سید شجاعت بخاری کے خدمات ہمیشہ یاد رکھے جائیںگی وہ کشمیر کے ہی نہیں بلکہ اس خطے کی بڑی شخصیت تھے ‘کشمیر میں جاری تشدد وقتل وغارت کو روکنے اور حالات کا بدلنے کیلئے انتھک کوشش کی وہ حقیقی معنوں میں امن کے داعی تھے

آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کی مرکزی رہنما چیئرمین سوشل میڈیا ونگ محترمہ سمعیہ ساجد راجہ کی بات چیت

بدھ جون 15:50

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کی مرکزی رہنما چیئرمین سوشل میڈیا ونگ محترمہ سمعیہ ساجد راجہ نے کہا ہے کہ سید شجاعت بخاری کے خدمات ہمیشہ یاد رکھے جائیںگی وہ کشمیر کے ہی نہیں بلکہ اس خطے کی بڑی شخصیت تھے انہوں نے کشمیر میں جاری تشدد وقتل وغارت کو روکنے اور حالات کا بدلنے کیلئے انتھک کوشش کی وہ حقیقی معنوں میں امن کے داعی تھے ‘تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے کوشاں رہتے ان شخصیات میں اعتدال پسندی عاجزی بہادری کا عنصر نمایاں تھا جنہوں نے تمام تر خطرات دھمکیوں کو دبائو کے باوجود اپنا مشن کو جاری رکھا لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف سیاست دان اور صحافیوں نوجوانوں ،خواتین اور دانشوروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کیا ہمیت کو اُجاگر کرتے انہوں نے اپنے نظریات کوجرات وبہادری سے ہر فورم پر اُجاگر کیا انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معروف صحافی شجاعت بخاری کی شہادت کے واقعے کی غیر جانبدارانہ آزادنہ شفاف تحقیقات کرکہ قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے اور پس پردہ محرکات میں شامل عناصر کو بھی انصاف کے کہڑے میں لایا جائے مقبوضہ کشمیر میں اظہاررائے کی آزادی پر عائد پابندیوں کو ختم کر کے صحافی اداروں اور اُن سے منسلک کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے عالمی برادری انسانی حقوق کے اداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شجاعت بخاری کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لیں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سانحہ کے اصل محرکات جانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شجاعت بخاری نے اپنے نظریات کو جرات اور بہادری سے ہر فورم پر اُجاگر کیا ان کی کاوشوں سے لائن آف کنٹرول کے آرپار صحافیوں ،تاجروں اور سیاستدانوں میں راوبطہ قائم ہوئے اور مشترکہ تنظیموں کا قیام عمل میں لایا گیا۔شجاعت بخاری شہید نے اپنی زندگی میں بھی ایسی مہم جوئی کو خطر میں نہ لایا اور نہ ہی کسی کی دھمکیوں یا دبائو سے مرعوب ہوئے انہوں نے اپنے بے لاگ تبصروں اور تجزیوں سے لائن آف کنٹرول کے آرپار پاکستان اور بھارت میں سنجیدہ حلقوں کو اپنا ہمننوا بنایا ۔شجاعت بخاری نے اپنے کردا ر اور نظریات کے باعث مختصر مدت میں اپنا مقام پیدا کیاعالمی میڈیا نے انہیں جو پذیرائی دی وہ قابل رشک ہے۔