مقبوضہ کشمیر، جماعت اسلامی کی پارٹی رہنمائوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت نظربندکرنے کی مذمت

وادی کشمیر میں جنازے میں شرکت کرنا ایسا سنگین جرم بن گیا ہے جونام نہاد ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ترجمان جماعت اسلامی

اتوار مئی 17:50

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی نے پارٹی رہنما بشیر احمد لون کو انتہائی بھونڈے اور مضحکہ خیز الزامات پر بدنام زمانہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بھلوال جیل جموں میں نظربند کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بشیر احمد لون پر شہید پروفیسر محمد رفیع بٹ کی نماز جنازہ پڑھانے اور نعرہ بازی کرنے کا الزام ہے جس سے امن و امان اورنام نہاد ملکی سلامتی کو خطرہ درپیش ہوا۔

ترجمان نے کہاکہ اب وادی میں جنازے میں شرکت کرنا بھی ایک ایسا سنگین جرم بن گیا ہے جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔انہوںنے کہا موصوف کئی عارضوں میں مبتلا ہیں اور ادویات کی فراہمی میں کوتاہی ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اوراس کے لیے اٴْن کا وادی کی کسی جیل میں ہونا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جموں کی جیلوں میں کشمیری نظربندوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک موصوف کے لیے سازگار نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ محمد رفیق شاہ کو بھی موصوف کے ساتھ کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا گیا حالانکہ بظاہر اٴْن پر کوئی الزام نہیں ہے اور وہ گزشتہ سال چودہ سال کی مسلسل نظربندی کے بعدنئی دہلی کی تہار جیل سے رہا ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی پولیس نے پارٹی کے اسلام آباد تحصیل کے امیر گلزار احمد بٹ اور اٴْن کے فرزند عاقب گلزارکو بے بنیاد الزامات کے تحت ڈسٹرکٹ جیل مٹن میں نظربند رکھا ہے جوسراسر ایک انتقامی کارروائی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ وہاں پر تعینات ایک پولیس افسرنے جماعت اسلامی کے ساتھ عنادکی وجہ سے گلزار احمدپر اقدام قتل جیسے بے بنیاد الزامات عائد کئے ہیں جس کا اظہار اس نے کھل کر کیا ہے ۔انہوں نے گلزار احمد پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