فواد چوہدری کا بیان: پاکستان کے خلاف بھارت کو ایک اہم ہتھیار

DW ڈی ڈبلیو جمعہ اکتوبر 16:40

فواد چوہدری کا بیان: پاکستان کے خلاف بھارت کو ایک اہم ہتھیار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 اکتوبر 2020ء) بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اس بیان سے کہ'ہم نے بھارت کو گھس کر مارا ہے‘ نئی دہلی کے ان دعووں کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان، دہشت گردی اور بھارت میں دہشت گردانہ کارروائی کرنے والوں کی اعانت کرتا رہا ہے لہذاعالمی اداروں کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

بھارتی رہنماوں نے پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان پر ان کا 'شکریہ‘ ادا کیا اور مودی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس ’اعتراف‘ کا استعمال پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے کیا جائے۔

فواد چوہدری کا شکریہ!

مرکزی وزیر اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھارت کے اس دعوے کی تصدیق کردی ہے کہ 2019 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کا ہاتھ تھا۔

(جاری ہے)

اس حملے میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے 40 جوان مارے گئے تھے۔

جنرل(ریٹائرڈ) وی کے سنگھ کا کہنا تھا”میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے ان (فواد چوہدری) کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم بالکل ابتدا سے ہی یہ بات کہتے رہے ہیں کہ تمام شواہد پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا”مجھے یقین ہے کہ ہماری حکومت پاکستان کے اس اعتراف سے پوری دنیا کو آگاہ کرے گی اور بتائے گی کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ بلیک لسٹ کرنے کی ضرورت ہے اور کسی کو بھی پاکستان کو مالی امداد نہیں دینی چاہیے۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی حمایت کی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمان اور ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا”پلوامہ میں ہلاکت خیز حملے میں حکومت پاکستان کے رول کے حوالے سے ایک پاکستانی وزیر کے اعتراف نامے کا ایف اے ٹی ایف کو نوٹس لینا چاہیے، جب وہ آئندہ فروری میں دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات کا جائزہ لے۔

پاکستان کو تمام عالمی فورمز پر بلیک لسٹ کردیا جانا چاہیے۔ پاکستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک مذاق ہے!“

فواد چوہدری نے کہا کیا تھا؟

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں فواد چوہدری کو پاکستانی قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ 'ہم نے ہندوستان کو گھس کر مارا ہے، پلوامہ میں جو ہماری کامیابی ہے، وہ عمران خان کی قیادت میں اس قوم کی کامیابی ہے، اس کے حصے دار آپ سب بھی ہیں، اس کے حصے دار ہم سب بھی ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا تھا 'پلوامہ کے واقعے کے بعد جس طرح ہم نے گھس کر مارا ہے ہندوستان کو، پاکستان کی شاہینوں نے، پاکستان کی سپاہ نے، پاکستان کے ان عظیم بیٹوں نے، جس طرح ہندوستان میں گھس کی اس کی پٹائی کی، وہ تو ہندوستان کا اپنا میڈیا اس پر شرمندہ ہے۔ ہندوستان کی سیاسی قیادت اس پر شرمندہ ہے۔"

’بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہاہے‘

بھارتی پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر ایاز صادق کے پاکستانی قومی اسمبلی میں دیئے گئے بیان پرپیدا ہونے والا سیاسی ہنگامہ ابھی جاری ہی تھا کہ فواد چوہدری کے بیان نے اسے مزید بھڑکا دیا ہے۔

حالانکہ فواد چوہدری نے بعد میں بھارتی میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔

فواد چوہدری نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔”پاکستان بالکل دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا۔اور 'پلوامہ' کی اصطلاح اس پورے واقعے کے لیے عام طور پر اب استعمال ہوتی ہے اور انھوں نے بھی اسی تناظر میں اس کا ذکر کیا۔

"

فواد چودھری نے ایک دیگر نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا”بھارت کے ساتھ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کے لیے ہمارے اندر کوئی نفرت نہیں ہے۔ یہ بی جے پی ہے جو ووٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف جذبا ت کو بھڑکاتی رہتی ہے۔"

لیکن تیر نکل چکا ہے...

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری اپنے بیان کی خواہ جو بھی وضاحت کریں لیکن انہوں نے بھارت کو بہر حال ایک ہتھیار تو دے ہی دیا ہے اور بھارت اس کا استعمال بین الاقوامی فورمز پر کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گا۔

دوسری طرف حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس سے ملکی سیاست میں فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ریاست بہار میں جاری اور آنے والے دنوں میں مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اسے اپنی ایک بڑی کامیابی کے ثبوت کے طورپر پیش کرے گی۔ بی جے پی پہلے ہی عوام کو یہ باور کراتی رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو اس کی 'اوقات‘ بتادی ہے۔

نئی دہلی میں تھنک ٹینک سینٹر فار جوائنٹ وار فیئر اسٹڈیز کے ڈائریکٹر لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ونود بھاٹیا کہتے ہیں کہ 'پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں پاکستان کا یہ اعتراف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ انہوں نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور ایک وفاقی وزیر نے اسے عمران خان حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا ہے۔

" جنرل بھاٹیا کا کہنا تھا کہ”بھارت کو اور دنیا کو پاکستان کے اعتراف کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دینی چاہیے۔ اسے پلوامہ حملے کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔“

اپوزیشن بھی زد میں

فواد چوہدری کے بیان نے حکمراں بی جے پی کو اپوزیشن پارٹیوں پر بھی حملے کا موقع فراہم کردیا ہے، جو پلوامہ حملے کے سلسلے میں مودی حکومت پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔

اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا”پاکستان نے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔ اب کانگریس اور دیگر جماعتوں کو، جو اس کے بارے میں سازشی نظریات کی بات کرتی تھیں، ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔"

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھارت میں عام انتخابات سے چند ماہ قبل ہونے والے پلوامہ حملے پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے تھے۔

پلوامہ حملے کے جواب میں پاکستان کے بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی کارروائی کو کانگریس پارٹی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان 'میچ فکسنگ‘ کہا تھا۔ 2019میں فروری میں ہوئے پلوامہ حملے کے بعداپریل میں عام انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی واضح اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