الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

عمران خان کی قومی اسمبلی کے 4 حلقوں، سردار ایاز صادق، پرویز خٹک کی کامیابی کا نوٹیفکیشن پولنگ کے روز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے فیصلہ سے مشروط، این اے 131 کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں روکا گیا، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 34 حلقوں کا نوٹیفکیشن کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہونے یا انتخاب ملتوی ہونے کی وجہ سے جاری نہیں ہو سکا

منگل 7 اگست 2018 19:35

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اگست2018ء) الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی قومی اسمبلی کے 4 حلقوں، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سابق وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسے پولنگ کے روز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے فیصلہ سے مشروط کر دیا ہے جبکہ این اے 131 کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں روکا گیا ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 34 حلقوں کا نوٹیفکیشن کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہونے یا انتخاب ملتوی ہونے کی وجہ سے جاری نہ ہو سکا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے منگل کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کئے گئے۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 اسلام آباد، این اے 35 بنوں، این اے 95 میانوالی، این اے 243 کراچی سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے حتمی فیصلہ سے مشروط کیا گیا ہے۔

این اے 129 لاہور سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرتے ہوئے اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے حتمی فیصلہ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ این اے 25 نوشہرہ سے کامیاب امیدوار پرویز خٹک کے نوٹیفکیشن کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کا حتمی فیصلہ آنے سے مشروط کیا گیا ہے۔ این اے 131 لاہور سے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں روکا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 راولپنڈی اور 103 فیصل آباد میں انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ سے نوٹیفکیشن نہیں ہو سکا، این اے 90 سرگودہا کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ جبکہ این اے 91 سرگودہا، این اے 108 فیصل آباد، این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ، این اے 140 قصور کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں روکا گیا ہے۔ این اے 215 سانگھڑ کا نتیجہ سندھ ہائی کورٹ جبکہ این اے 271 کیچ کا نتیجہ کامیاب امیدوار کی جانب سے انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر جاری نہیں کیا گیا۔

اس طرح پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 76 سرگودہا، پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 123 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 177 قصور سے کامیاب امیدواروں کا نتیجہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں روک دیا گیا ہے جبکہ پی پی 103 فیصل آباد اور پی پی 87 میانوالی میں امیدواروں کی وفات کی وجہ سے انتخاب ملتوی ہو گیا تھا۔ پی پی 296 راجن پور سے کامیاب امیدوار کی وفات کی وجہ سے نوٹیفکیشن روک دیا گیا۔

سندھ اسمبلی کے حلقوں پی ایس 29 خیرپور، پی ایس 36 نوشہروفیروز، پی ایس 48 میرپور خاص، پی ایس 54 تھرپارکر، پی ایس 82 جامشورو کا نتیجہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں جاری نہیں کیا گیا جبکہ پی ایس 73 بدین کے نتیجہ کا ابھی انتظار ہے، پی ایس 87 ملیر میں انتخاب نہیں ہو سکا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 4 سوات میں دوبارہ گنتی کی وجہ سے نتیجہ جاری نہیں کیا گیا۔

پی کے 23 شانگلہ سے الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ پی کے 38 ایبٹ آباد میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ پی کے 78 پشاور اور پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان میں انتخاب ملتوی کیا گیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے حلقوں پی بی 26 کوئٹہ میں نتیجہ الیکشن کمیشن نے روک رکھا ہے۔ پی بی 35 مستونگ میں انتخاب ملتوی کیا گیا تھا جبکہ پی بی 36 شہید سکندر آباد کا نتیجہ کامیاب امیدوار کی جانب سے انتخابی اخراجات کے گوشوارے جمع نہ کرانے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے جبکہ پی بی 41 واشک کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے جانے کی وجہ سے جاری نہیں کیا گیا۔