منی لانڈرنگ کیس ‘شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 28ستمبر تک توسیع ،آئندہ سماعت پر وکلا ء کو دلائل مکمل کرنے کا حکم

ریفرنس دائر ہوچکا ہے ، شہباز شریف کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے، چہہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جیتنے کیلئے شہباز شریف کو جیل بھیجا جائے گا‘وکیل امجد پرویز نیب نے کہا کہ بے نامی اثاثے میرے ہیں، کہا گیا کہ میرے بچوں کے اثاثہ جات میرے ہیںمیرے اوپر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں‘شہبازشریف شہباز شریف کے خلاف کتنے گواہ ہیں‘عدالت کا استفسار / ٹی وی پر شہزاد اکبر نے کہاکہ 100سے زیادہ گواہ ہو جائیں گے،منی لانڈرنگ کیس میں کسی وعدہ معاف گواہ نے شہباز شریف کے بارے میں کوئی بات نہیں کی‘وکیل امجد پرویز

جمعرات ستمبر 15:47

اہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) لاہورہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 28ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکلا کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر نے شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت مسلم لیگ (ن)کے صدر کی طرف سے ان کے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب)کی طرف سے فیصل بخاری اور عثمان راشد چیمہ دلائل کے لیے موجود تھے۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے پھر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک چلاتے ہیں، شہزاد اکبر ڈھٹائی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مذکورہ معاملہ میں ریفرنس دائر ہوچکا ہے، شہباز شریف کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے، تاہم وزرا کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف کیس کو مثال بنائیں گے، وہ کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف آج یا کل جیل جائیں گے، عدالت وزرا کے ان بیانات کا نوٹس لے۔وکیل کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے پر پہلے ہی شہباز شریف کا ریمانڈ دینے سے انکار کرچکی ہے، ساتھ ہی ان کا یہ موقف تھا کہ نیب نے بدنیتی پر مبنی منی لانڈرنگ کا کیس بنایا ہے اور ایک ہی معاملے پر بار بار گرفتاری قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے شہباز شریف کو جون میں طلب کیا تھا لیکن ان کے وارنٹ گرفتاری مئی میں ہی جاری کردیے گئے تھے جبکہ مواد کے بغیر کیسے شہباز شریف کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے خلا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔

ان کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر ہی شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرایا تاہم لاہور ہائیکورٹ نے بدنیتی کو بھانپتے ہوئے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا، شہباز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے اور خود واپس آئے۔اس موقع پر عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے بولنے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میں نے ٹی وی پر خبر دیکھی کہ آخری پرواز پاکستان جارہی ہے، میرے دوست نے کہا کہ ٹکٹ مل جائے گی، جس پر میں نے دوست کو کہا کہ ٹکٹ کا معاملہ خفیہ رکھنا یہ نا ہو کہ حکومت پرواز ہی معطل کردے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں خود کو حکام کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن)کے صدر کی بات کے ساتھ ہی ان کے وکیل امجد پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف 2018 سے نیب کے کیسز بھگت رہے ہیں، اگر عبوری ضمانت کا ریلیف غلط ملے تو اس کی درستی ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزا کی صورت میں ہو جاتی ہے لیکن اگر ضمانت خارج ہو اور حراست میں لیے لیا جائے اور بعد میں بریت ہو تو اسکا تدارک نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اس وقت اپوزیشن لیڈر ہیں، آواز کو دبانے کے لیے دنیا کی تاریخ غداری کے مقدمات سے بھری پڑی ہے، شہباز شریف نے آج تک کوئی ریکارڈ ادھر سے ادھر نہیں کیا، وہ پہلے ہی تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کرچکے ہیں۔شہباز شریف کے وکیل کی بات مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی سماعت میں 30 منٹ کا وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے کہ جب تک جرم ثابت نہیں ہو جاتا ملزم بے گناہ ہے اور ان کے موکل شہباز شریف ٹرائل جوائن کر چکے ہیں لہذا اس اسٹیج پر ان کی گرفتاری نہیں بنتی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو جرم کے بغیر جیل میں رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اگر شہباز شریف کو ضمانت ملتی ہے تو نیب کے کیس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو ریفرنس کی کاپی بھی مل چکی ہے۔دوران سماعت شہباز شریف کے دوسرے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہورہا ہے، شہباز شریف 30سال سے زائد عرصے سے سیاست میں ہیں جبکہ اس وقت ان کے پاس ایک آئینی عہدہ ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ نیب نے شہباز شریف کو جتنے نوٹسز جاری کیے ان کے تحریری جواب بھی دیے گئے، شہباز شریف تعاون بھی کر رہے ہیں، انویسٹی گیشن رپورٹ اور ریفرنس بھی مکمل ہے پھر گرفتاری کا کوئی جواز نہیں۔

شہبازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ چہہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لیے شہباز شریف کو جیل بھیجا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتیں شہباز شریف سے ملتے جلتے کیسز میں میں ضمانت منظور کر چکی ہیں، ساتھ ہی دلائل میں انہوں نے یہ کہا کہ جب ریفرنس فائل ہو چکا ہے تو اس اسٹیج پر ہمیں کیس کے میرٹس پر بات نہیں کرنی چاہیے۔

وکیل کی اس بات پر جسٹس سردار احمد نعیم کا کہنا تھا کہ آپ کی مرضی ہے کہ کریں یا نہ کریں، جس پر ایک مرتبہ پھر شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ میرے اوپر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں، نیب نے کہا کہ یہ بے نامی اثاثے میرے ہیں، مجھ پر بہت بھاری الزامات لگائے گئے، کہا گیا کہ میرے بچوں کے اثاثہ جات میرے ہیں، بطور وزیر اعلی کرپشن کی یہ الزامات ہیں۔

اس پر عدالت نے کہا کہ یہ درخواست آپ کی مرضی سے دائر ہوئی، اگر کوئی بات رہ جائے تو آپ دلائل مکمل ہونے پر کر لیں، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں کچھ دستاویزات عدالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ کے وکیل اگر کچھ عدالت میں پیش نہ کر سکیں تو وہ آپ کر دیں۔بعد ازاں وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب تفتیش میں سیاسی مداخلت ہو رہی ہے، شہزاد اکبر جو کہتے ہیں ایک ہفتے بعد اس پر عمل ہو جاتا ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا شہباز شریف کے خلاف کتنے گواہ ہیں۔ جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ٹی وی پر شہزاد اکبر نے کہاکہ 100سے زیادہ گواہ ہو جائیں گے،منی لانڈرنگ کیس میں کسی وعدہ معاف گواہ نے شہباز شریف کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، نیب کے مطابق شریف گروپ کا چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او)اکانٹس کے سارے معاملات دیکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ سی ایف او محمد عثمان کی ریمانڈ کی درخواست میں بھی شہباز شریف کے بارے میں ایک لفظ نہیں ہے، نیب کے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کے اختیارات سے تجاوز کے بارے میں بھی ایک لفظ موجود نہیں جبکہ نیب 56 کمپنیوں کے کیس میں بھی ایک ریفرنس عدالت میں دائر نہیں کرسکا۔

اس موقع پر شہباز شریف کے وکیل نے مریم نواز کی ضمانت سے متعلق بھی عدالت کے سامنے حوالے پیش کیے۔ساتھ ہی شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کا وقت ختم ہو رہا ہے، اس کیس کو ملتوی کردیا جائے، اگلی سماعت پر دلائل مکمل کردیں گے۔اس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ کو دلائل مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت چاہیے، جس پر وکیل نے کہا کہ جلد مکمل کرلیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے وکیل کی بات کے بعد شہباز شریف کی ضمانت میں 28ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے وکلا کو اس روز تک دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔قبل ازیں جب شہباز شریف پیشی کیلئے لاہور ہائیکورٹ پہنچے تو پولیس کمانڈوز نے احاطہ عدالت کو گھیرے میں لئے رکھا۔ متعدد لیگی رہنما شہباز شریف سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کمرہ عدالت میں پہنچے جن میں امیر مقام، شائستہ پرویز ملک، عظمی بخاری، رانا ارشد، احمد پرویز، ملک احمد خان اور دیگر شامل تھے۔

عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل شہباز شریف اپنے وکلا سے مشاورت کرتے رہے جبکہ اعظم نزیر تارڑ اور عطااللہ تارڑ انہیں کیس سے متعلق بریفنگ دیتے رہے۔ لیگی کارکنان اس موقع پر عدالت کے باہر نعرے بازی کرتے رہے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس کی بھاری نفری لاہور ہائیکورٹ کے باہر بھی موجود تھی جبکہ واٹر کینن بھی منگوائے گئے تھے۔ حکام نے غیر متعلقہ افراد کے عدالت آنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