چیئرمین نیب اور شہزاد اکبر سمیت براڈ شیٹ معاملے میں ملوث ہر شخص کو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا‘جاوید لطیف

سیاسی مقاصد کے لئے پاکستانی عوام کا پیسہ خرچ نہیں کرنے دیںگے ، اس کیس کو ایسے جانے نہیں دیںگے

جمعہ جنوری 14:29

چیئرمین نیب اور شہزاد اکبر سمیت براڈ شیٹ معاملے میں ملوث ہر شخص کو قائمہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2021ء) قومی اسمبلی میں اطلاعات ونشریات سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے جسٹس(ر)عظمت سعید کی سربراہی میںقائم کی جانے والی حکومتی تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ چیئرمین نیب اور شہزاد اکبر سمیت براڈ شیٹ معاملے میں ملوث ہر شخص کو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا،قائمہ کمیٹی کسی فرد کو طلب نہیں کررہی ہم چیئرمین نیب کو بطور ادارے کے سربراہ اس معاملے پر اپنی سہولت اور معلومات کیلئے بلا رہے ہیں،جنہیں شہزاد اکبر سمیت آنا پڑے گا اور اگر یہ مسئلہ یہاں حل نہ ہوا تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارقومی اسمبلی میں اطلاعات ونشریات سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شبلی فراز موجود تھے ،شبلی فراز نے اس بات سے اتفاق کیا کہ چیئرمین نیب کو بلایا جاسکتا ہے، ناجانے شبلی فراز کس دبا ئو پر دوسری اسٹیٹمنٹ دے رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ فرخ حبیب باہر جاتے ہیں آکر کہتے ہیں میں اختلافی نوٹ دوں گا ان کو نہیں بلانا چاہیے،بعد میں شبلی فراز نے کہا یہ کمیٹی کی ڈومین نہیں ہے، اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا یہ کام ہوتا ہے کسی ادارے میں غلط کام ہورہا ہو تو اسے روکا جائے، ابھی تک اس ادارے کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آئی، پانچ سے سات ارب روپے انھوں نے براڈ شیٹ کو دے دیا، دال میں کچھ کالا ہے، ہم چیئرمین نیب سے معلومات لینا چاہتے تھے۔

انہوںنے کہاکہ جسٹس (ر)شیخ عظمت سعید کو چیئرمین لگایا گیا ہے،وہ شوکت خانم بورڈ آف گورنر کے ممبر بھی ہیں،نواز شریف کے خلاف پانامہ فیصلے میں بھی شامل تھے،قوم کے اربوں روپے جانے کے موجد بھی عظمت سعید ہیں۔انہوںنے کہاکہ سیاسی مقاصد کے لئے پاکستانی عوام کا پیسا آپ کو خرچ نہیں کرنے دیںگے ، اس کیس کو ہم ایسے جانے نہیں دیںگے ،ہم تو چیئر اور ادارے کو ایڈریس کررہے ہیں، قوم کے اربوں روپے کا ذمہ دار کون ہے ،ہم نے نہیں کہا کہ شبلی فراز نہیں چاہتے تو چیئرمین نیب کو نہیں بلاتے،جو باتیں میں نے کی ہیں اس کے بعد عظمت سعید کو اس عہدے پر نہیں آنا چاہیے،کمیٹی شہزاد اکبر کو بھی بلائے گی،ہم ادارے سے بات کررہے ہیں ،چیئرمین نیب کو ہر صورت بلائے گے، ادارے کا چیئرمین تمام معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

شبلی فراز فون کے بعد دبا ئو میں آئے تھے تو میں نے کہا کہ آپ چیئر کریں۔انہوںنے کہاکہ چیئرمین نیب اور شہزاد اکبر دونوں سمیت براڈ شیٹ معاملے میں ملوث ہر شخص کو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔قائمہ کمیٹی کسی فرد کو طلب نہیں کررہی ہم چیئرمین نیب کو بطور ادارے کے سربراہ اس معاملے پر اپنی سہولت اور معلومات کیلئے بلا رہے ہیں،جنہیں شہزاد اکبر سمیت آنا پڑے گا اور اگر یہ مسئلہ یہاں حل نہ ہوا تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔

انہوںنے اس تاثر کی تردید کی کہ نیب زدگان چیئرمین نیب کو کمیٹی میں بلا کر دبا میں لانا چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ میں وفاقی وزیر اطلاعات کو یہ پیشکش دے چکا ہوں کہ دوران تفتیش میں چیئرمین کی نشست پر نہیں بیٹھوں گا۔