قومی اسمبلی ، پیپلز پارٹی کا سندھ کو اسکے حصے کا پانی نہ دینے پر سندھ بارڈر بند کرنے کی دھمکی ، احتجاجاًواک آئوٹ

سندھ کو پانی چاہیے اگر پانی نہ دیا تو سندھ کے بارڈر کو بند کر دیں گے، آج سندھ کے لوگ پیاسے مر رہے ہیں،حکومت کے پاس وزیروں کی فوج ہونے کے باوجود ایوان میں ہماری بات سننے والا کوئی نہیں ،قبرستان کی خاموشی اور حکومت کی خاموشی ایک جیسی ہے،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

بدھ مئی 23:15

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے وفاق کی جانب سے سندھ کو اسکے حصے کا پانی نہ دینے پر سندھ بارڈر بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو پانی چاہیے اگر پانی نہ دیا تو سندھ کے بارڈر کو بند کر دیں گے، آج سندھ کے لوگ پیاسے مر رہے ہیں،حکومت کے پاس وزیروں کی فوج ہونے کے باوجود ایوان میں ہماری بات سننے والا کوئی نہیں ،قبرستان کی خاموشی اور حکومت کی خاموشی ایک جیسی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں پانی کی شدید قلت ہے، سندھ میں پانی کا شدید بحران ہے، حکومت کا کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں جو ہماری داستان سنے، سندھ میں کسانوں کو تو دور کی بات پینے کا پانی تک نہیں ہے، ایم کیو ایم ایوان سے باہر چلی گئی ہے اگر یہ کراچی کے نمائندے ہیں تو ایوان میں اس پر بات کرتے،،پانی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کے کسان مر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکمران اندھروں میں چھپے ہوئے ہیں، حکومت نے دوتہائی اکثریت کے باوجود کورم پورا نہیں کر سکی، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہمارے پاس 33فیصد لوگ تھے مگر ہم نے پارلیمنٹ کا دامن نہیں چھوڑا۔آج مسلم لیگ (ن) کا کوئی بندہ تھپڑ کھا رہا ہے کوئی عدالتوں میں کھڑا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے پارلیمنٹ اہمیت نہیں دی اور پارلیمنٹ انکے ساتھ نہیں ہے۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کو پانی چاہیے اگر پانی نہ دیا تو سندھ کے بارڈر کو بند کر دیں گے، پاکستان کو بچانے کیلئے سندھ کا بارڈر بند کرنا پڑا تو کریں گے، سندھ کے لوگوں کے حقوق اور مسائل کی بات کریں گے، حیدر آباد میں جلسہ دیکھا ہو گا آپ نے مختصر کال پر وہ جلسہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ قبرستان کی خاموشی اور حکومت کی خاموشی ایک جیسی ہے، آج سندھ کے لوگ پیاسے مر رہے ہیں، نواب یوسف تالپور نے کہا کہ ہم کسی اور کے حصے کا پانی نہیں نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حصے کا پانی مانگ رہے ہیں، ایک طرف ہمیں پانی نہیں دیا جاتا تو دوسری طرف پنجاب میں لنکس کھولے ہوئے ہیں۔