سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹکو مزید بااختیار بنایا جائے گا،سیدناصر حسین شاہ

سندھ حکومت کے ایم سی کو ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 45 کروڑ روپے ماہانہ ادا کرتی ہے،وزیر بلدیات سندھ

جمعرات فروری 18:38

سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹکو مزید بااختیار بنایا جائے گا،سیدناصر حسین ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 فروری2020ء) وزیر بلدیات و اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام بلدیاتی منتخب نمائندوں کی مشاورت اور تجاویز سے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترامیم کے ذریعے مقامی حکومت کو مزید بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ عوام کی مثر اور بہتر انداز میں خدمت کرسکیں اور ان کے مسائل حل کرسکیں ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج مقامی ہوٹل میں لوکل کونسل ایسوسی ایشن سندھ کی جانب سے منعقدہ دو روزہ مشاورتی ورکشاپ کے انعقاد کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں کیا۔ ورکشاپ سے سندھ لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے صدر سید کمیل حیدر شاہ، ایل سی اے بلوچستان کے صدر میر عابد حسین لہڑی، ایل سی اے پنجاب کی صدر فوزیہ خالد وڑائچ، ایل سی اے خیبر پختونخواہ حمایت اللہ معیار، نیشنل ایل سی اے کے صدر راجن سلطان پیرزادہ، نمائندہ دولت مشترکہ کلئرز ایسٹ ، نمائندہ یورپی یونین حیدر نے بھی خطاب کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں سفارشات اور تجاویز پیش کیں۔

(جاری ہے)

اور بتایا کہ اس ورکشاپ میں پورے پاکستان کی لوکل کونسل ایسوسی ایشنز ملک کے ایک لاکھ سے زائد منتخب کونسلرز کی نمائندگی کررہے ہیں۔ دو روزورکشاپ کا مقصد سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کا تفصیلی جائزہ لینا، اسکی خامیوں کی نشاندہی اور عوام کی بہتر خدمت کے سلسلے میں تجاویز اور سفارشات تیار کرنا ہیں۔ دو روزہ ورکشاپ کے اختتام پر پورے ملک کے منتخب کونسلرز کے نمائندوں کی حتمی تجاویز اور سفارشات تیار کرکے حکومت سندھ کو پیش کی جائیں گی۔

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ورکشاپ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جنکی فائنل سفارشات کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترامیم کے ذریعے عوام کی خدمت کو مزید بہتر بنانے اور ان کے مسائل گراس روٹ پر حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس اہم ورکشاپ کی کامیابی کا سہرا لوکل کونسل ایسوسی ایشن سندھ کے صدر کمیل حیدر شاہ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے جن کی شبانہ روز اور انتھک کاوشوں کے نتیجے میں اس اہم ورکشاپ کا انعقاد اور اہم لوگوں کی شرکت ممکن ہوئی۔

وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ سندھ حکومت ورکشاپ مقصد کی پوری حمایت کرتی ے اور حتمی سفارشات اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریگی اور انھیں ترمیمی ایکٹ میں شامل کرنے کی ہر ممکنا کوشش کریگی۔ انھوں نے کہا کہ سابق ناظم نعمت اللہ خان ہمارا حصہ رہے ہیں۔ 2001 تا 2005 تک کے دور میں واٹر بورڈ، کے ایم سی اور کے ڈی اے کے پاس خزانے میں اربوں روپے تھے جبکہ ان کے بعد 2006 سے 2009 کے دوران تمام اداروں کا خزانہ خالی ہوگیا اور ادارے مقروض ہوگئے۔

وہ تمام رقوم کہاں گئیں۔ کون کھا گیا۔ سندھ حکومت کے ایم سی کو ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ماہانہ 45 کروڑ روپے ادا کرتی ہے۔ گزشتہ دور میں رفاعی، فلاحی اور کھیل کے میدانوں پر چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضے کرائے گئے۔ مقامی حکومت کو جو مینڈیٹ ملا ہے اسے پورا تو کرنے دیا جاتا۔ ملک میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پی پی کی حکومت منتخب کونسلرز کو اپنی معیاد پورا کرنے کا موقعہ فراہم کررہی ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی معیاد پورا کریں۔ سندھ حکومت کی پوری پوری کوشش ہے کہ وقت پر الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ مردم شماری اور حدود بندی کے ھوالے سے بھی مسائل ہیں۔ نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں اور حدود کے حوالے سے کام ہونا ہے۔ ہم لوکل گورنمنٹ کو مزید بااختیار، مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ لوکل کونسل ایسوسی ایشن اسلام آباد و پنجاب کے چیف ایگزیکو افسر انور حسین نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