پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک سے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے دن رات محنت کی ہے ‘شہباز شریف

زرداری اور مشرف کے ادوار حکومت میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبوں کے مقابلے میں ہماری حکومت نے آدھی قیمت پر منصوبے لگائے ہیں،نیلم جہلم کا منصوبہ 19سال بعد مکمل ہوا اور اس پر 5ارب ڈالر خرچ ہوئے ، اس سے بڑا ظلم اور زیادتی غریب قوم سے کوئی اور ہو نہیں سکتی،عسکری میدان میں تو ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ، امانت ، دیانت اور محنت کو شعار بنا کر آگے بڑھیں تو اسے معاشی میدان میںبھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں،عمران نیازی نے کے پی کے اور پاکستان کیلئے بجلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں انہوںنے منفی6 میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے ،ان حالات کومد نظر رکھتے ہوئے عوام پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی کارکردگی کا خود جائزہ لیکر فیصلہ کریں ،ہم سب کو سر جھکا کر دن رات کام کر کے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر ملک بنانا ہے ‘وزیر اعلی پنجاب کی میڈیا سے گفتگو

جمعرات مئی 22:52

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک سے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف چوتھے گیس انرجی پراجیکٹ کی تنصیب میں پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے حویلی بہادر شاہ گئے۔وزیراعلیٰ نے حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیااوراس حویلی بہادر شاہ پاورپلانٹ فیزii کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔حویلی بہادر شاہ میں پنجاب حکومت کی طرف سے لگایا جانیوالا دوسرا گیس انرجی پراجیکٹ 1242.7 میگاواٹ بجلی پیدا کریگا۔

حویلی بہادر شاہ میں 2 انرجی پاور پلانٹ حکومت پنجاب اور 2 انرجی پاور پراجیکٹ حکومت پاکستان لگا رہی ہے۔حویلی بہادر شاہ میں 3 انرجی پراجیکٹ مکمل طور پر فعال، 3600 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جا رہی ہے۔۔حکومت پنجاب کے وسائل سے لگائے جانے والا1242.7 میگاواٹ کا چوتھا سنگل سائیکل انرجی پراجیکٹ دسمبر میں فنکشنل ہوگا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہپاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سی4800 میگاواٹ کے انرجی پراجیکٹ انتہائی شفافیت اور تیز رفتاری سے ریکارڈ مدت میں مکمل کئے گئے ہیںاور 4800 میگاواٹ کے 4 گیس پاور پراجیکٹ میں 160 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔

انہوںنے کہاکہ انرجی پلانٹ کی خریداری اور دیگر امور میں انتہائی شفافیت سے قوم کے اربوں روپے بچائے گئے۔انہوںنے کہا کہ انرجی بحران کے خاتمے کیلئے قوم سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں۔انہوںنے کہا کہ حویلی بہادر شاہ پاورپلانٹ سے 1800میگاواٹ بجلی پیداواراس امر کا ثبوت ہے کہ ہم جو کہتے ہیں کر کے دکھاتے ہیں ۔عوام کو انرجی بحران سے جلد نجات دلانے کیلئے اپنے وسائل سے پاور پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ۔

انہوںنے کہا کہ حویلی بہادر شاہ میں پاور پلانٹ پیداواری استعداداورکارکردگی کے اعتبار سے بہترین ہے۔جدید ترین گیس ٹربائن کے استعمال سے آپریٹنگ کاسٹ بھی کم ہوگی اورقوم کا پیسہ بچے گا۔انہوںنے کہا کہ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کا کم از کم وقت میں قیام دنیا بھر میں ایک ریکارڈ کے متراد ف ہے ۔حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کی پیداواری لاگت بھی اسی نوعیت کے پلانٹس میں سب سے کم ہے اورپیداواری صلاحیت سب سے زیاد ہ ہے ۔

