آئندہ کابینہ اجلاس میں محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے پی ایس ڈی پی پر مفصل رپورٹ پیش کی جائے گی جسے ایوان میں بھی پیش کیا جائیگا،وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر پی ایس ڈی پی کو بلوچستا ن ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق تشکیل دیا جائے ،صوبے میں دیر پا ترقی کیلئے طویل المدتی ترقیاتی پروگرام تشکیل دیا جائے ،اراکین صوبائی اسمبلی

ہفتہ ستمبر 21:07

آئندہ کابینہ اجلاس میں محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے پی ایس ڈی پی پر مفصل ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے سال 2018-19 کے پی ایس ڈی پی میں شامل اسکیمات پر نظر ثانی کر نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر پی ایس ڈی پی کو بلوچستا ن ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق تشکیل دیا جائے ،صوبے میں دیر پا ترقی کے لئے طویل المدتی ترقیاتی پروگرام تشکیل دیا جائے ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال کا کہنا ہے کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے پی ایس ڈی پی پر مفصل رپورٹ پیش کی جائے گی جسے ایوان میں بھی پیش کیا جائیگا،یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی 2018-19پر بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے امن وامان سے متعلق تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے جس کی واضح مثال 14ستمبر کو ضلع پشین میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑانا ہے جس کے نتیجے میں تین لیویز اہلکار موقع پر شہید اور دو شدید زخمی ہوئے اسی طرح 16ستمبر کو قلعہ سیف اللہ میں جنکشن چوک پر رسالدار لیویز محمد افضل اخترزئی کو موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا جس کی وجہ قلعہ سیف اللہ کے عوام میں شدید غم و غصہ کا پایا جانا ایک فطری عمل ہے اس لئے اسمبلی کی کارروائی روک کر اس اہم اور فوری عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لایاجائے ایوان نے مذکورہ تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کرلیا اور اس پر 25ستمبر کے اجلاس میں بحث کی جائے گی ۔

اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ایس ڈی پی 2018-19کو زیر بحث لانے سے قبل حکومت بلوچستان کی مرتب کی گئی تجاویز ایوان میں لانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے وہ حکومت کے سامنے ہے حکومت اور بالخصوص متعلقہ محکمے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے ضروری کام کرے حکومت ضروری کام کرکے ایک فریم ورک یا رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی حکومت بلوچستان نے اس حوالے سے جو بھی تجاویز مرتب کی ہیں وہ یہاں پیش کی جائیں تاکہ اس کے بعد ہم بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ایس ڈی پی 2018-19ء پر بحث کو آگے بڑھاسکیں ۔

قائد ایوا ن میر جام کمال نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہماری کابینہ نے پہلے اجلاس میں پی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا اور فیصلے کی روشنی میں سکیمات پر غور کیا گیا۔ ہم نے یہ بھی جائزہ لیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں جن چار شعبہ جات کا ذکر کیا گیا ہے اس پر کیا کام ہوسکتا ہے پی ایس ڈی پی کا ابتدائی جائزہ لینے پر معلوم ہوا ہے کہ بہت سی سکیمات پر قانونی طریق کار مکمل نہیں کیا گیا اس حوالے سے ہائیکورٹ نے بھی ہدایات دی تھیں اب کابینہ کے اگلے اجلاس میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات مفصل رپورٹ پیش کرے گا انہوں نے کہا کہ ایسی بہت سی آن گوئنگ سکیمات سامنے آئی ہیںجن پر ستر سے اسی فیصد کام مکمل ہوا اور انہیں پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیا ان سکیمات پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں انہیں نکال دینے سے عوام کے پیسے کا ضیاع ہوگا انہوںنے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں جن شعبہ جات کی نشاندہی کی ہے اس کے علاوہ بھی صوبے کے معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے ایسے شعبہ جات ہیں جن پر کام ہوسکتا ہے ہم نے اس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ پیشی پر ان شعبہ جات کی بھی نشاندہی کریں ۔

