عمران خان جہاں جاتے ہیں نئے نعرے اورنئے نکات کا اعلان کرتے ہیں،بلاول بھٹوزرداری

جادو کی چھڑی سے امن امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ہے،مجموعی طورپر صوبے میں امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے تاہم پولیس کے لیے نیاقانون بنانے کی اشد ضرورت ہے نگران حکومت سے متعلق دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے، میڈیا سے گفتگو

ہفتہ مئی 22:07

عمران خان جہاں جاتے ہیں نئے نعرے اورنئے نکات کا اعلان کرتے ہیں،بلاول ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ عمران خان جہاں جاتے ہیں نئے نعرے اورنئے نکات کا اعلان کردیتے ہیں،پیپلزپارٹی پانچ نکاتی پروگرام پہلے سے موجود جوعمران خان کے تمام نکات سے اہم ہیں ہمیں طے کرنا ہے کہ یہ ملک امیروں کا تحفظ کرے گا یا غریبوں کا۔ انہوں نے کہاکہ جادو کی چھڑی سے امن امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ہے،مجموعی طورپر صوبے میں امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے تاہم پولیس کے لیے نیاقانون بنانے کی اشد ضرورت ہے نگران حکومت سے متعلق دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے وزیراعلی ہاس کراچی میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے اپنی اپنی حکومتی کارگردگی سے متعلق پارٹی قیادت کوبریفنگ دینے کے موقع پرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینزکے سربراہ آصف علی زرداری ایم این اے فریال تالپور،،،خورشید شاہ،،رحمن ملک ، فرحت اللہ بابر اورپیپلزپارٹی کے دیگرمرکزی اورصوبائی رہنما بھی اس موقع پرموجود تھے۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اٹھارویں کے بعد صوبوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے،وفاق بجٹ میں جورقم مختص کررہا ہے وہ بھی سندھ حکومت کو نہیں دیے جارہے،انہوں نے کہاکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کی اشدضرورت ہے جس کے بغیرصوبے ترقی کے سفرمیں آگے نہیں بڑھ سکتے انہوں نے کہاکہ عمران خان جہاں جاتے ہیں نئے نعرے اورنئے نکات کا اعلان کرتے ہیں،،پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے دیے گئے 5 نکات پر ہی عمل پیرا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ ہمیں پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے اورآئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی ہی کارگردگی اوروفاقی منشورکی بنیاد پرملک گیرکامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کے نظام میں بہتری آئی ہے تاہم پولیس اصلاحات کی ضرورت سے میں اتفاق کرتا ہوں،تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر اس پرکام کرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سندھ بھر میں صحت کے شعبے میں کافی بہتر کام کیا ہے ہم نے سندھ بھر میں یونین کونسل بیسڈ پرغربت مکا پروگرام شروع کیاہے،ہم نے 6 لاکھ خواتین کو بلا سود قرضہ دیا ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بڑی کامیابی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ سمندر سے صحرا تک بہترین معیار کی سڑکیں اورراستے سندھ کے علاوہ کہیں نہیں ملیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہاکہ معیشت کو ازسرنو درست کرنے کی ضرورت ہے آپ دیکھ لیں ایک صوبے میں کتنی رقم خرچ ہوئی اور باقی ملک میں کیا اخراجات کیے گئے معاشی ناانصافی کوختم کرنے اورصوبوں کوآمدنی میں جائز حصہ دینے کے لیے نئے این ایف سی ایوارڈ کی ضرورت ہے ۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ پیپلز پارٹی عوام قوت ہے ہمارا منشور پاکستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی ہے پیپلز پارٹی ملک کی واحد عوامی جماعت ہے جو عوام کے دلوں میں رہتی ہے اور انشا اللہ 2018 الیکشن میں میں پیپلز پارٹی پورے ملک سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ بلاول بھٹو نیکہاکہ سندھ پانی کی کمی کا سب سے زیادہ شکار ہے،ارسا سے کوٹے کا پانی نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے سندھ میں 1700 آر او پلانٹس لگائے،،سندھ میں تعلیمی ادارے اوراسپتال بنائے،ہم عوام کیلئے سیاست کرتے ہیں،،سندھ میں جو بھی کام ہوا، پیپلز پارٹی نے کیا، عوام کوروشن مستقبل پیپلز پارٹی دلاسکتی ہیایک اورسوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اسد درانی کی کتاب تو نہیں پڑھی، ابھی پڑھنا باقی ہے کتاب پڑھنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کرسکتا ہوں۔