اسد عمر وزارت خزانہ سے مستعفی ‘پریس کانفرنس میں باضابظ اعلان کردیا

کابینہ کا نہیں مگر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ رہونگا‘حکومتی عہدوں کے لیے تحریک انصاف میں نہیں آیا تھا‘سازشوں کے بارے میں علم نہیں. سابق وزیرخزانہ کا پریس کانفرنس سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اپریل 16:20

اسد عمر وزارت خزانہ سے مستعفی ‘پریس کانفرنس میں باضابظ اعلان کردیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 اپریل۔2019ء) وفاقی وزیرخزانہ اور تحریک انصاف کے مرکزی راہنما اسد عمر نے وزارت سے مستعفی ہونے کا باضابط اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کابینہ کا نہیں مگر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ رہیں گے. اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے مجھے توانائی کی وزارت کی پیش کش کی ہے، تاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 18 اپریل 2012 کو میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور پی ٹی آئی کے ساتھ 7 سال کا یہ سفر بہت اچھا گزرا اور عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کے لیے ہمارے ساتھ آئیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں. انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے، ساتھ ہی انہوں نے این اے 48 اور 54 کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا.

معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی تھی وہ پاکستان کی معیشت کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے، جس سے اعداد و شمار میں بہتری بھی آئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت کے بہت اچھے حالات ہوگئے، جو نیا وزیر خزانہ آئے گا وہ بھی ایک مشکل معیشت کو سنبھالے گا. اسد عمر نے کہا کہ میرے خیال میں وزیر اعظم کے بعد وزیر خزانہ کی نوکری مشکل ترین ہے لیکن میں نئے وزیر خزانہ کے لیے امید کرتا ہوں کہ انہیں مکمل حمایت ملے گی.

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، معیشت میں بڑی جان ہے، صرف تھوڑے مشکل فیصلوں اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے، اگر ہم یہ فیصلے نہیں کریں گے جلد بازی کریں گے تو معیشت کا کھائی میں گرنے کا دوبارہ خطرہ ہے. انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، کوئی یہ توقع نہ کرے کہ معجزے ہوں گے اور دودھ و شہد کی ندیاں بہیں گی.

اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مشکل فیصلے لینے سے گھبراتا نہیں ہوں، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں جارہے ہیں، آئندہ بجٹ پر اس کا اثر ہوگا لیکن یہ مشکل بجٹ ہوگا اور مشکل فیصلے کرنے کا استحقاق نئے وزیر خزانہ کے پاس ہونا چاہیے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سازشوں کا حصہ بننے نہیں بلکہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے آیا تھا، مجھے اس بارے میں علم نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے یا نہیں، کپتان نے مجھے کہا کہ میں آپ کو اس رول میں دیکھنا چاہتا ہوں لیکن میرے حساب سے یہ مناسب نہیں تھا اس لیے ان سے اجازت لے لی، تاہم ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے.

مستعفی وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان کے وزیر خزانہ کی ذمہ داری ملک کے 21 کروڑ عوام پر ہے، میں پاکستان کے عوام کا کچومر نکالنے کے لیے نہیں تیار تھا اور ہم نے یہ کرکے دکھایا، آئی ایم ایف کا معاہدہ جن بنیادوں پر ہوا وہ بہت بہتر ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نیاپاکستان بنے گا اور عمران خان اس کی قیادت کریں گے، میں نے کبھی شرط نہیں رکھی کہ مجھے وزیر بنایا جائے، جب میں نے نوکری چھوڑی تھی اس وقت تو تحریک انصاف پارلیمنٹ ہی نہیں تھی، بہتر پاکستان کے لیے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی.

تحریک انصاف کو خیرباد کہنے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ میں جماعت کو نہیں چھوڑ رہا، میرا یقین ہے عمران خان نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے، وزارت سے متعلق پہلی مرتبہ بات کل رات میں ہوئی. اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے میری جو بات ہوئی ہے، اس کے مطابق آج رات یا کل تک کابینہ میں جو تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں اس کا اعلان ہوجائے گا.

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، ایک نئی ٹیم آکر کام کرے گی تو ہوسکتا ہے بہتری نظر بھی آئے لیکن انہیں وقت دینا ہوگا. اپنی کارکردگی سے متعلق سوال پر اسد عمر نے کہا کہ بحرانی صورتحال کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے دور کے پہلے 8 ماہ اور ہماری کارکردگی کا موازنہ کرلیں تب بھی عمران خان کی حکومت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے.

اسد عمر نے مزید کہا کہ عمران خان کی حمایت کابینہ میں شمولیت سے بالکل مشروط نہیں تھی، میرا آج بھی ان پر اعتماد ہے کہ وہ نیا پاکستان کا وژن پورا کریں گے. سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ میں یہ خصوصیات ہوں گی کہ اسے وزیر اعظم منتخب کریں گے، وہ نیک سیرت، قابل اور محنتی ہوگا. واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا.

ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا. انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا. انہوں نے کہا کہ 8ماہ پہلے اور آج کی آئی ایم ایف کی شرائط میں بہت فرق ہے .