آنے والے چند دنوں میں محکمہ پی اینڈ ڈی پی ایس ڈی پی کے حوالے سے جو مفصل رپورٹ پیش کرے گا اسے پبلک ڈاکومنٹ بنایا جائے گا اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جبکہ ایک کمیٹی بھی بنائی جارہی ہے جو ارکان اسمبلی سے اس حوالے سے تجاویز لے گی اگر کوئی رکن اسمبلی ہمیں پی ایس ڈی پی بہتر بنانے کے لئے معلومات دے سکتا ہے یا ان کے پاس کوئی نکتہ ہے تو وہ ہمیں بتائیں ہم اس پر کابینہ اجلاس میں بات کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ جن ایشوز کو یہاں زیر بحث لایا جاتا ہے ان کے دستاویزات پہلے ہمیں دیئے جانے چاہئیں تاکہ ہم ان کا جائزہ لے کر آئیں انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تین مہینوں کا بجٹ بنایا تھا اب قومی اسمبلی نے ایک اور بجٹ پیش کیا ہے ہمیں بلوچستان کے عوام نے منتخب کیا ہے اور مینڈیٹ دے کر یہاں بھیجا ہے تاکہ ہم ان کے مسائل کو یہاں اجاگر کرکے ان کے حل کے لئے کام کریں معزز عدالت نے جو کہا ہے اس کے مطابق پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی ہونی چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ شوران بھاگ پائپ لائن جو 37یا38کلو میٹر ہے اور اس پر 17یا شاید18کروڑ روپے لگ چکے ہیں اس پی ایس ڈی پی میں اسے مکمل ظاہر کیا گیا ہے اسی طرح اس پی ایس ڈی پی میں ایسی بھی سکیمیں ہیں جو زیر و اعشاریہ تین کلو میٹر سڑک کی تعمیر کی ہیں اس طرح تو دس پندرہ سال بعد بھی سڑکیں مکمل نہیں ہوسکیں گی اس طرح اربوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں کرپشن ہوئی ہے اربوں روپے لوٹے گئے اربوں روپے کے سکینڈل بنیں ہمیں عوام کے پیسوں کا حساب رکھنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم یہاں اسمبلی فلور پر جو بات کریں وہ مصدقہ ہونی چاہئے ہم اس ایوان کو اس طرح سے چلائیں گے کہ بلوچستان کے عوام کے ایک ایک پیسے کا حساب ہو اگر وہ غلط خرچ ہوا ہو تو اس کا احتساب ہو ۔صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پورے سال کا بجٹ پیش کیا تھا جس کے بعد انتخابات ہوئے اور اب کئی علاقوں کے نمائندے تبدیل ہوگئے ہیں قائد ایوان نے کہا ہے کہ ہم پورے ایوان کو ساتھ لے کر چلیں گے جس طرح پچھلی حکومت نے اپوزیشن کی حق تلفی کی اب ایسا نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان عدالت کا فیصلہ ارکان اسمبلی کو مہیا کریں تاکہ عدالت نے جو ہدایات دی ہیں اس کے حوالے سے پی ایس ڈی پی پر بات ہوسکے ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن بتائے کہ وہ پی ایس ڈی پی میں کیا بہتری یا تبدیلی چاہتی ہے وزیراعلیٰ نے بھی پی ایس ڈی پی کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی بنائی ہے ہم ارکان سے تجاویز لے کر انہیں اسمبلی میں منظوری کے لئے لائیں گے انہوں نے عاشورہ کے دوران امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے پر سیکورٹی فورسز اور سیاسی قیادت کو مبارکبادپیش کی ۔

پی ٹی آئی کے سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم نے جو بات کی ہے امید ہے کہ اس کا جواب قائد ایوان خود دیں گے یا متعلقہ محکمے کا وزیر جواب دے گا ۔قائد ایوان اور ان کی ٹیم جیسے ہی پی ایس ڈی پی پر معاملات طے کریں گے تو ان تجاویز کو جب ایوان میں پیش کیا جائے گا تبھی ارکان اس کی منظوری یا نامنظوری کا فیصلہ کریں گے۔متحدہ مجلس عمل کے سید فضل آغا نے کہا کہ یہ اجلاس اپوزیشن نے ریکوزیشن پر طلب کیا تھا اپوزیشن ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا جائے فی الحال تو حکومت آپس میں ہی بات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے جب اپوزیشن ارکان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے امید ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم رہیں گے انہوں نے کہا کہ کسی حلقے میں کسی اور حلقے کے شخص کو دخل انداز ی کا موقع دینے سے تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں ہر حلقے کے منتخب نمائندے سے اس حلقے کے بارے میں رائے لی جائے ۔

