ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے وارنٹ جاری کردیئے

انٹرپول سے صدر ٹرمپ کو گرفتار کرنے کے لیے”ریڈ نوٹس“ جاری کرنے کی درخواست

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 12:04

ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے وارنٹ جاری کردیئے
تہران/جدہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون۔2020ء) ایران نے جنرل سلیمانی قتل کیس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انٹرپول سے گرفتاری میں مدد کی درخواست کردی ہے. ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ متعدد دیگر افراد کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں اگرچہ ان وارنٹس سے صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا کوئی خطرہ نہیں لیکن اس اقدام سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے.

(جاری ہے)

تہران کے پراسیکیوٹر علی القاسم نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور دیگر 30 افراد کو ایران نے رواں سال جنوری میں عراقی دارالحکومت بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا ہے ان افراد کو ”قتل اور دہشت گردی“کے الزامات کا سامنا کرنا ہو گا. علی القاسم نے صدر ٹرمپ کے علاوہ کسی اور شخص کا نام نہیں لیا ان کا کہنا تھا کہ ایران صدر ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا‘انہوں نے بتایا کہ ایران نے انٹرپول سے صدر ٹرمپ کو گرفتار کرنے کے لیے”ریڈ نوٹس“ جاری کرنے کی درخواست کی ہے البتہ اس معاملے پر انٹرپول کا کوئی مو قف سامنے نہیں آیا ہے.

عام طور پر انٹرپول کو اس طرح کی درخواست موصول ہونے کے بعد انٹرپول کی کمیٹی میں اس بات کا فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کے ارکان ملکوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے یا نہیں البتہ اس بات کا امکان کم ہے کہ انٹرپول ایران کی درخواست منظور کرتے ہوئے کوئی نوٹس جاری کرے گا کیوں کہ انٹرپول کے قوائد میں درج ہے کہ وہ سیاسی طرز کے معاملات میں نوٹس جاری نہیں کر سکتا.

خیال رہے کہ قاسیم سلیمانی ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے جنہیں رواں سال امریکہ نے عراق میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا‘ادھر امریکا کے ایرنی امور پر خصوصی مندوب برائن ہک نے سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات کی ہے‘ملاقات کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال اور خطے میں سلامتی اورامن کے تحفظ کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا.

سعودی نائب وزیر دفاع نے اس ملاقات کے دوران زور دے کر کہا کہ سعودی عرب خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے قیام کے لیے امریکہ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہا ہے خطے میں ایران کی تمام مذموم سرگرمیوں، بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکا کی انتھک کوشش کی حمایت کرتا ہے. دونوں را نماﺅں نے ملاقات میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون کے ذریعے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں پر بھی تبادلہ خیال کیا سعودی نائب وزیر دفاع نے کہا کہ یمن کے حوثی باغی ایرانی اسلحہ سے سعودی عرب کے عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں سعودی عرب کی مسلح محکمہ دفاع نے ایران کے متعدد ڈرون طیارے اور بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں.

قبل ازیں برائن ہک نے متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا اور اماراتی وزیر برائے خارجہ امور و عالمی تعاون شیخ عبداللہ بن زید النہیان، وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹرانور غرغاش اور ابوظہبی کے انتظامی امور سے متعلق ادارے کے سربراہ خلدون خلیفہ المبارک سے ملاقاتیں کیں. اس دوران ایران پر اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی میں توسیع پر تبادلہ خیال ہوا جس کی مدت 18 اکتوبر 2020 کو ختم ہو رہی ہے امریکا کے خصوصی نمائندے نے امارات کے حکام کو پابندی میں توسیع سے متعلق سفارتی کوششوں کے بارے میں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا اور پابندی میں توسیع نہ ہونے پر خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کے خدشے پر بات چیت کی.