امریکی نائب معاون وزیرخارجہ4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئیں

ملاقاتوں میں باہمی تعلقات اورعلاقائی تحفظات کے امورپربات چیت کی جائےگی، ایلس ویلز وزیراعظم، آرمی چیف، وزیرخارجہ سے ملاقاتیں کریں گی۔ ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جنوری 20:06

امریکی نائب معاون وزیرخارجہ4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئیں
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جنوری 2020ء) امریکا کی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئیں، ملاقاتوں میں باہمی تعلقات اورعلاقائی تحفظات کے امور پر بات چیت کی جائےگی، ایلس ویلز پاکستان میں وزیراعظم، آرمی چیف اور سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقاتیں کرینگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس ویلز پاکستان پہنچ گئی ہیں۔

ایلس ویلز سری لنکا اور بھارت کے دورے مکمل کرکے اسلام آباد پہنچی ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے پر ایلس ویلز اور ان کے وفد کا استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنیوالوں میں دفترخارجہ حکام اور امریکی سفارت خانے کے حکام بھی شامل تھے۔ ایلس ویلز22 جنوری تک پاکستان میں 4 روزقیام کریں گی۔

(جاری ہے)

ایلس ویلز وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گی۔ امریکی معان نائب وزیر خارجہ پاکستان میں سینئرحکومتی حکام، سول سوسائٹی کے نمائندگان سےملاقاتیں کرینگی۔

ایلس ویلز کی وزیراعظم اور مسلح فوج کے سربراہ قمرجاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملاقاتوں میں باہمی اورعلاقائی تحفظات کے معاملات پربات چیت کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک رکن کرس وان اولاند کی پاکستان ہاؤس واشنگٹن میں ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور تزویراتی شراکت داری کے ذریعے ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ ہفتہ کو یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل لاک ڈائون، اور بلا جواز اور غیر قانونی پابندیاں مسلسل پانچویں ماہ میں داخل ہو گئی ہیں اور بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث خطہ میں امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔

انہوں نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اصولی موقف پر قائم رہنے پر امریکی سینیٹر اولاند کی تعریف کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں، ریاستی سرپرستی میں جارحانہ اقدامات کے ذریعے وہاں بسنے والی اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے جس سے جنوبی ایشیاء کے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور کشیدگی کو کم کرانے میں پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ امریکی سینیٹر نے کہا کہ تاریخی اعتبار سے پاکستان اور امریکہ جنوبی ایشیاء کے خطہ میں اپنی پر امن کوششوں کے لئے شراکت دار ہیں۔