بی این پی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ 2018-19کی پی ایس ڈی پی کٹ پیسٹ ہے اس میں صرف ایک صفحے کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے پڑھا جاسکے مجھے اجلاس میں پی اینڈ ڈی کے حکام بھی نظر نہیں آرہے آئین کے آرٹیکل 33کے تحت ہمیں عوام کے اجتماعی فلاح کی بات کرنی چاہئے بلوچستان ہائیکورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ گزشتہ حکومت کے لئے شرمناک ہے انہوں نے اس موقع پر ایوان میں عدالتی فیصلے کے مندرجات اور حوالہ جات پڑھ کر بھی سنائے اور کہا کہ سابقہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے خود اقرار کیا ہے کہ پی ایس ڈی پی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

18اگست کے فیصلے میں عدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سال کی پی ایس ڈی پی کی تیاری اکتوبر2018ء میں شروع کرکے مارچ2019ء تک ختم کردی جائے انہوں نے کہا کہ سال2018-19ء کی پی ایس ڈی پی میں پانچ ہزار سے زائد سکیمات ہیں جن میں 123ارب روپے مواصلات کے شعبے کو دیئے گئے ہیں ایسا کرنے سے تعلیم اور صحت کی ترجیحات پانچویں نمبر پر چلی جاتی ہیں صوبے کو پانچ سے دس سال طویل مدتی ترقیاتی پروگرام کی ضرورت ہے ہم تین سال کے لئے پی ایس ڈی پی تشکیل دے سکتے ہیں بلوچستان کی زبوں حالی ختم کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم نے یہ معاملہ بھی بابوئوں اور چند وزراء پر چھوڑ دیا تو آنے والے دنوں میں ہم عوام کو جواب دینے سے قاصر ہوں گے انہوںنے کہا کہ سپیکر رولنگ دیں کہ ایوان ترقیاتی منصوبوں کی سمت کو طے کرے ہمیں سات کے سات دن اسمبلی اجلاس بلا کر اس اہم موضوع پر بات کرتے ہوئے اپنی سمت طے کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان نے ماضی میں بہت کچھ سہا ہے اب بھی اگر صوبے پر توجہ نہیں دی گئی تو ہم عوام کے گناہگار ہوں گے ہمارا مقصد سڑک یا ذاتی سکیمات ڈلوانا نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی ہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے قلعہ سیف اللہ اور پشین میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میںقلعہ سیف اللہ میں پشین اور قلعہ سیف اللہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔پی ایس ڈی پی بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اگر ہم امن کی زندگی نہ جئیں تو نہ پی ایس ڈی پی کام آسکتی ہے نہ ترقیاتی منصوبے ہمارے کام آئیں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے تھا کہ ہم آج کا اجلاس ان شہداء کے لئے مخصوص کرتے کیونکہ ہمارے محافظ امن وامان کے مسئلے سے دوچار ہیںیہ ایک حساس مسئلہ ہے جس کے حوالے سے ایوان نے تحریک التواء بھی منظور کرلی ہے 25تاریخ کو اس پر بات بھی ہوگی مگر پشین اور قلعہ سیف اللہ کے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں پچیس سے پہلے بھی اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان اور پشاورمیں بھی اسی طرح ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی پھر حالات وہاں کہاں تک پہنچے ہمیں اس پر سوچنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پر نظرثانی کرنی چاہئے 2013ء اور2018ء میں جو انتخابات ہوئے ان میں85فیصد حلقہ بندیاں ہوئیںاس وقت کوئٹہ کی چھ نشستیں تھیں اب 9ہوگئی ہیں اسی طرح قلعہ عبداللہ میں بھی حلقہ بندیاں ہوئی ہیں ایک علاقے کو دوسرے حلقے میں شامل کیا گیا اسی طرح دیگر علاقوں میں بھی نئی حلقہ بندیاں ہوئیں حکومت اجتماعی سکیمات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرے گی حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے تاکہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں پھر ایسا نہ ہو کہ اپوزیشن عدالت کے دروازے تک نہ جا پہنچے ۔

