نئے پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اپنا کردار جاری رکھیں گے،

نئے پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میں ہر وقت دستیاب ہوں، نیا وزیر جو بھی آئے گا ان کیلئے بھی مشکلات ہوں گی لیکن 8 ماہ قبل کی صورتحال نہیں ہو گی، بہتری کی طرف جا رہے ہیں، معیشت میں بہتری آ رہی ہے، مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، جلد بازی نہیں کرنی چاہئے، جلد بازی کی صورت میں مسائل دوبارہ جنم لیں گے، تحریک انصاف میں منتخب اور غیر منتخب رہنمائوں کی اہمیت کے حوالہ سے کوئی اختلاف نہیں ہے، سازشوں اور اقتدار کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 18:06

نئے پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اپنا کردار جاری رکھیں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2019ء) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اپنا کردار جاری رکھیں گے، نئے پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میں ہر وقت دستیاب ہوں، نیا وزیر جو بھی آئے گا ان کیلئے بھی مشکلات ہوں گی لیکن 8 ماہ قبل کی صورتحال نہیں ہو گی، بہتری کی طرف جا رہے ہیں، معیشت میں بہتری آ رہی ہے، مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، جلد بازی نہیں کرنی چاہئے، جلد بازی کی صورت میں مسائل دوبارہ جنم لیں گے، تحریک انصاف میں منتخب اور غیر منتخب رہنمائوں کی اہمیت کے حوالہ سے کوئی اختلاف نہیں ہے، سازشوں اور اقتدار کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔

(جاری ہے)

جمعرات کو یہاں ایف بی آر کے آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ان کی وزارت چھوڑنے کی بات پہلی بار گذشتہ رات کو ہوئی ہے، وزیراعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم چاہتے تھے کہ میں وزارت توانائی کا چارج سنبھالوں تاہم میں نے انہیں قائل کر لیا کہ میں سبکدوش ہو رہا ہوں تاہم نئے پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میں ہر وقت دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 18 اپریل 2012ء کو ایک اخبار میں خبر چھپی تھی کہ اسد عمر تحریک انصاف میں جا رہے ہیں، سات سال کا یہ سفر بڑا اچھا گزرا ہے، مشکل اور اچھے وقت ایک ساتھ دیکھے، دل کو سکون ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے میں نے کام کیا، جب تحریک انصاف میں آ رہا تھا تو اس وقت بھی میں نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا تھا کہ میں پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے تحریک انصاف میں شامل ہو رہا ہوں، میں اپنے تمام حمایتیوں بالخصوص این اے 48، این اے 54 اور سوشل میڈیا کے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ نوجوان اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور وطن کی بہتری چاہتے ہیں، ان نوجوانوں نے میری حمایت کی، میں ان کے جنون اور جذبہ کو سلام پیش کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ان کے جنون اور جذبہ کے بغیر عمران خان وزیراعظم نے بن سکتے تھے، این اے 48 اور این اے 54 کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، وزارت کی ذمہ داریوں میں مصروفیت کے باعث میرے حلقہ کے عوام نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا کیونکہ میں ان کو صحیح وقت نہیں دے سکا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ نیا وزیر خزانہ جو بھی آئے گا ان کیلئے مشکلات ہوں گی، جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت معیشت مشکل مرحلہ میں تھی، وہ لمحات پاکستان کی معاشی تاریخ کے خطرناک ترین لمحات تھے اور ہماری معیشت کا کھائی میں گرنے کا خدشہ تھا، ہم نے مشکل فیصلے کئے اور معیشت کو ریسکیو کیا، اس وقت معیشت استحکام کے مرحلہ میں ہے، نیا وزیر جو بھی آئے گا ان کیلئے بھی مشکلات ہوں گی لیکن 8 ماہ قبل کی صورتحال نہیں ہو گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں، معیشت میں بہتری آ رہی ہے، مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، جلد بازی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ جلد بازی کی صورت میں مسائل دوبارہ جنم لیں گے، نئے وزیر خزانہ جو بھی فیصلے کریں گے انہیں اس پر کھڑا ہونا ہو گا اور عوام کو بھی ان کا ساتھ دینا ہو گا کیونکہ اس کے بغیر ہم معیشت کو آگے نہیں لے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ آئی ایم ایف پروگرام کا عکاسی ہو گا۔

وزیر خزانہ آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق ترجیحات کا تعین کریں گے کیونکہ اسی کے تحت ہی آئی ایم ایف پروگرام کا تفصیلی نفاذ ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں بڑی جان ہے اور اس میں چوائسز بھی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی بہتری کیلئے سیاست میں آئے، مجھے اسمبلی اور وزارت سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے، میں سازشوں پر یقین نہیں رکھتا، مجھے میرے کپتان نے ایک کردار ادا کرنے کیلئے کہا جو میں نے ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وزارت خزانہ کا منصب سنبھالا تو اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ ایسے فیصلے نہیں کروں گا جس سے عوام کا کچومر نکلے، ہم آئی ایم ایف کی طرف فوری طور پر اس لئے نہیں گئے، وہ فیصلہ ٹھیک تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نیا پاکستان بنے گا اور عمران خان نئے پاکستان کی قیادت کریں گے، پی ٹی آئی میں اس لئے نہیں آیا تھا کہ وزیر بنوں، 2013ء کے انتخابات میں بھی میں نے ٹکٹ نہیں مانگا تھا، نئے پاکستان کی خواہش کرسی کیلئے نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں عمران خان کی قیادت پر پورا اعتماد ہے، تحریک انصاف چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت میں تبدیلی کی بات گذشتہ رات ہوئی تھی، وزیراعظم کابینہ میں ردوبدل کا اعلان جلد کریں گے۔ وزارت سے سبکدوشی کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت مشکل وقت سے گزر رہی ہے، اپوزیشن بھی دبائو بڑھانے کیلئے بہانے بنا رہی ہے لیکن ہم نے مشکل فیصلے کئے ہیں، نئی ٹیم کو تھوڑا وقت لگے گا اور بہتری آئے گی، میں نے وزارت چھوڑی ہے سیاست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 8 ماہ تک انہوں نے وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پہلے 8 ماہ کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو مشکل صورتحال اور بحران کے باوجود ہماری کارکردگی ان سے بہترین رہی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نئی اقتصادی ٹیم بنیادی پالیسی ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی، فیصلوں کے نفاذ کے حوالہ سے بعض تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹیکنو کریٹس اور منتخب وزیر خزانہ دونوں کے فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں، ٹیکنو کریٹس کی سمجھ بوجھ زیادہ ہوتی ہے، منتخب نمائندہ عوامی نمائندہ ہوتا ہے جو بندہ تھڑے پر بیٹھتا ہو اس کی سمجھ بوجھ اور عوامی رائے جاننے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں منتخب اور غیر منتخب رہنمائوں کی اہمیت کے حوالہ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک معیشت کے بنیادی امور کو ٹھیک نہیں کیا جاتا اس وقت تک معیشت کی حالت بہتر نہیں ہو گی، گذشتہ 40 سال سے ایک ہی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا حل وسط مدتی اقتصادی فریم ورک میں دیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں کے دوران بعض امور میں اچھے نتائج ملے ہیں جبکہ بعض میں نتائج اتنے اچھے نہیں رہے۔