وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کرے گی،

راولپنڈی تا لاہور ٹریک کو تین مراحل میں ڈبل کیا جائے گا، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد راولپنڈی تا لاہور سفر دو گھنٹے 12منٹ کا ہوجائے گا، جب تک احتساب کے کیسز ختم نہیں ہوتے کسی کو این آر او نہیں ملے گا وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمدکا پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات اپریل 16:56

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کرے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 اپریل2019ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کرے گی، راولپنڈی تا لاہور ٹریک کو تین مراحل میں ڈبل کیا جائے گا، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد راولپنڈی تا لاہور سفر دو گھنٹے 12منٹ کا ہوجائے گا، جب تک احتساب کے کیسز ختم نہیں ہوتے کسی کو این آر او نہیں ملے گا، چھوٹے جرائم پر لوگ جیلوں میں ہیں ایسے ہی بڑے چوروں اور لیٹروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

وہ جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان میں بیمار ہوجاتے ہیں، لندن جاتے ہیں تو جاگنگ شروع کردیتے ہیں ،جو لیڈر جیل سے ڈرتا ہے وہ لیڈر نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے کے حوالے سے میرے دو خواب تھے جن میں سے ایک پر 14سال بعد جبکہ دوسرپر ڈیڑھ ماہ میں کام شروع ہوجائے گا، وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں کوہالہ پاور اورایم ایل ون تین مراحل میں مکمل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ پایا ہے، جو کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلی جارہے ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ عمران خان کا دفاع کیا اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان تجربہ کار ہیں، وزارت اطلاعات چلانا ان کا ہی کام ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسافر ٹرینیں کامیاب جارہی ہیں، مال گاڑیاں صرف4 فیصد کارگو اٹھا رہیں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ کم از کم 20 فیصد کارگو ٹرین پر لے آئیں، چین نے بھی اپنے ٹریک کو اپ گریڈ کر کے ریلوے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی کی جانب سے کئے گئے حالیہ سروے کے مطابق اسوقت 70.1فیصد لوگ ریلوے ٹریک کے اردگرد رہتے ہیں، جو ٹریک کو ڈبل کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان ایم پی اے کا حلف نہیں اٹھا رہے، اسد عمر سے رابطے میں ہوں۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ گورنر پنجاب سے راولپنڈی یونیورسٹی کے معاملے پر ملاقات ہوئی ہے ، ایک کروڑ روپے اپنی وزارت سے دیکر جب فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کا آغاز کیا تو اس وقت سرتاج عزیز بھی مذاق اڑاتے تھے، آج بھی راولپنڈی یونیورسٹی شروع کرنا چاہتا ہوں تو تعلیم دشمن مافیا اکٹھا ہو کر رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی بچیوں کی تعلیم میں27 واں نمبر سے آج اول نمبر پر آچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام چوروں، ڈاکوئوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ اسمبلی اس وقت تک نہیں چلنے دیں گے جب تک احتساب کے کیسز ختم نہیں ہوتے، ان لوگوں کو بتادینا چاہتا ہوں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