۔وزیر داخلہ میر سلیم کھوسہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ امن وامان کی صورتحال کو بہتر سے بہتر بنایا جائے ، قلعہ سیف اللہ اور پشین میں جو لیویز اہلکار شہید ہوئے ہیں ان کے لواحقین کو معاوضہ اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی حکومت شروع دن سے اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے اگر حکومتی و اپوزیشن اراکین چاہیں تو ہم ان کیمرہ بریفنگ دیں گے یہ ہمارے شہداء ہیں اور اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم نہیں گئے تو ہم ان کے بارے میں سوچ نہیں رہے انہوں نے کہا کہ جس دن واقعہ ہوا اس دن سے لے کر آج تک مسلسل حکومت اور تمام سیکورٹی ادارے اس حوالے سے کام کررہے ہیں ہم کسی بھی غفلت کا شکار نہیں ہوں گے اور امید رکھیں کہ ہم اچھے نتائج دیں گے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

بی این پی کے میر حمل کلمتی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی پر اس وقت نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے پہلے تجاویز پیش کی جائیںپھر اس پر ایوان میں بحث کی جائے تاکہ تمام چیزیں واضح ہوں ۔جمعیت العلماء اسلام کے ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت میں اب تک پی ایس ڈی پی سکیمات پر مکمل فیصلہ نہیں دیا گیا اس کی اگلی پیشی 18اکتوبر کو ہونی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس پر مزید بحث کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اب سردی آنے والی ہے اور اس کے بعد وہاں کام نہیں ہوتا اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اس پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے تاکہ جو منصوبے نامکمل ہیں ان کو مکمل کیا جاسکے ۔

صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی پبلک پراپرٹی ہوتی ہے اور اس میں عوام کے مفادات کو مد نظر رکھا جاتا ہے سکیمات عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھ کر ترتیب دی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ جب پانچ سال اپوزیشن میں تھے تو حکومت کا یہی جواب آتا تھا کہ حکومت کاکام ہوتا ہے کہ وہ سکیمات کو ترتیب دے اور حکومتی امور کو چلائے دو سال تک ہمیں کچھ بھی نہیں دیا گیا اور ہم صرف چیخ و پکار کرتے رہے انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت کی کابینہ کا جو پہلا اجلاس ہوا اس میں پہلے پی ایس ڈی پی پر بحث کی گئی ہماری کوشش ہے کہ مارچ اپریل تک تجاویز دیئے جائیں جو نئے ممبر آئے ہیں وہ بھی اپنی نئی سکیما ت ترتیب دینے کی کوشش کریں سکیمات جو عوام کے مفاد میں ہیں عدالت نے ان کو مبرا قرار دیا ہے کہ اس پر کام کیا جائے انہوںنے کہا کہ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ خود ایک کمیٹی تشکیل دے اور حکومت کو تجاویز دیں کہ وہ کونسی سکیمات چاہتے ہیں اور کونسی سکیمات نہیں چاہتے حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے گی اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ حکومت کو تعمیری تجاویز دے عدالت نے تیس سکیمات پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کو دیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ماہرین ، محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات پی ایس ڈی پی پر بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ عدالت نے پی ایس ڈی پی پر جو فیصلے دئے ہیںاس پر کام کرے ۔

