مبشر لقمان کو شرم آنی چاہئیے اور انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے

اسرائیل اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی حمایت کرنے پر وفاقی وزیر علی محمد خان نے اینکر پرسن مبشر لقمان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ 25 نومبر 2020 11:09

مبشر لقمان کو شرم آنی چاہئیے اور انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 نومبر 2020ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی محمد خان صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر برس پڑے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں مبشر لقمان کا اسرائیلی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو کا کلپ چلایا گیا تو علی محمد خان نے کہا کہ مبشر لقمان کو شرم آنی چاہئیے اور انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح کی انہوں نے گفتگو کی ہے انہیں پاکستان میں کسی کو اپنا منہ نہیں دکھانا چاہئیے۔ میں ان کی عزت کرتا تھا۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اسرائیل ایک بہت اچھا ملک ہے، وہاں جو روز اسرائیلی ٹینکوں کے نیچے فلسطینیوں کے سر کُچلے جاتے ہیں، ہمارا بیت المقدس اُن کے قبضے میں ہے تو یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

علی محمد خان نے کہا کہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میرے وزیراعظم نے وہ بات کی جو ہر پاکستانی اور پر مسلمان کے دل کی آواز ہے ، وہ یہ کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا تب تک ہم اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ میرے لیے وزیراعظم سے زیادہ قائد اعظم کی بات کی اہمیت ہے ، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اُن کے دل کے بہت قریب تھا، انہوں نے آن ریکارڈ یہ بات کی تھی کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے۔

جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اور جب تک بیت المقدس سے قبضہ نہیں چُھڑوایا جاتا، پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں: یاد رہے کہ سرائیلی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے سینئیر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا تھا کہ پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہئیے۔

مبشر لقمان نے کہا تھا کہ میں پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر بھی تھا، اور میں اُن لوگوں میں سے ہوں جن کا خیال ہے کہ پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ میرا ماننا تھا کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اور ہمیں پہلے پاکستان کا سوچنا چاہئیے۔ میرا یہ بھی ماننا تھا کہ ہمیں آپس میں سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ ان بیانات پر مبشر لقمان کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں: