مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مائیںاپنے لاپتہ بیٹوں کی واپسی کی منتظر

بھارت تنازعہ کشمیر کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی پالیسی ترک کرے، میر واعظ

اتوار مئی 17:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) آج جب دنیاکے بیشتر ملکوں میں مائوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ایسی ہزاروں مائیں موجود ہیں جو گزشتہ 29برس کے دوان بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاوں کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں قتل یا حراست کے دوران لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں کی گھر واپسی کی منتظرہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے مائوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی کئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 1989سی11 مئی 2018تک خواتین اوربچوں سمیت 95ہزار سے زائد کشمیری شہیدہو چکے ہیں جسکے نتیجے میں 22ہزار 8سو 73خواتین بیوہ ہوگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار 71کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتی کی۔

(جاری ہے)

55سالہ حریت رہنما آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سینٹرل جیل سرینگر میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فورسز نی1989سے اب تک 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کیا اور ان لاپتہ افراد کی مائیں برسہا برس سے اپنے جگر گوشوں کی راہ تک رہی ہیں۔

مقبوضہ علاقے میں 6ہزار7سو گمنام اجتماع قبریں دریافت ہوئی ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جعلی مقابلوں میں مارے جانیوالے اورزیر حراست لاپتہ کشمیری ان قبروں میں دفن ہیں۔حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمرفاروق نے سرینگر میں ایک اجلاس کی صدرات کے دوران بھارت سے کہا کہ وہ فوجی طاقت سے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی ترک کر کے حقائق تسلیم کرے اور اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔

اجلاس میں میر واعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی شہادت کی برسیوں کے حوالے سے ہفتہ شہادت کے پروگراموں کی حتمی شکل دی گئی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے سرینگر میں اپنے بیانات میں تحریک حریت کے رہنما محمد رفیق اویسی اور جماعت اسلامی کے رہنما بشیر احمد لون پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کی شدید مذمت کی۔

جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے بھی ایک بیا ن میں محمدرفیق اویسی اور بشیر احمد لون پر کالے قانون کے نفاذ کی مذمت کی ۔ دریں اثنا ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ایک اور کشمیری کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا ۔ نئی دلی میں بھی ہندو انتہا پسندں نے جمعہ کے روز ایک کشمیری خاندان کو مار اپیٹاتھا۔ بھارتی سول سوسائٹی تنظیم ’’گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز‘‘ (جی سی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی مذاکراتی عمل پر زور دیا ہے۔

سول سوسائٹی گروپ نے ،جس میں قانون دان، سابق وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم،، بیورکریٹس اور تاجر رہنما شامل ہیں ، بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر میں فوری طور پر سیز فائر کا اعلان کرے۔