محکموں کی جانب سے جو سکیمات دی گئی ہیں ان پر عدالت نے کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ قانونی طریقے سے پی ایس ڈی پی کا حصہ بنائی گئی ہیں جبکہ ان سکیمات پر اعتراض اٹھایاگیا ہے جو غیر قانونی طریقے سے پی ایس ڈی پی کا حصہ بنائی گئی ان مسائل کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ محرم الحرام اور یوم عاشور پر بہترین انتظامات پر صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کی کوششوں سے یہ اہم موقع بخیر و عافیت گزرا ۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں نے یہاں پی ایس ڈی پی پر اپنے تحفظات اور خدشات کااظہار بھی کیا جس پر مجھے یقینا افسوس ہوا کیونکہ وزیراعلیٰ جام کمال خان پہلے ہی اس ایوان میں یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ پی ایس ڈی پی عوامی امنگوں کے عین مطابق ہوگا اور کسی شعبے یا حلقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا عوامی مفاد کے منصوبوں کو اہمیت دی جائے گی ضرورت اس بات کی تھی کہ ارکان کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کو پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کرنے کا موقع دیتے اگر اس کے بعد کسی کے تحفظات ہوتے تو ان کا اظہار کیا جاتا اس وقت نئی حلقہ بندیوں کے بعد کوئٹہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے جب پی ایس ڈی پی بنی تو کوئٹہ کے چھ حلقے تھے مگر اب 9حلقے ہوگئے ہیں یہاں سے حکومتی اور اپوزیشن دونوں جانب کے امیدوار منتخب ہوکر آئے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے حوالے سے کسی رکن کو تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ عوامی مفاد میں بہتر منصوبوں کے لئے تجاویز دیں اب تک کا بینہ کا اس سلسلے میں صرف ایک اجلاس ہوا ہے جس میں پی ایس ڈی پی پر طویل غور و خوض ہوا حکومت ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں کام کرے گی اور وزیراعلیٰ اس بات کااظہار کرچکے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن ارکان کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ اگرچہ ایوان میں پی ایس ڈی پی پر تفصیلی بات چیت ہوچکی ہے مگر بدقسمتی سے صوبے میں دوایسے ادوار آئے کہ جہاں پی ایس ڈی پی مخصوص علاقوں میں استعمال ہوتا رہا دونوں سابق ادوار میں پی ایس ڈی پی کا آدھا حصہ وزرائے اعلیٰ ، وزرائے خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے وزراء کے حلقوںمیں اور باقی آدھابجٹ پورے بلوچستان میں استعمال ہوتا رہا آج جو دوست حکومتی بینچ پر ہیں ماضی میں ان میں سے کئی دوست اپوزیشن میں تھے جو پی ایس ڈی پی اور دیگر حوالوں سے ناانصافیوں کے خلاف خود عدالت میں جاتے رہے یہاں تک کہ رواں مالی سال کا پی ایس ڈی پی بھی عدالت میں ہے ماضی میں برسراقتدار آنے والی حکومتیں ایک جانب یہ کہتی رہیں کہ ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں اور دوسری جانب فنڈز لیپس کئے جاتے رہے ۔

ایک سابق چیف سیکرٹری گزشتہ دور حکومت میں جاتے جاتے یہ بیان دے گئے کہ صوبے میں تیس ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں بدقسمتی سے سابق حکومتیں عوام کو روزگار بھی نہیں دے سکیں ہمیں نہ تو اقتدار نہ ہی مراعات کی خواہش ہے بلکہ صرف عوام کا مفاد ہمیں عزیز ہے پی ایس ڈی پی کو بہتر بنا کر جلد کام شروع کیا جائے کیونکہ سلیگ سیزن قریب ہے جس کے بعد مارچ تک کام نہیں ہوسکیں گے انہوں نے تجویز دی کہ پی ایس ڈی پی کے حوالے سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے ۔

سابق سپیکر میر جان محمد جمالی نے کہا کہ موجودہ پی ایس ڈی پی وزیراعلیٰ میر جام کمال خان کو ورثے میںملا ہے پی ایس ڈی پی کے حوالے سے سب سے پہلے سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال سپریم کورٹ گئے تھے مگر جب وہ خود وزیر بنے تو انہوں نے بھی سب کچھ بھلادیا تھا ہمیں پی ایس ڈی پی کے ساتھ صوبے کی ترقی کا رخ بھی درست کرنا ہے دیکھا جائے کہ 2008ء سی2018ء تک پی ایس ڈی پی کیسے بنا وسائل کیسے استعمال ہوئے اس کی تحقیقات ہوں منصوبے عوام کے مفاد میں ہونے چاہئیں مساوی تقسیم ہونی چاہئے ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ کسی کو کچھ نہیں ملا تو کچھ لوگوں کو سب کچھ ملا ۔

اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ منصفانہ طریقے سے منصوبے بنائے مستقبل کا پروگرام ترتیب دیں ۔ بلوچستان عوامی پارٹی اقلیتی رکن دنیش کمار نے کہا کہ جب میں نے رواں سال کے پی ایس ڈی پی کا مطالعہ کیا تو مجھے انتہائی افسوس ہوا کہ صوبے میں آباد چار لاکھ سے زائد اقلیتوں کے لئے صرف ایک کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے اس کے مقابلے میں سندھ میں اقلیتوں کے لئے تین سو کروڑ روپے مختص ہیں ہم اتنی بڑی رقم تو نہیں مانگتے لیکن کم از کم بلوچستان میں اقلیتوں کے لئے تیس کروڑ روپے تو ضرور مختص کئے جائیں ۔

