اپ ڈیٹ*

معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا، پاکستان اچھے اور برے طالبان میں کوئی فرق نہیں،تحریک طالبان کے مطلوب رہنمائوں کو نشانہ بنائیں گے،افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ پاکستان ، مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی کمیشن کے قیام کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے،بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،ڈاکٹر فیصل گزشتہ 6 ماہ میں 291 بھارتی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے، عید پر سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ،واقعہ بھارتی فوج کے ظلم کا عکاس ہے، بھارت انسانی حقوق کے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کرے پاکستان بھی آزاد کشمیر تک رسائی فراہم کرنے کی تیار ہے،ہفتہ وار پریس بریفنگ

جمعرات جون 21:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے مطلوب افراد کا نشانہ بنائے گا، کالعدم تنظیموں نے پاکستان کے معصوم افراد کا نشانہ بنایا ہے انہیںکسی قیمت پر معاف نہیںکیا جائے گا،اچھے اور برے طالبان میں کوئی فرق نہیں ، پاکستان،، افغانستان میں قیام امن کی کوششوںکی حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان ، مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی کمیشن کے قیام کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔گزشتہ روز دفترخارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھاکہ پاکستان،، افغانستان میں مفاہمت اور امن کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، اس سلسلے میں فیصلہ افغان قیادت کو کرنا ہے کہ وہ کسی عمل کے تحت قیام امن چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے راہنما اور پاکستان کو مطلوب ملا فضل اللہ کی افغانستان میں امریکی ڈروان حملے میں مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ملا فضل اللہ آرمی پبلک اسکول، پشاور کے بچوں سمیت کئی پاکستانیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان ٹی ٹی پی کے تمام مطلوب افراد کا نشانہ بنائیں گے ، پاکستان کے نزدیک برے یا اچھے طالبان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ترجمان نے پاکستان اور بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 6 ماہ میں 291 بھارتی قیدیوں کو رہا کیا ہے ، جبکہ بھارت میں بہت سے ایسے پاکستانی قیدمیں موجود ہیں جنہوںنے اپنی سزا کی مدت پوری کرلی ہے۔،انہوںنے عید پر سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔۔ڈاکٹر محمد فیصل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ،کشمیر سے متعلق بین الاقوامی کمیشن کے قیام کی تجویز کا بھی خیر مقدم کرتا ہے، بھارت کی جانب سے انسانی حقو ق کی رپورٹ کو مسترد کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت حقائق چھپا نہیں سکتا، بھارت اگر کچھ چھپانا نہیں چاہتا تو کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے دے، پاکستان کمیشن آف انکوائری کو آزاد کشمیرکے دوریکی دعوت دیتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت اس سے قبل بھی کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی بھاگ چکا ہے، پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق حقائق عالمی میڈیا کے سامنے رکھنے کا کہا تھا۔اور کلبھوشن یادیو کی فیملی سے ملاقات کیلئے بھارتی میڈیا کو بھی مدعو کیا تھا۔ کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ شجاعت بخاری کا بہیمانہ قتل بھارتی فوج کے ظلم کا عکاس ہے، کشمیر میں صحافیوں کو بھی تحفظ حاصل نہیں، بھارت نے شجاعت بخاری کے قتل کا سیاسی استعمال کرنیکی کوشش کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پر امریکا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں اور پاکستانی وزارت خزانہ اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہیوسٹن میں موجود قونصل جنرل نے 23 مئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی، انہوں نے متعلقہ امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بدسلوکی کا معاملہ اٹھایا ہے۔

؂ترجمان نے سابق پاکستانی سفیر جمشید مارکر اور ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق جمشید مارکر نے کسی بھی پاکستانی سفیر سے زیادہ ممالک میں خدمات سر انجام دیں۔ ترجمان نے بتایا کہ 13 جون کو بھارتی قائمقام ڈپٹی ہایی کمشنر کو طلب کر کہ ایل او سی کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا، تاہم عید الفطر کے مقدس تہوار پر بھی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت جاری رکھی گئی، بھارت نے گزشتہ ایک ہفتہ میں مقبوضہ کشمیر میں 16 شہادتیں بھارتی افواج کے ہاتھوں ہوئیں۔

ابتدائی ریمارکس کے دوران ترجمان نے بتایا کہ صدر مملکت ممنون حسین نے ایس سی او سے متعلق کانفرنس میں شرکت کی،ملاقات کی سائیڈ لاینز پر صدر مملکت کی چین،، روسی فیڈریشن، تاجکستان، ایران،، افغانستان اور دیگر ممالک کے قائدین سے ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوںنے کہا کہپاکستان اقوام متحدہ کی اقتصادی و معاشرتی کونسل کا رکن منتخب ہو گیا ہے،ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان جموں و کشمیر کی ریاست کا حصہ ہے اوراقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان ایک متنازع مسلہ کشمیر کا حصہ ہے،گلگت پلتستان پر چیف سیکریٹری کے ریمارکس غلط ہیں،اگر بھارت انسانی حقوق کے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کرے پاکستان بھی آزاد کشمیر تک رسائی فراہم کرنے کی تیار ہے۔

۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود، نامہ نگار