آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نیب گردی شروع ہوگئی ہے،رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی

مولانا فضل الرحمان کے ایک ساتھی کو گرفتار کیا گیا ہے، شہباز شریف کی گرفتاری کی باتیں ہو رہی ہیں ،تحریک انصاف کا ہلا گلا گروپ ایک طرف محب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ تقسیم دوسری طرف اپوزیشن کی محب الوطنی کو چیلنج کر رہا ہے سپیکر قومی اسمبلی پی ٹی آئی کے ورکر بن کر قانون سازی کروا رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز کو بات نہیں کرنے دیتے _آرمی چیف سے قومی سلامتی کے معاملات پر ملاقات ہوئی ، قومی سلامتی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،ایک وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی ہدایت پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قومی سلامتی کے حوالے سے بات کی ،اے پی سی کی گونج اور خوف حکومت کے چہروں پر عیاں ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور پلوشہ خان کی مشترکہ پریس کانفرنس

جمعرات ستمبر 20:52

آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نیب گردی شروع ہوگئی ہے،رہنماء پاکستان پیپلز ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنمائوں نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نیب گردی شروع ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے ایک ساتھی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری کی باتیں ہو رہی ہیں، پاکستان تحریک انصاف کا ہلا گلا گروپ ایک طرف محب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کر رہا ہے دوسری طرف اپوزیشن کی محب الوطنی کو چیلنج کر رہا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی پی ٹی آئی کے ورکر بن کر قانون سازی کروا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کو بات نہیں کرنے دیتے۔آرمی چیف سے قومی سلامتی کے معاملات پر ملاقات ہوئی ہے جس میں قومی سلامتی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ایک وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی ہدایت پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قومی سلامتی کے حوالے سے بات کی ہے۔

(جاری ہے)

آل پارٹیز کانفرنس کی گونج اور خوف حکومت کے چہروں پر عیاں ہے، کہتے تھے کہ نواز شریف اور آصف علی زداری کی تقریر نشر نہیں ہونے دیں گے لیکن ان کی تقریر پورے ملک نے دیکھی ہے۔

میاں رضا ربانی کے دور میں سیکیورٹی ایجنسی کے لوگ پارلیمنٹ میں آکر بریفنگ دیتے تھے ہم ایسا ہی نظام چاہتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں سیویلین بالا دستی چاہتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآڈی نیٹر نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ 20ستمبر کو ایک تاریخ رقم ہوئی ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے بعد جو حکومت کی طرف سے جو ردعمل آیا ہے اس سے اپوزیشن کے اعلامیے کی توسیع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نیب گردی میں تیزی آ گئی ہے اور نیب سیاسی انجنئیرنگ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ شہباز شریف کی گرفتاری کی باتیں ہو رہی ہیں اور آصف علی زرداری پر فردجرم عائد کیا جائے گا جو انہوں نے کہا پی ٹی آئی کا ہلا گلا گروپ محب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کر رہا ہے جبکہ اپوزیشن کی محب الوطنی کو چیلنج کر رہا ہے۔

اے پی سی کے اعلامیے میں 1973کے آئین کے مطابق سویلین بالادستی، آئین کی حکمرانی، کمر توڑ مہنگائی، سپیکر قومی اسمبلی پی ٹی آئی کے ورکر بن کر قانون سازی کر رہے ہیں اور اپوزیشن کے لیڈروں کو بات نہیں کرنے دیتے ، عدلیہ کی آزادی، الیکشن اصلاحات، آزاد خارجہ پالیسی، سقوط کشمیر اور احتساب بلاتفریق ہونا چاہیے کا ذکرہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی قومی سلامتی کے ایشو پر اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے تو وزیراعظم چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں، آرمی چیف سے اپوزیشن کے رہنمائوں کی ملاقات نیشنل سیکیورٹی کے ایشو کے حوالے سے ہوئی تھی جس میں ان کو گلگت بلتستان کی سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جس میں گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن کی بات ہوئی۔

کہا گیا کہ اصلاحات آنے والی اسمبلی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اس ملک کو آئین دیا اس ملک کیلئے قربانیاں دیں ۔ فاٹا اور گلگت بلتستان کی بات پیپلزپارٹی نے کی۔ 2018کے منشور میں یہ چیزیں شامل ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس عوام کی خواہش کے مطابق ہوئی اوروہاں عوام کے حقوق کی بات کی گئی۔ جب تک اے پی سی کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوتا تب تک آگے بڑھتے رہیں گے۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ میاں رضا ربانی کے دور میں 2008سے لے کر 2013تک سیکیورٹی ایجنسیز کے لوگ پارلیمنٹ میں آتے تھے اور بریفنگ دیتے تھے ہم ایسا ہی نظام چاہتے ہیں۔ آرمی چیف سے جو ملاقات ہوئی اس میں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف بھی تھے وہ ملاقات صرف سیکیورٹی کے معاملات پر تھی۔ پلوشہ خان نے کہا کہ وفاقی وزیر ریلوے نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قومی سلامتی کے حوالے سے بات کی ہے۔

اور یہ قومی سلامتی کا ایشو دشمن ملکوں تک انہوں نے پہنچا دیا ہے۔ یہ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اگر کسی اپوزیشن کی جماعت سے کسی نے کہا ہوتاتو وہ آرٹیکل 6میں گرفتار ہوتا ۔ اس سے قومی سلامتی کو دھچکا لگا ہے۔ان کو سات خون معاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی صورتحال یہ ہے کہ وہ تلاش گمشدہ ہیں۔ بھارت دراندازی کرتاہے تو وہ غائب ہوجاتے ہیں لیکن اپوزیشن اس حوالے سے بات کرتی ہے۔ وزیراعظم کو جرات نہیں کہ وہ اگلے مورچوں پر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی گونج حکومتی وزراء کے چہروں پر عیاں ہے۔ کہتے تھے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی تقریرنشر نہیں ہونے دیں گے لیکن تقریر نشر ہوئی اور سارے ملک نے دیکھی۔