سندہ کے جزائر سندہ کی عوام کے ہیں،سعید غنی

ماضی میں بہت سے حکمران آئے وہ کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی تھیں، کالا باغ ڈیم پر سندہ کی عوام ایک آواز بن کر متفق ہوکر مذاہمت کی تب جاکر حکمران ناکام ہوئے، وزیر تعلیم

جمعہ اکتوبر 19:23

سندہ کے جزائر سندہ کی عوام کے ہیں،سعید غنی
جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اکتوبر2020ء) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ماضی میں بہت سے حکمران آئے وہ کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی تھیں، کالا باغ ڈیم پر سندہ کی عوام ایک آواز بن کر متفق ہوکر مذاہمت کی تب جاکر حکمران ناکام ہوئے۔ سندھ کے جزائر سندہ کی عوام کے ہیںاور تمام سیاسی جماعتیں اور سندہ کی عوام اس پر آج ایک آواز بنے ہوئے ہیں۔

کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر سندہ حکومت کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا علم نہیں تھا۔ ڈاکٹر شہباز گل کے منہ سے ہمیشہ سے جھوٹ نکلتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کے روز جیکب آباد میں صوبائی مشیر جیل خانہ جات میر اعجاز حسین جاکھرانی سے والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے بہت سے حکمران تھے جن میں کوئی کالا باغ ڈیم بنانا چاہتا تھا کوئی اور کام کرنا چاہتا تھا، لیکن جب سارے سندھ کے لوگ ایک طرف ہوئے اور متفق ہوئے اور انہوں نے احتجاج کیا تو اس ملک کہ وہ تمام سابق حکمران ناکام ہوئے۔

انہوںنے کہا کہ اس وقت جزائز کے معاملہ پر بھی تمام سیاسی جماعتیں جو صوبہ سندھ کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں وہ ایک آواز ہیں، ساری سیاسی جماعتیں ایک موقف پر کھڑی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وفاقی حکومت جو اتنی کمزور ہے، نالائق ہے اور نااہل ہے اس کو یہ ہمت ہو کہ سندھ کے لوگوں کی مرضی اور خواہشات کے خلاف صوبہ سندھ کی زمین اپنے قبضے میں لے لے۔

انہوںنے کہا کہ جزائر کے حوالے سے سندہ حکومت نے اسمبلی میں قرار داد پیش کی تھی جو اتفاق رائے سے منظور ہوئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس کے خلاف قراردادیں جمع کرائی گئی ہیں اور آئین میں یہ اختیار قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی ہے کہ وہ کسی بھی آرڈیننس کو مسترد کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مجھے سینیٹ سے تو سو فیصد یقین ہے کہ یہ آرڈیننس وہاں سے بھی مسترد ہوجائے گا ۔

انہوںنے کہا کہ یہ سارے آئینی اور قانونی تقاضے ایک طرف لیکن اگر صوبہ سندھ کے لوگ ایک واضح موقف کے ساتھ کھڑے ہوں تو کوئی طاقت صوبہ سندھ میں زبردستی کوئی فیصلہ مسلط نہیں کراسکتی۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران نیازی کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ آئی جی سندھ کے حوالے سے وزراء کی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن گذشتہ روز ہوگیا ہے اور میں اس کا کنونئیر ہوں اور میرے ساتھ 4 اور وزراء بھی ہیں اور ہم اس پر ایک دو دن میں کام بھی شروع کردیں گے اور کوشش ہے کہ حقائق کو جمع کریں اور حقیقی صورتحال ہم وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے اس کمیٹی کی رپورٹ کی حیثیت سے پیش کریں۔

شہباز گل کے حوالے سے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ جس شخص کی آپ بات کررہے ہیں اس کے منہ سے کبھی سچ بات تو نکلتی ہی نہیں ہے اس لئے اس کا حوالہ دے کر کوئی بات سچ بات ہوسکتی ہے۔ اس کا کام اور اس کی روزی روٹی ہی یہی ہے کہ وہ سارا دن جھوٹ بولے۔ انہوںنے کہا کہ سب سے پہلے ٹوئیٹ اور چینل پر میں نے ہی صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے بات کی تھی اور یہی کہا تھا کہ ان کو سندھ پولیس نے ہی گرفتار کیا ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ سندھ پولیس کی اس گرفتاری سے سندھ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہمیں نہ اس کا علم تھا اور نہ ہی ہمارے ہاتھ سے یہ گرفتاری ہوئی ہے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے اور کوئی مجھے یہ بتادے کہ کس وزیر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ان کو کسی اور نے گرفتار کیا ہے۔ یہ سب باتیں ان کی اپنی طرف سے آرہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کیپٹن صفدر کو پولیس نے ہی گرفتار کیا تھا اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بتائے بغیر ہی کیا تھا وہ غلط تھا اور شاید دبائو میں کیا تھا ۔

انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے ممبران کی ویڈیوز بھی موجود ہیں اور ایک وفاقی وزیر کی بھی جس میں وہ آئی جی سندھ کو دھمکیاں دے رہا ہے، جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے تو تم کو اسمبلی میں بلوائوں گا، تم کو ایس او ڈی بنا دوں گا، تم وفاقی حکومت کے ملازم ہو، یہ تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں۔ انہوںنے کہا کہ دوسری جانب سندھ اسمبلی کے ایک رکن کا بھانجا جس نے یہ ایف آئی آر درج کروائی اور جو خود ایک اے ٹی سی کیس میں مفرور ہے، جو خود اس وقت مزار قائد پر موجود نہیں تھا، یہ سب چیزیں ایک سازش کا حصہ معلوم ہورہی ہیں اور جو ایف آئی آر کٹی ہے اس سے قبل حلیم عادل شیخ کے گھر پر ایک مٹینگ ہوتی ہے جس کی تصاویر ہم نے دکھائی ہیں، اسی دن کی وہ تصاویر ہیں، اسی دن جاکر انہوں نے یہ ڈرامہ کیا ہے، تو پی ٹی آئی کی جانب سے یہ ڈرامہ رچایا گیا تھا اور انہوں نے کچھ لوگوں کو استعمال کیا ہے اور یہ سن چیزیں جب رپورٹ سامنے آئے گی تو واضح ہوجائیں گی۔

#