ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا،

اب یہ ملک پنڈی میں ایک اور واقعہ برداشت نہیں کر سکتا‘پیپلز پارٹی پنجاب حکومت کا رویہ وفاق کیلئے انتہائی خطرناک ہے،پنجاب حکومت فریال تالپور کے سندھ اسمبلی کے پروڈکشن آڈرپر عملدرآمد کرائے قانونی خلاف ورزی جاری رہی تو پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرے گی،آصف زرداری اور فریال تالپور کیساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ فاشسٹ رویہ ہے،مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اسلام آباد بند کرنے پر حمایت کا فیصلہ پارٹی قیادت کریگی‘ قمر زمان کائرہ اوردیگر کی پریس کانفرنس

بدھ ستمبر 21:04

ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت پروڈکشن آرڈر کا احترام نہیں کر رہی اور یہ وفاق کے لیے انتہائی خطرناک رویہ ہے،ہم نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے کہ فریال تالپور کے لیے سندھ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کرائے ،اگر یہ قانونی خلاف ورزی جاری رہی تو پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرے گی،پنجاب کے جیلوں میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ فاشسٹ رویہ ہے،مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اسلام آباد بند کرنے پر حمایت کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے چوہدری منظور احمد، چوہدری اسلم گل، ثمینہ خالد گھرکی اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکمران ظلم کے ذریعے آصف زرداری کو خاموش نہیں کرواسکتے،آصف زرداری کی کمر جھکی ہے، سر نہیں جھکے گا۔ فریال تالپور کو رات کی تاریکی میں ہسپتال سے جیل منتقل کیا گیا، عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔

آصف زرداری اور فریال تالپور پر مقدمات سندھ سے متعلقہ ہیں۔ وقوعہ، دستاویزات، گواہ سندھ سے ہیں۔ مقدمات اسلام آباد منتقل کرکے بری مثال قائم کی گئی۔ ہم حکومت پنجاب کو تنبیہہ دے رہے ہیں اور خط بھی لکھ رہے ہیں، آصف زرداری کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعلی پنجاب ہوں گے۔ دونوں بہن بھائیوں کے خلاف تفتیش مکمل ہوچکی ہیں انہیں کراچی منتقل کیا جائے۔

آصف زرداری کسی سے سمجھوتا نہیں کریں گے۔ سابق صدر مملکت کو تکلیف دے کر وزیراعظم کی ناک اونچی ہوتی ہے اور کسی کو پیپلزپارٹی سے روایتی دشمنی ہے۔ کراچی کی صفائی اور پانی کا سنجیدہ مسئلہ ہے مگر میڈیا کا سلوک اچھا نہیں، ہر بلیٹن میں کچرا دکھایا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے 125 ارب کم دیئے ہیںجس سے بجٹ پر دبائو آیا۔

وفاقی حکومت کراچی پر ڈرامہ بند کرے ،وزیراعظم کشمیر پر میٹنگ میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اور کراچی پر اجلاس میں صوبائی حکومت کے نمائندوں کو نہیں بلاتے۔ عمران خان گورنر کے ذریعے متوازی حکومت بنا کر سندھ چلانا چاہتے ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور میں ایک گھٹیا حرکت کی گئی ، پروفیسر وارث میر سے موسوم پنجاب یونیورسٹی کے انڈر پاس کا نام بدل دیا گیا، اسے فوری بحال کیا جائے۔

پنجاب پولیس کی بے حسی اور رویہ افسوس ناک ہے۔ پولیس کو با اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بھی بنائیں۔ جب حکمران جماعت اپنی مخالف پارٹیوں سے سلام کرنا پسند نہ کرے، گالیاں دے کر بات کرے تو وہاں سماج کا یہی حال ہوگا۔ پولیس ریفارمز کی اشد ضرورت ہے ،حکومت آئی تو انکا دعوی تھا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ میں آج پوچھتا ہوں کہ وہ کونسا ایس ایچ او ، ڈی ایس پی ہے جو ایم پی اے کے کہنے پر نہیں لگا۔

ہم آئی جی پنجاب سے کہتے ہیں کہ ریاست کے ملازم بنیں ، حکومت کی غلامی نہ کریں۔ مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اسلام آباد بند کرنے پر حمایت کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ ہم اے پی سی میں ہونے و الے فیصلوں کے پابند ہیں۔اس موقع پر چوہدری منظور صاحب نے کہا کہ آجکل ملک میں آئینی بحران چل رہا ہے۔ ایک اسمبلی دوسرے کے سامنے کھڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا، اب یہ ملک پنڈی میں ایک اور واقعہ برداشت نہیں کر سکتا۔ پنڈی میں ہزاروں ڈینگی کے کیسز آئے، کونسی ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اگر آصف زرداری اور فریال بی بی کے کیسز کو سندھ منتقل نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کریں گے اور قانونی راستہ بھی اختیار کریں گے۔