اجلاس میں نماز کے وقفے کے بعد دوبارہ پی ایس ڈی پی پر بات کا آغاز کرتے ہوئے بلوچستا ن نیشنل پارٹی کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے کہا کہ وزیراعلیٰ شکایتی سیل کو ہر ضلع کی سطح پر لیجانے کی ضرورت ہے تاکہ غریب اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل ہوسکیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں خواتین اور معذور افراد کے حوالے سے منصوبے شامل نہیں ہیں گزشتہ ادوارمیں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ہر حلقے کے کچھ مخصوص علاقوں کو ترقیاتی منصوبے دیئے جاتے ہیں مستونگ کے اٹھارہ منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں اور یہ تمام انفرادی نوعیت کے منصوبے ہیں ہم نے ایم ڈی جیز کے اہداف بھی حاصل کئے اور اب ایس ڈی جیز کی طرف جارہے ہیں ہمیں پی ایس ڈی پی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے خضدار میڈیکل کالج ، تربت یونیورسٹی میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں اسی طرح چاکرخان یونیورسٹی بھی تاخیر کا شکار رہی ہے ہمیں اجتماعی منصوبوں کو متنازعہ نہیں بنانا چاہئے سال2018-19کے پی ایس ڈی پی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔

پی ٹی آئی کے رکن مبین خلجی نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے حلقے چھ سے بڑھ کر نو ہوچکے ہیں شہر کی آبادی بھی بڑھ گئی ہے لیکن کافی عرصے سے پی ایس ڈی پی میں ایک ہی طرز کی سکیمات نظر آرہی ہیں اور ان سکیمات پر زمین پر کام نہیں ہوا لہٰذا پرانی سکیمات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی جائے اور کوئٹہ کو اس کے حلقوں کے حساب سے پی ایس ڈی پی میں نمائندگی ملنی چاہئے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے کہا کہ پی ایس ڈی پی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے پی ایس ڈی پی کی تمام سکیمات کو نئے سرے سے تشکیل دینا اور نیا بجٹ لانا ناممکن ہے بجٹ کی پہلی سہ ماہی ختم ہونے کو ہے جبکہ ایک سہ ماہی سلیگ سیزن میں گزر جاتی ہے پی ایس ڈی پی میں بہت سی ایسی سکیمات ڈالی گئی ہیں جن کی ضرورت نہیں تھی دس حلقوں کو 140ارب روپے کی سکیمات دی گئی ہیں ان میں آواران میں 9ارب 38کروڑ ، کچھی کے لئی2ارب 35کروڑ ، خضدار کے لئی3ارب 69کروڑ روپے کی نئی سکیمات رکھی گئی ہیں جبکہ ایسے حلقے بھی ہیں جن کے لئے صرف8کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں میری یہ تجویز ہے کہ بجٹ کو چلنے دیں اور کمیٹی بنا کر آن گوئنگ سکیمات کو جاری رکھا جائے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مد میں صرف 25سی26ارب روپے موجود ہیں پچھلے دور میں 30ہزار نئی نوکریاں منظور ہوئیں جن میں سے 2ہزار نوکریاں نگران حکومت نے پر کیں جبکہ باقی اٹھائیس ہزار نوکریوں کی رقم بجٹ میں موجود ہے اب اس بات کا انحصار وزیراعلیٰ پر ہے کہ وہ بیورو کریسی سے یہ پیسے کیسے استعمال کراتے ہیں ۔

