوں کے اس موسم میں گرم گرم انڈے توویسے بھی ہرجگہ ملتے ہیں ،آج جہاں کہیں بھی گرم گرم انڈوں کی کوئی آوازسنائی دیتی ہے توپھرانڈوں کی شروع ہونے والی کہانی شیخ چلی کی بجائے وزیراعظم عمران خان پرجاکرختم ہوتی ہے۔ہمارے جیسے غریب لوگوں کے منہ سے ،،گرم انڈے ،گرم انڈے،،کے نعرے اچھے نہ لگیں توبرے بھی ضرورنہیں لگیں گے لیکن ملک کے وزیراعظم کے منہ سے انڈوں اورمرغیوں کے نعرے کسی بھی طورپراچھے نہیں لگتے۔

جنگل کابادشاہ شیراگرچوہے کوپکڑنے کاکام کرے یااس بارے میں اوروں کودرس دیناشروع کردیں توپھرشیرکولوگ کیسے شیرکہیں گے یاسمجھیں گے۔؟جس طرح چوہے کاشکارشیرکاشایان شان نہیں اسی طرح ،،گرم انڈے ،گرم انڈے ،،کی صدالگاناوزیراعظم کے ساتھ بھی سوٹ نہیں کرتا۔نئے پاکستان بنانے اوربڑے بڑے مگرمچھوں کودبوچنے کے لئے آنے والااب اگرانڈوں کاکاروبارشروع کردیں تواسے پھرملک وقوم کی بدقسمتی کے سوااورکیا کہاجاسکتاہے۔

وزیراعظم عمران خان کوچاہئیے کہ وہ انڈوں اورمرغیوں والاکام روزنئے نئے سوشے چھوڑنے اورکچھ نیاکرنے کی تلاش میں سرگرداں وزیروں اورمشیروں کے حوالے کردیں ،پریس کانفرنسزکے شوقین یہ وزیراورمشیراگر،،گرم انڈے ،گرم انڈے،،کی آوازلگائیں گے تویہ ان کے ساتھ کم ازکم سوٹ توکرے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Ande Or Dande Kiyon Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 03 December 2018. Umer Khan Jozvi has written 308 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.