انہوںنے کہا کہ اس پاور پلانٹ سے دسمبر تک800میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔نومبر 2019ء میں مزید 1242میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔دھرنے ڈرامے نہ ہوتے تو آج ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہوتا۔وزیراعلی محمد شہبازشریف نے حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹIIکے دورے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک سے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے دن رات محنت کی ہے اور ہماری حکومت کی مخلصانہ کاوشوں کے نتیجے میں ملک پر چھائے اندھیرے دور ہو رہے ہیں -انہوںنے کہاکہ گزشتہ 66سالوں میںملک میں18ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ ہماری حکومت نے گزشتہ 5سالوں میں 11ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے -انہوںنے کہاکہ زرداری اور مشرف کے ادوار حکومت میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبوں کے مقابلے میں ہماری حکومت نے آدھی قیمت پر منصوبے لگائے ہیں-انہوںنے کہاکہ گزشتہ ادوار حکومت میں نجی سیکٹر میں 375میگا واٹ اوچھ ون کا منصوبہ 9لاکھ 2ہزار ڈالر فی میگا واٹ کے حساب سے لگا -720میگا واٹ کا گدو پاور پلانٹ 8لاکھ 40ہزار ڈالر فی میگا واٹ جبکہ نجی سیکٹر میں 209میگا واٹ کا ہلمور گیس پاور پلانٹ 8لاکھ 24ہزار ڈالر فی میگا واٹ کے حساب سے لگا -پاکستا ن مسلم لیگ ن کی حکومت نے محمد نوازشریف کی قیادت میں گیس کی بنیاد پر 4منصوبے آدھی قیمت پرلگائے ہیں -وفاقی حکومت نے حویلی بہادر شاہ میں 1207میگا واٹ کا منصوبہ 4لاکھ 88ہزار ڈالر فی میگا واٹ ، 1200میگا واٹ کا بلوکی گیس پاور پلانٹ 4لاکھ 69ہزار ڈالر فی میگا واٹ جبکہ1180 میگا واٹ کا بھکی گیس پاور پلانٹ 4لاکھ 66ہزار ڈالر فی میگا واٹ کے حساب سے لگا ہے او رحویلی بہادر شاہ میں پنجاب حکومت 1260میگا واٹ کا ایک او رگیس پاور پلانٹ لگا رہی ہے اور اس چوتھے منصوبے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اوریہ منصوبہ 4لاکھ 18ہزار ڈالر فی میگا واٹ کے حساب سے لگا یا جا رہا ہے اور یہ چوتھا منصوبہ پہلے لگنے والے تینوں منصوبوں سے کہیں سستا ہے -کسی معاشی یا فنانشنل ماہر سے تجزیہ کروا لیں -مارکیٹ گر رہی ہو تواور بات ہے تاہم عام حالات میں کوئی گھر یا منصوبہ بنایاجائے تو ہر سال قیمت بڑھتی ہی-تو اس حساب سے یہ منصوبے ماضی میں لگنے والے منصوبوں سے مہنگے ہونے چاہیے تھے اگر یہ 50فیصد کم قیمت پر لگے ہیں تو اس کا کریڈٹ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ، وفاقی او رصوبائی حکومتوں کی ٹیموں، کمپنیوں اور منصوبوں پر کام کرنے والے انجینئر ز کو جاتاہی-یہ سستے ترین منصوبے برق رفتاری سے مکمل کئے گئے ہیں ،اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اگر قلب صمیم سے فیصلہ کر لیں کہ وسائل کی ایک ایک پائی ایمانداری اور شفافیت سے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنی ہے تو ملک کو صحیح معنوں میں ترقی دی جا سکتی ہے اور اسے قائد ؒ و اقبال ؒ کا پاکستان بنایا جاسکتاہی-انہوںنے کہاکہ گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبوں میں 160ارب روپے کی بچت ملک کی تاریخ کا عجوبہ ہے کہ یہی صحیح معنوں میں عوام کی حدمت ہی-انہوںنے کہاکہ 720میگا واٹ کا گدوپاور پلانٹ 5سے 6سال میں مکمل ہوا جبکہ موجود دور حکومت میں لگنے والے گیس کے منصوبے 2سے اڑھائی سا لوں میں مکمل ہوئے ہیں اور چوتھا منصوبہ 14ماہ میں مکمل ہونے جا رہاہی-انہوںنے کہا کہ 3600میگا واٹ کے گیس پاور پراجیکٹس میں 112ارب روپے کی بچت ہوئی ہے او ریہ منصوبے نیپرا کی سرکاری قیمت سے بھی کم قیمت پر لگے ہیں - نیپرا کا ٹیرف 8لاکھ ڈالر فی میگا واٹ تھا -انہوںنے کہاکہ گیس کی بنیاد پر لگنے والے چاروں منصوبوں میں غریب قوم کے 160ارب روپے بچائے گئے ہیں -انہوں نے کہاکہ نیلم جہلم کا منصوبہ 19سال کے بعد مکمل ہوا او راس پر 5ارب ڈالر خرچ ہوئی- اس سے بڑا ظلم اور زیادتی غریب قوم سے ہو نہیں سکتی - جنہوںنے اربوں ڈالر ضائع کئے ، خرد برد کی او رقوم کا پیسہ لوٹا انہیں الٹا لٹکانا چاہیی- انہوںنے کہاکہ جہاں کرپشن ہوئی ہے نیب او ردیگر اداروں کو اس کا کھوج ضرور لگانا چاہیے او رکرپشن کرنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیی-لیکن اچھے کام کی ستائش بھی ضروری ہی-جہاں وفاقی