لاہور، Kالیکٹرک کے شہریوں پر ظلم کے خلا ف جماعت اسلامی کی جدوجہد کا عوام کو ساتھ دینا چاہیے ، سراج الحق

تاکہ کراچی کے اندھیروں کو دو ر کیا جاسکے،جے آئی ٹی رپورٹس میں ثابت ہوگیاہے کہ K الیکٹرک گیس کے ساتھ ساتھ فرنس آئل سے بجلی بناسکتی ہے لیکن جان بوجھ کر شہریوں کو تنگ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت سے کم بجلی پیدا کر رہی ہے ، امیر جماعت اسلامی

جمعرات اپریل 23:53

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ Kالیکٹرک کے شہریوں پر ظلم کے خلا ف جماعت اسلامی کی جدوجہد کا عوام کو ساتھ دینا چاہیے تاکہ کراچی کے اندھیروں کو دو ر کیا جاسکے ۔ جے آئی ٹی رپورٹس میں ثابت ہوگیاہے کہ K الیکٹرک گیس کے ساتھ ساتھ فرنس آئل سے بجلی بناسکتی ہے لیکن جان بوجھ کر شہریوں کو تنگ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت سے کم بجلی پیدا کر رہی ہے ۔

لوٹا کریسی کی سیاست نے جمہوریت کو بدنام کردیاہے ۔ پاکستانی عوام نے آج تک ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں دیکھی بلکہ ملک پر ستر سال سے آمریت مسلط ہے ۔ عوامی حکمرانی کے نعرے کا مطلب ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کی حکمرانی ہے ۔ حقیقی احتساب اب بھی نظر نہیں آتا صرف ہوائی فائرنگ ہورہی ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان کو کرپشن فری بنانا ہے تو چھ ہزار لٹیروں کو جیلوں میں بند کرنا پڑے گا ۔

حالیہ خرید و فروخت سے سینیٹ کی حیثیت مجروح ہوئی ہے جو گناہ ہوا اس کا دوسرا فریق بھی تلاش کرنا چاہیے ۔ گندے پانی سے پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کبھی بھی بار آور نہیں ہوتی ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے ڈی ایچ اے لاہور میں خواجہ اسرارالحق چشتی نظامی فخری کی رہائش گاہ پرعلما ء و مشائخ عظام کی عشائیہ تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

تقریب میں علماء و مشائخ نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر خواجہ اسرار الحق چشتی نظامی فخری نے بھی خطاب کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کو دیانتدار اور باکردار قیادت صرف علماء اور صاحب تصوف ہستیاں ہی دے سکتی ہیں جو عام لوگوں کی عزت و تکریم اور محبت و عقیدت کا مرکز ہیں ۔ پاکستان کے قیام میں علماء و مشائخ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔

انہوںنے کہاکہ ملک پر آج تک مسلط رہنے والوں نے سوائے لوٹ مار اور کرپشن کے کچھ نہیں کیا ۔ بار بار آزمائے ہوئوں کو آزمانا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانی کے لیے ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد پھر پہلے کو آزمایا گیا مگر ستر سال میں کوئی خیر برآمد نہیں ہوا بلکہ آدھا ملک بھی ہاتھ سے جاتا رہا۔ پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر عوام کو کندھوں پر اٹھانے اور سرپر بٹھانے والے بھی عوام کو دھوکا دیتے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ اگر سیاسی جماعتیں ملک سے کرپشن ختم کرنا چاہیں تو وہ کسی کرپٹ کو اپنے نزدیک نہ پھٹکنے دیں مگر کئی کئی باریاں لینے والی جماعتیں بھی اپنی صفوں کو لٹیروں سے پاک نہیں کر سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ 2018 ء کے انتخابات قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ عوام کو ان انتخابات میں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے لینڈ ، ڈر گ اور شوگر مافیا اور نیب کو مطلوب لوگوں سے بچانا ہوگا ۔

انھوں نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کرپشن میں ملوث عناصر کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ جن لوگوں کے خلاف نیب میں کیس چل رہے ہیں ، جن کے نام پانامہ ، دبئی اور لندن لیکس میں ہیں یا جن لٹیروں نے قومی بنکوں سے قرضے لے کر معاف کروائے اور بنکوں کو کنگال کیا انہیں یہ موقع نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر پورے انتخابی نظام کو یرغما ل بنا کر ایک بار پھر ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے پانچ چھ ہزار مگر مچھوں کو اڈیالہ جیل میں بند کرناپڑے گا ۔ شکیل)