مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں دہشت گردی اور بدامنی ختم ہوئی، افواج پاکستان ، سیکیورٹی ادرے اور حکومت مبارکباد کی مستحق ہے، میاں زاہدحسین

بدھ مئی 16:31

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی معاشی کارکردگی بہتر رہی۔ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت زراعت ، صنعت و تجارت سمیت ہر شعبہ میں مثبت پیش رفت و ترقی ہوئی۔

جی ڈی پی 5.8فیصدبڑھی، غربت کی شرح میں 10فیصد سے زیادہ کمی آئی جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 5.27فیصد اور ریونیو کلیکشن میں صد فی صد اضافہ ہوا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس حکومت کے آغاز میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف 6ارب ڈالر تھے جبکہ اسی حکومت کے دوران یہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 25بلین ڈالر تک جا پہنچے، تاہم برآمدات میں کمی اور ترقیاتی پراجیکٹس کے باعث درآمدات میںغیر معمولی اضافے اور سیاسی بے چینی کے سبب ڈالر کے ذخائر ایک با پھر کمی کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ کیا جو 75ارب ڈالر سے زیادہ کا پراجیکٹ ہے،جس کی نظیر پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ سی پیک کے تحت پورے ملک کو موٹر ویز، ہائی ویزاوراپگریڈڈ ریلوے لائنز سے منسلک کیا جارہا ہے جس سے کاروباری مواقعوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ آمد ورفت آسان اور تیز تر ہوگی، ٹورازم ترقی کرے گی، برآمدات ،درآمدات اور ملکی و غیر ملکی منڈیوں تک اموال تجارت کی رسائی آسان تر ہوجائے گی۔

انرجی کے شعبے میں 35ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے باعث ملک میں بجلی کے بحران میںقابل ذکر حد تک کمی آئی ہے۔ ملک میں تقریباً 29نئی یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں جس سے بہتر تعلیمی مواقع میسر ہونگے۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کو ٹاپ 5ممالک میں شامل کیا جہاں سب سے زیادہ پرائیویٹ انویسٹمنٹ ہوئی، دیگر ممالک میں برازیل، انڈونیشیا، اردن اور چین شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن )حکومت کے آغاز سے ملک میں دہشت گردی کا دور دورہ تھا، بیرونی سرمایہ کار واپس جارہے تھے اور پاکستان کا متمول طبقہ بیرون ملک جانے کے لئے پر تول رہا تھا اور کراچی لہولہان تھا، ایسے میں اس حکومت نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر پہلے ضرب عضب اور پھر آپریشن ردالفساد لانچ کیا اور آج اللہ کے فضل سے ملک میں امن و استحکام کی فضاقائم ہے۔

ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، ٹورازم کا شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ہر سال سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، کاروباری مواقع بہتر ہوئے ہیں اور غربت میں کمی آئی ہے، لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں فروغ پارہی ہیں۔تا ہم اس پانچ سالہ دور میں ایکسپورٹ میں کمی ہوئی جو 25ارب ڈالر سے 21ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ روپے کی قدر میں کمی اور سرکاری اداروں میں پانچ سو ارب روپے سالانہ نقصانات کو روکنے میں ناکامی کا سامنا ہوا اور گردشی قرضے نئی حدوں تک پہنچ گئے۔