2020عمران خان حکومت کا آخری سال؟

حکومتی ترجیحات میں عوامی مسائل شامل نظر نہیں آتے‘عالمی مالیاتی اداروں کی مسلط کردہ معاشی ٹیم اپنے اہداف کو پورا کرنے میں مصروف ہے.قومی تجزیہ نگاروں کی ”اردوپوائنٹ“سے خصوصی نشست

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جنوری 13:54

2020عمران خان حکومت کا آخری سال؟
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 جنوری۔2020ء) تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں نے حکومت پر دباﺅ بڑھنا شروع کردیا ہے جس کے بعد حکومت کے پا س آپشن محدود ہوتے جارہے ہیں سنیئرتجزیہ نگار اور انگریزی جریدے دی نیشن اور دی نیوز کے سابق گروپ ایڈیٹر سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس بہت کم آپشن بچے ہیں ”اردوپوائنٹ “کے ایڈیٹرمیاں ندیم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے دباﺅ اور بیڈگورنس کی وجہ سے حکومت ڈیلیورنہیں کرپارہی جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے .

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی مسلط کردہ معاشی ٹیم اپنے اہداف کو پورا کرنے میں مصروف ہے انہیں حکومت یا پاکستانی عوام کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں ملک میں غربت‘مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے مگر حکومتی ترجیحات میں عوامی مسائل شامل نظر نہیں آتے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جلد یہ حکومت چلی جائے گی نہیں تو عوام انہیں بجھوادیں گے.

روزنامہ نوائے وقت کے سابق چیف رپورٹر اور تجزیہ نگار فرخ سعید خواجہ نے کہا کہ انہیں حکومت چلتی نظر نہیں آرہی پنجاب جیسے بڑے صوبے سمیت کے پی کے اور مرکزمیں حکومت ہونے کے باوجود تحریک انصاف اپنے منشور کا ایک فیصد بھی مکمل نہیں کرپائی انہوں نے کہا کہ میں متفق ہوں کہ غربت اور مہنگائی کا خاتمہ احسا س پروگرام‘لنگرخانوں‘صحت کارڈ‘پناہ گاہوں اور قرض پروگراموں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک ٹھو س اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے ہماری انڈسٹری بند ہورہی ہے ہم اسے چلانے کی بجائے قوم کا پیسہ ایسے پروگراموں پر ضائع کررہے ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہوگا .

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کس ملک نے اس طرح کے خیراتی پروگراموں سے ترقی کی ہے؟ ترقی کے لیے ہمیں اپنی معیشیت کو مضبوط کرنا ہوگا . انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم بدترین فوڈ سیکورٹی کا شکار ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زراعت پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی لائیوسٹاک پر اگر ہم ان دوشعبوں کو ہی درست کرلیں تو ہماری اقتصادی حالت بہتر ہوسکتی ہے.سنیئرکالم نگار عبدالقادر حسن نے میاں ندیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت اور لائیوسٹاک بلاشبہ انتہائی اہم شعبے ہیں اور یہ ہماری معیشیت کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں مگر حکومتوں نے دیہی علاقوں پر توجہ دینے کی بجائے شہروں کو وسعت دینے پر وسائل صرف کیئے جس کی وجہ سے اربنائزیشن میں اضافہ ہوا جب دیہاتوں میں لوگ ہی نہیں ہونگے تو زراعت اور لائیوسٹاک کا شعبہ کیسے ترقی کرئے گا؟ اربنائزیشن کی وجہ سے ایک طرف ہماری قومی پیدوار متاثر ہوئی دوسرا شہروں میںآبادی کے دباﺅ کی وجہ سے بنیادی ضروریات بجلی ‘پانی‘گیس کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا.

انہوں نے کہا کہ1960کی دہائی میں ہماری اقتصادی ترقی دنیا کے لیے ایک ماڈل تھا جسے اپنا کردنیا کے کئی ممالک آج ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ ہم آج دنیا میں بھکاری بنے ہوئے ہیں ہماری اقتصادیات قرض پر چل رہی ہیں اگر عالمی مالیاتی ادارے ہمیں قرض دینا بند کردیں تو ہم دیوالیہ ہوجائیں گے. انہوں نے کہا کہ ہمیں خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا دم توڑتی صنعتوں کی بحالی‘زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا ہوگاچھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں سہولیات فراہم کرکے ہم اربنائزیشن کے سیلاب کو روک سکتے ہیں مگر اس کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے.

میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے فوری طور پر زراعت پر توجہ نہ دی تو ہماری بقاءکو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا 40فیصد ہے مگر آج تک ہم نے ا س کو آباد کرنے پر توجہ نہیں دی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی افریقی ممالک نے ریگستانوں کو آباد کرلیا ہے مگر کسی حکومت نے بلوچستان کے بارے میں نہیں سوچا آج اگر بلوچستان میں امن وامان کا مسلہ ہے تو اس کا حل کبھی بھی طاقت کے استعمال سے نہیں نکلے گا کئی دہائیوں سے ہم نے طاقت استعمال کرکے دیکھ لی اب وقت آگیا ہے کہ پالیسی کو بدلا جائے اور بلوچستان کے عوام کو زمینیں الاٹ کرکے انہیں آباد کرنے کے لیے وسائل دیئے جائیں تو امن وامان کا مسلہ خودبخود حل ہوجائے گا.

انہوں نے کہا کہ جب عام بلوچ عوام کو اسٹیک پر ہی کچھ نہیں ہوگا تو وہ شرپسندوں کے لیے آسان ہدف ہونگے‘انہیں ریاست کے خلاف بھڑکاناآسان ہوگا لیکن اگر عام بلوچ کے پاس اپنی زمین‘مال مویشی اور گھر بار ہوگا تو وہ کسی بھی شرپسندی کا حصہ بننے سے پہلے کئی بار سوچے گا. انہوں نے کہا کہ ہرسال حکومتیں اربوں روپے واہیات قسم کے منصوبوں میں ضائع کردیتی ہیں اگر یہی پیسہ بلوچستان میں آبی ذخائرکی تعمیر‘نہروں اور سمندر پر پانی صاف کرنے کے پلانٹس لگانے کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو پورے ملک میں ایک انقلاب برپا ہوگا.

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتی کے شفاف اور غیرجماعتی نظام کے ذریعے عام شہریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے تو روایتی سرداروں کا نظام خود ہی زمین بو س ہوجائے گا یہی ماڈل سابقہ فاٹا کے اضلاع میں نافذکرکے بہترین نتائج حاصل کیئے جاسکتے ہیں. انگریزی جریدے ڈیلی ٹائمزکے سابق ایڈیٹر وتجزیہ نگار رضارومی کا کہنا ہے کہ عالمی حالات کے پیش نظر پاکستان نے اگر خود انحصاری کو نہ اپنایا تو آنے والا وقت پاکستان کے لیے مزید مشکل ہوگا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ابھی تک ترجیحات کا تعین ہی نہیں کرپائی اب تک سامنے آنے والے ”فلاحی“منصوبے سابقہ حکومتوں کے تندور‘بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبوں کا چربہ ہیں اگر تحریک انصاف کے منشور کو سامنے رکھا جائے اور ان وعدوں کو جو اس نے عوام سے اقتدار میں آنے سے پہلے کیئے تھے تو عمران خان کی حکومت بری طرح ناکام نظر آتی ہے .

انہوں نے کہا کہ ملکی معاشیات عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کرنے سے بہتر تھا کہ عمران خان مستعفی ہوکر گھر چلے جاتے تو کم ازکم مستقبل میں ان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا چانس رہتا مگر اس وقت ملک جو افراتفری ہے تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی بجلی‘گیس ‘تیل سمیت اشیاءخوردونوش عوام کی پہنچ سے باہر جاچکی ہیں مگر حکومت ڈھٹائی سے سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ عوام نئی آنے والی حکومت سے ریلف کی توقع رکھتے ہیں مگر پی ٹی آئی حکومت نے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں ہی عوام کی زندگیاں اجیرن کردی ہیں‘انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے فیصلہ نہ لیا اور عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو 2020حکومت کا آخری سال ثابت ہوسکتا ہے.