پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنا عالمی سازش کا حصہ ہے، ہم آئین،

پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کے خلاف افغانستان میں امریکہ، بھارت گٹھ جوڑ اور پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کے تناظر میں ہمیں محتاط ہو کر چلنا چاہئے،موجودہ حالات میں قومی سطح پر بیداری کی ضرورت ہے، جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

منگل اپریل 23:12

پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنا عالمی سازش کا حصہ ہے، ہم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنا عالمی سازش کا حصہ ہے، ہم آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کے خلاف افغانستان میں امریکہ،، بھارت گٹھ جوڑ اور پاک۔۔چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کے تناظر میں ہمیں محتاط ہو کر چلنا چاہئے، تمام تر توجہ اس بات پر دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نے جمہوریت،، آئین، پارلیمنٹ اور ملک کی آزادی کو کیسے برقرار رکھنا ہے۔

منگل کو یہاں نیشنل لائبریری میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سطح پر بیداری کی ضرورت ہے، ہم نے ماضی میں قومی ریاستی اور حکومتی سطح پر بہت سی غلطیاں کی ہیں،،پاکستان کے پہلے الیکشن میں ہم نے عوام کے ووٹ اور اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، تاریخ کی اس غلطی کی وجہ سے ملک دولخت ہوا، جو بچا کھچا پاکستان کی صورت میں ہمیں ملا۔

پہلے عبوری حکومت بنی اور عبوری آئین بنا، اس عبوری دور میں بھی ہم نے بلوچستان کی حکومت پر شب خون مارا جس کی وجہ سے ملکی سیاست میں تنائو آ گیا، 1977ء میں بھی مینڈیٹ چوری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جو ملک کے عقیدے، نظریے اور سیاسی نظام کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے انحراف کریں گے تو نہ ہمیں وہ جمہوریت ملے گی نہ وہ نظام ملے گا نہ ووٹ کی عزت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد بندوق اور طاقت کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کا طریقہ کار ختم ہو چکا ہے، پاکستان اتنا مضبوط ملک نہیں ہے کہ یہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالات اور انقلابات سے متاثر نہ ہو۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران افغانستان میں جنگ کا آغاز ہوا، اس میں ہم کودے،اس کو ہم نے اپنی جنگ قرار دیا، جب تاریخ اس کا جائزہ لیتی ہے تو اسے امریکہ اور روس کے درمیان جنگ کہتی ہے، اس جنگ کے نتیجہ میں سوویت یونین ٹوٹ گیا مگر افغانستان میں ایک بار پھر امریکہ کی مداخلت ہو رہی ہے، امریکہ کس زوایہ سے دیکھ رہا ہے ہمیں اس کا ادراک کرنا چاہئے، امریکہ دنیا کی نئی جغرافیائی تقسیم اپنے مفادات کے تابع چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ کی پرچی جس کے پاس ہے اس کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے، اب تلوار، بندوق اور توپ و تفنگ نے نہیں ووٹ کی پرچی نے اقتدار کا فیصلہ کرنا ہے، ہمیں پوری دنیا کی فتوحات و شکستوں کی تاریخ کا جائزہ لینا چاہئے، اگر ہم آج جمہوریت کی طرف آئے ہیں تو اسے برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس اصول کو مدنظر رکھنا ہے کہ ہمیں ووٹ کی پرچی کی عزت قائم رکھنی ہے، اگر کوئی ریاستی ذمہ داریوں کی بجائے حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے آگے بڑھتا ہے تو پھر ٹکرائو پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی کو یہ تاثر ملے کہ اس کا جج فریق ہے تو ایسے فیصلے متنازعہ تصور ہوں گے اور یہ فیصلے دنیا کی کسی عدالت میں بطور مثال پیش نہیں کئے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کی آزادی کے قائل ہیں، اگر جج اس معیار پر پورا اترتا ہے تو ہمارے سر کا تاج ہے، ہم عدلیہ کو بہت بڑی عزت اور مقام دیتے ہیں، خدا کیلئے ہمارے دل میں عدلیہ کا احترام کم نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کس ادارے کو کب چھیڑا ہے، میرے نوٹس میں نہیں ہے۔ انہوںنے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کوئی اندر ولی گل اے تے سانوں دسو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ والا معاملہ دنیا میں کہیں بھی سیاسی بحران کی بنیاد نہیں بنا، دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ کہیں یہ عالمی سازش تو نہیں ہے، پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے پہلے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ہو رہی ہے، ہمیں ملک کے حوالہ سے سوچنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف ہو چکے ہیں، چین کے ساتھ ہماری اقتصادی دوستی کی وجہ سے بھارت اور امریکہ ایک ہو چکے ہیں، معاملات کہاں سے آ رہے ہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پانامہ میں ایک یا دو کمپنیاں ہوں گی مگر پاکستان میں جن لوگوں نے سب سے زیادہ کمپنیاں چھپائی ہیں وہ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم آہنگی چاہتے ہیں اس لئے ہمیں محتاط ہو کر چلنا چاہئے، ہم بات چیت اور افہام و تفہیم والے لوگ ہیں مگر مکالمہ کیلئے مکالمہ کا ماحول ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا ہے کہ اس ملک کو آزاد کیسے رکھنا ہے، اس کے جمہوری پارلیمانی صوبوں کے اختیارات کے نظام کو کیسے تسلسل دینا ہے، ہمیں ملک کے خوشحال مستقبل کے حوالہ سے سوچنا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments