آپر یشن ردالفساد کو 3سال مکمل ہو گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر

=پا ک فوج ملکی سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی بھر پو ر صلا حیت رکھتی ہے، انتہا پسندی کے خلا ف جنگ میں قوم نے بھر پو ر حما یت کی ،میجر جنرل بابر افتخار

ہفتہ فروری 20:14

آپر یشن ردالفساد کو 3سال مکمل ہو گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 فروری2020ء) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپر یشن ردالفساد کو 3سال مکمل ہو گئے ہیں، پا ک فوج ملکی سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی بھر پو ر صلا حیت رکھتی ہے انتہا پسندی کے خلا ف جنگ میں قوم نے بھر پو ر حما یت کی ۔ پا ک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل افتخار بابر نے کہا ہے کہ ملک بھرمیں آپریشن ردالفساد کا آغاز 22 فروری 2017 کو ہوا، آپریشن کا مقصد دہشتگردی اورشدت پسندی سے بلا تفریق نمٹا تھا، دہشتگردی سے سیاحت تک سیکیورٹی فورسز کوقوم کی مکمل حاصل رہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی میں جان ومال کا نظرانہ دینا پڑا، تما م شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ پاکستان نے 2دہائیو ں تک دہشتگردی کے خلا ف جنگ لڑی پا ک فوج ملکی سالمیت کے خلا ف کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی بھر پو ر صلا حیت رکھتے ہیں پا کستان کی سرحدی سیکو رٹی یقینی بنا نا آپر یشن کا مقصد تھا ۔

ملک سے دہشتگردی کے خاتمہ اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے پاک فوج کے شروع کیے گئے آپریشن ردالفساد کو 3 سال مکمل ہو گئے۔ ملک میں امن لوٹ آیا اور ملک بھر سے دہشتگردوں کا صفایا ہو گیا۔واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نومبر 2016ء میں پاک فوج کی کمان سنبھالتے ہی آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا۔ 3 سالوں میں ملک بھر میں 1 لاکھ 49 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور طول و عرض میں چھپے دہشتگردوں، انتہا پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کیا گیا۔

انسداد دہشتگردی کی جنگ کے دوران 2001 سے 2020 تک 350 سے زائد بڑے، 850 سے زائد معمول کے آپریشنز کیے گئے۔ 22 فروری 2017 سے 22 فروری 2020 تک انٹیلی جنس اداروں نے دہشتگردی کے 400 منصوبے ناکام بنائے، فوجی عدالتوں نے 344 دہشتگردوں کو سزائے موت اور 301 کو دیگر سزائیں سنائیں، 5 کو بری کیا گیا۔ دہشتگردوں کی پاک افغان سرحد پر آزادانہ نقل و حرکت روکنے کا بڑا منصوبہ بنایا گیا اور 2611 کلومیٹر سرحد کے 1450 کلو میٹر حصہ پر باڑ کی تنصیب، 843 میں سے 343 حفاظتی قلعے مکمل جبکہ 161 زیر تعمیر ہیں۔

انسداد دہشتگردی کی مشکل ترین جنگ میں ہزاروں جانیں قربان ہوئیں جس کا انعام پاکستانی قوم کو پر امن پاکستان کی صورت میں ملا اور ان کامیابیوں کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا۔کراچی میں جرائم کا خاتمہ ہوا اور شہر قائد خطرناک شہروں میں 97 سے 91 نمبر پر آ گیا۔ امن بحال ہوتے ہی کھیلوں کے میدان آباد ہوئے۔ کبڈی ورلڈ کپ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کی آمد ہوئی۔

اسلام آباد دنیا کے پر امن شہروں میں شامل اور اقوام متحدہ کا فیملی سٹیشن بنا۔ برٹش ایئر ویز نے 10 سال بعد پاکستان کیلئے پروازیں شروع اور نئی ایئر لائنز نے پاکستان کا رخ کیا۔ آپریشن کے آغاز پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے۔ ریاستی و غیر ریاستی عناصر کا گٹھ جوڑ اور ان کے ناپاک عزائم کو متحد ہو کر شکست دیں گے، سپہ سالار کے ان الفاظ پر لبیک کہتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور عوام نے پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے۔