او رپنجاب حکومت نے ایمانداری سے اربوں روپے کی بچت کی ہے وہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ٹیموں کی ستائش بھی ضرور ہونی چاہیے او رمجھے قوی امید ہے کہ عدالت عظمی اس امر کی ضرورستائش کرے گی -انہوںنے کہاکہ دریائوں او رڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال ڈیڑھ ہزار میگا واٹ بجلی کم پیدا ہو رہی ہی-انہوںنے کہاکہ 1260میگا واٹ کے گیس پاور پلانٹ پر تیز رفتاری سے کام جا ری ہے اس کی دونوں ٹربائنیں پہنچ چکی ہیں جنریٹر بھی آچکے ہیں ، میں منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کرنے پر جرمن،، چائنہ اور پاکستانی انجینئر ز او رورکرز کو سلام پیش کرتا ہوں -اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہم ہندوستان کو معاشی میدان میں پیچھے چھوڑ سکتے ہیں-عسکری میدان میں تو ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں اگر امانت ، دیانت او رمحنت کو شعار بناکر آگے بڑھیں تو ہندوستان کو معاشی میدان میں بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں او رمودی جو آج کل واسکٹ پہن کر جی 8اور جی 20کے اجلاسوں میں پھرتے ہیں وہاں پاکستانی قیادت بھی نظر آئے گی -وزیراعلی نے کہاکہ عمران نیازی نے 2012میں ایک انٹریو میں کہاتھا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بجلی پیداکرنے کا اختیار ملاہے تو یہ بجلی کیوں پیدا نہیں کرتے -2013میں ایک انٹرویو میں نیازی نے پھر کہاکہ وہ کے پی کے اور پورے پاکستان کے لئے بجلی پیدا کریں گے -لیکن گزشتہ 5سالوں میں انہوںنے منفی 6میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے --پی ٹی آئی سے پہلے والی حکومت نے کے پی کے میں 80میگا واٹ کا منصوبہ لگایا تھا جو 2016میں خراب ہوا ، پی ٹی آئی حکومت نے اسے ٹھیک کرنے کی بجائے 74میگا واٹ کا منصوبہ لگایا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ انہوںنے منفی 6میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے -دوسری جانب زرداری کی سندھ حکومت نے نوریا آباد میں ایک بجلی کا منصوبہ لگایا جس سے صرف 15میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے -انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے ا پنے وسائل سے 5ہزار میگا وا ٹ بجلی کے منصوبے لگائے ہیں جبکہ سی پیک کے تحت بھی ہزاروں میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے ہیں -ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام پاکستان مسلم لیگ (ن )،،پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی کارکردگی کا خ ودجائزہ لے کر فیصلہ کریں -غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں ، ہم بھی انسان ہیں تاہم ہم نے عوام کی خدمت کی کوشش کی ہے اور ہم اس میں سرخرو ہوئے ہیں اور 43درجہ حرارت ہونے کے باوجود قوم کو بجلی مل رہی ہے -آج پاکستان میں بجلی عام ہے اس سال دسمبر میں حویلی بہادر شاہ کے دوسرے منصوبے سے 800میگا واٹ مزید بجلی پیدا ہو گی جو آئندہ کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرے گی -وزیراعلی نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبوں سے عوام کو سستی بجلی مل رہی ہے -ان منصوبوں سے عوام کو ساڑھے 7روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ملے گی یہ ایک خواب تھا جو پورا ہواہے -ماضی میںکرپشن کی بنیاد پر لگنے وا لے بوسیدہ منصوبے بند ہوں گے تو عوا م کو سستی بجلی ملنا شرو ع ہو جائے گی -ایک او رسوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ ہم سب کو سر جھکا کر دن رات کام کرناہے اورپاکستان کو عظیم سے عظیم تر ملک بنانا ہے -انہوںنے کہا کہ ملک کی تاریخ کا گیس کی بنیاد پر لگنے والا سب سے بڑا حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ سے رواں سال دسمبر میں 800 میگا واٹ بجلی حاصل ہونا شروع ہو جائے گی- انہوںنے کہ گیس کی بنیاد پر لگنے والے چار منصوبوں میں 160 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے اور میں نیب کو چیلنج کرتا ہوں کہ اس بچت کا کسی بھی ماہر معیشت سے تجزیہ کرالیا جائی- اراکین صوبائی اسمبلی خالد سرگانہ ، خرم سیال، امیر سیال، ضلع کونسل کے چیئرمین بابر خان سیال، شیخ وقاص اکرم، پی ٹی پی ایل کے چیئرمین عبدالباسط، ایم ڈی سیمنز ہیلموٹبن سٹوئر Helmutbonsture اور دیگر حکام اس موقع پر موجود تھے۔