آئندہ بجٹ پر کام ابھی سے شروع کیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہلک اور مانگی ڈیم پر بھی فوری طو رپر کام شروع کیا جائے جبکہ مشرقی بائی پاس کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے ۔بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند نے کہا کہ اگرچہ بلوچستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں تاہم پی ایس ڈی پی میں ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہئے سابق دور حکومت میں سکولوں میں واش رومز کی تعمیر کے لئے کثیر رقم رکھی گئی مگر یہ رقم استعمال نہیں کی گئی فوری طور پر اس رقم سے سکولوں میں واش رومز بنائے جائیں صحت کے شعبے پر توجہ دی جائے پینے کا پانی اہم مسئلہ ہے جس کے لئے ڈیمز کی ضرورت ہے اس کے لئے حکومت فنڈز ریزنگ کرے اس موقع پر انہوں نے اپنی جانب سے ڈیمز کی تعمیر کے لئے دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اختر حسین لانگو نے کہا کہ پی ایس ڈی پی ایک بہت بڑا معاملہ ہے اس پہ بات چیت کے لئے زیادہ وقت چاہئے لہٰذا آج کے اجلاس کی بجائے اسے آئندہ اجلاس کے لئے موخر کیا جائے انہوںنے کہا کہ پانچ سال کے دوران کوئٹہ جو صوبائی دارالحکومت ہے اسے نظر انداز کیا گیا گزشتہ پانچ سال کے دوران تحصیل کی سطح پر سینکڑوں سکول بنائے گئے مگر کوئٹہ میں آج بھی سکول عمارتوں سے محروم ہیں اکثر سکول جو کرائے کی عمارتوں میں تھے کرایہ نہ ملنے کی وجہ سے مالکان نے بند کرادیئے ہیں اکثر سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ رہے ہیں دوسری جانب پینے کے پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوچکا ہے سینکڑوں ٹیوب ویل لگانے کے باوجود وہ فعال نہیں جس کی وجہ سے عوام کو پینے کا پانی نہیں مل رہا صوبے کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن پر بحث کے لئے وقت چاہئے حکومت کی جانب سے اب تک نہیں بتایاگیا کہ بجٹ بنانے کے لئے کیا قواعد بنائے گئے ہیں اور ہمیں اب تک صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی کے حوالے سے فیصلوں کا بھی علم نہیں ان تمام چیزوں سے آگاہ کیا جائے جس کے بعد بحث کی جاسکتی ہے ۔

جمعیت العلماء اسلام کے اقلیتی رکن شام لال لاسی نے پی ایس ڈی پی میں اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں اقلیتوں کے لئے ایک کروڑ روپے رکھے جانا ان کے ساتھ ناانصافی ہے اگر پی ایس ڈی پی کا ایک فیصد بھی اقلیتو ں کے لئے مختص کیا جاتا تو اسی کروڑ روپے ملتے انہوںنے وزیراعلیٰ پر زور دیا کہ وہ پی ایس ڈی پی میں اقلیتوں کے لئے فنڈز پر نظر ثانی کریں اور ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں ۔

متحدہ مجلس عمل کے یونس عزیز زہری نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں شامل تمام سکیمات کا جائزہ لیا جائے گزشتہ دنوں میرے حلقے میں وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے دورہ کیا انہیں صرف چند مخصوص سکیما ت دکھائی گئیں ۔ خضدار کو واٹر سپلائی کی مد میں دس کروڑ روپے کی سکیمات دی گئیں لیکن اب تک شہر کو ایک لٹر پانی بھی نہیں ملا وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ خضدار پیکج کے ایک ارب روپے کی رقم کہاں خرچ ہوئی معلوم نہیں ۔

پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی رکن کی جانب سے یہ کہنا کہ اپوزیشن کو ہر چیز نہیں دے سکتے ٹھیک نہیں ہے ہم نے حکومت سے ان کی وزارتیں یا گاڑیاں نہیں مانگیں عوام کے حقوق مانگے ہیں اور عوام کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے انہوںنے کہا کہ میرے حلقے میں تمام سکیمات کا جائزہ لیا جائے اگر ان میں فج سکیمات نہ ہوئیں تو میں اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوجائوں گا ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن احمد نواز بلوچ نے کہا کہ میرے حلقے پی بی30سریاب میں پانی کی قلت ، کالج میں اساتذہ کی کمی اور صفائی کی صورتحال ابتر ہے نوجوانوں کے لئے کھیلوں کے میدان نہیں ہیں اور اب سننے میں آرہا ہے کہ سریاب روڈ توسیعی منصوبے میں پرانی آبادی کو بھی ختم کیا جارہا ہے جس پر عوام میں تشویش پائی جارہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ایس ڈی پی میں پی بی30کے لئے ترجیحی بنیادوں سکیمات شامل کی جائیں بعدازاں ڈپٹی سپیکر بابر موسیٰ خیل نے ایوان کی مشاورت سے پی ایس ڈی پی پر بحث منگل25ستمبر کے اجلاس تک کے لئے ملتوی کردی ۔