قوم 11نکات پر یقین کرنے سے قبل خیبر پختونخوا کی بدحالی دیکھ لے،میاں افتخار حسین

خیبر پختونخوا میںتبدیلی نکات دکھائی نہیں دے رہے ،تمام محکمے آخری ہچکیاں لے رہے ہیں، پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا بیان بھی جھوٹ کا پلندہ ہے،وزیر اعلیٰ خود تھانوں میں بند قتل کے ملزمان چھڑاتے رہے،،سیکرٹری جنرل اے این پی

منگل مئی 20:46

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پاکستان بھرکے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کی11نکات پر یقین کرنے سے قبل خیبر پختونخوا کی بدحالی کے بارے میں آگاہی ضرور حاصل کریں ،صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے اور تمام محکمے تباہ ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکبر پورہ میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے نامزد امیدواران ، شاہد خٹک ، جمال خٹک ، ضلعی صدر ملک جمعہ خان، زر علی ، ایوب شاہ اور مصری خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا ،میاں افتخار حسین نے تنظیمی ارکان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے تنظیمیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ، انہوں نے عہدیداروں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن سے قبل منظم اور مؤثر انداز میں کام کریں، انہوں نے مینار پاکستان جلسہ کے حوالے سے کہا کہ 11نکات پیش کرنا قوم کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے اگر ان نکات پر خیبر پختونخوا میں پانچ سال کے دوران عمل درآمد ہوتا تو باقی ملک کیلئے پیش کرنا سمجھ میں آتا تھا ،انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیمی نظام سے پہلے صوبے میں تعلیمی نظام کی حالت قابل رحم ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی ادارے میں بھی زبوں حالی کا شکار ہیں گزشتہ سال آنے والے میٹرک کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں، اسی طرح ہیلتھ کا شعبہ بھی وینٹی لیٹر پر ہے اور آخری ہچکیاں لے رہا ہے جبکہ ہسپتالوں کی حالت دگر گوں ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس میں سینئر اور جونیئر ڈاکٹرز ہڑتالوں پر رہے اور مریضوں کا حالت زار بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،،کرپشن کا خاتمہ بھی ان نکات میں شامل ہے جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت میں کرپشن عروج پر رہی اور اسمبلی ممبران اپنے وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہے ، پختونخوا میں بلین سونامی ٹری ، باب پشاور فلائی اوور اور اب میٹرو میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی جو دنیا جانتی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں روزگار دینے کا وعدہ کرنے والے قوم کو بتائیں کہ انہوں نے پختونخوا میں کس حد تک بے روزگاری پر قابو پایا حقیقت میں صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر ملازمین کو بے روزگار کیا گیا اور تمام شعبوں کے ملازمین اپنے حق کیلئے سڑکوں پر احتجاج پر رہے،،پولیس نظام میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا بیان بھی جھوٹ کا پلندہ ہے اے این پی نے پولیس کا وقار بلند کیا جبکہ اس حکومت میں ہر کوئی پولیس پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ خود تھانوں میں بند قتل کے ملزمان چھڑاتے رہے،انہوں نے کہا کہ کپتان 30اکتوبر 2011کے جلسے کی خوش فہمی میں شو فلاپ کر بیٹھے اور اس ناکام پاور شو نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کا پول کھول دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی بار ہا سی پیک پر پختونوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتی رہی ہے اور اس سلسلے میں چینی سفیر سے بھی ملاقات کی جنہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور کی یقین دہانی کرائی لیکن بد قسمتی سے وفاقی حکومت نے دھوکہ دیا اور پختون دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے سی پیک سے محروم کر دیا ، انہوں نے کہا کہ سی پیک در اصل فاٹا اور پختونخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے چین کا منصوبہ تھا جسے مرکزی حکومت نے ہائی جیک کر لیا ، 18ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کیلئے اے این پی نے اٹھاوریں ترمیم جیسی کامیابی حاصل کی جو اب چند عناصر کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے اور مرکز کا حصہ بڑھانے کی خاطر چھوٹے صوبوں کے حق پر ڈاکہ مارنے کا سوچ رہے ہیں لیکن اے این پی اسے رول بیک کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور کسی نے بھی اٹھارویں ترمیم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :